شاعری

رنگ خوابیدہ میں جادو کے علاوہ تم ہو

رنگ خوابیدہ میں جادو کے علاوہ تم ہو دل میں رکھی ہوئی خوشبو کے علاوہ تم ہو دور تک پھیلی ہوئی راہ مجھے کھینچتی ہے اور اس راہ پہ جگنو کے علاوہ تم ہو میری آنکھوں سے نہیں دل سے نمو پاتی ہوئی شاخ احساس من و تو کے علاوہ تم ہو سرمئی دھوپ ہے دریا ہے کنارے ہیں میاں موج در موج اس آنسو کے ...

مزید پڑھیے

ملے شوقین باتیں ہو رہی ہیں

ملے شوقین باتیں ہو رہی ہیں بڑی رنگین باتیں ہو رہی ہیں مرے زخموں کو شاید پڑھ لیا ہے تبھی نمکین باتیں ہو رہی ہیں اسے بولو کہ پردے میں رہے وہ کرو تلقین باتیں ہو رہی ہیں وہاں دو چار باتیں اور کر لیں جہاں دو تین باتیں ہو رہی ہیں میاں زخموں کا عقدہ کھل رہا ہے کرو تدفین باتیں ہو رہی ...

مزید پڑھیے

اک نگاہ بے رخی سے غرق ہوتے ذائقے

اک نگاہ بے رخی سے غرق ہوتے ذائقے لو چکھو تحلیل غرب و شرق ہوتے ذائقے تب سمجھ میں آ بھی جاتے ان کی دوری کے سبب جب زمین و آسماں کے فرق ہوتے ذائقے تو سمجھ سکتا نہیں ہے عشق کی معراج کو تو نے چکھے ہی نہیں ہیں برق ہوتے ذائقے عمر گزری پر نہ سمجھا ذائقوں کے فرق کو زرق لگتے ذائقے تھے برق ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو رنگ گر مرے تل کے

دیکھ لو رنگ گر مرے تل کے بھول جاؤ گے رنگ جھلمل کے اک غزل کیا سنا دی محفل میں با خدا رہ گئے سبھی ہل کے تو مقلد تھا عقل والوں کا تو نہ سمجھا معاملے دل کے کوئی مقصد نہیں ہے ملنے کا اچھا لگتا ہے آپ سے مل کے گل بدن کب تو ان کو توڑے گا پھول تھکنے لگے ہیں کھل کھل کے زخم کب اس قدر نمایاں ...

مزید پڑھیے

نظر میں رنگ لہو میں سرور بھرتا جا

نظر میں رنگ لہو میں سرور بھرتا جا گزرنے والے مرے دل سے بھی گزرتا جا اک ایک لاش پہ رک کر درود پڑھ دل سے جنازہ گاہ محبت پہ بین کرتا جا یہ رت پلٹ کے نہ آئے گی باغ ہستی میں سمٹ رہی ہے وہ خوشبو سو تو بکھرتا جا گل خیال کو مہکا مگر کوئی لمحے کسی کلی میں اداسی کا رنگ بھرتا جا وصال و ہجر ...

مزید پڑھیے

طرح طرح سے وضاحت کی بات کی اس نے

طرح طرح سے وضاحت کی بات کی اس نے گھما پھرا کے محبت کی بات کی اس نے ہواؤں سے بھی کہا خواب دیکھنے کے لیے چراغ سے بھی سہولت کی بات کی اس نے فسردگی کو فسانے کا روپ دیتے ہوئے حکایتوں سے حقیقت کی بات کی اس نے مجھے گواہ ضرورت ہے اس عدالت میں کبھی کسی سے نیابت کی بات کی اس نے وہ یوں جو ...

مزید پڑھیے

ہمارے پاس کئی اور زاویے بھی ہیں

ہمارے پاس کئی اور زاویے بھی ہیں ہم اپنی آنکھ سے دنیا کو دیکھتے بھی ہیں چلو کہ فیصلہ کر لیں ہم آج آپس میں یہاں پہ سنگ بھی موجود آئنے بھی ہیں یہ لوگ سیر کو نکلے ہوئے ہیں ان سے ڈرو کبھی کبھی تو یہ پھولوں کو روندتے بھی ہیں ابھی سے خواب کشش بھر رہے ہیں آنکھوں میں ابھی تو عشق میں ہم تم ...

مزید پڑھیے

آج دیوانے کو بے وجہ ستایا جائے

آج دیوانے کو بے وجہ ستایا جائے پھول تازہ کوئی بالوں میں لگایا جائے میں سر عام پڑھوں کوئی غزل لوگوں میں ان کی جانب ہی فقط میرا اشارہ جائے پاس ہیں وہ دل بیمار دعا گو ہے عجب درد جائے نہ مرا نہ ہی مسیحا جائے فیصلہ حسب طبیعت یہ محبت نے کیا اک طرح غم ہو سلامت غم دنیا جائے روک لیں آج ...

مزید پڑھیے

ہر پل میں تڑپ کر دم آخر ہوا جاتا ہوں

ہر پل میں تڑپ کر دم آخر ہوا جاتا ہوں عاشق تھا میں پوشیدہ ظاہر ہوا جاتا ہوں اس عمر جہالت میں دل خانۂ کعبہ تھا اب علم و ہنر پا کر کافر ہوا جاتا ہوں یہ کیسے بھلا کہہ دوں بخشا نہیں کچھ اس نے ہر سانس پہ میں اس کا شاکر ہوا جاتا ہوں اک بار کیا میں نے بس پیار اناڑی سا ہاں پیار کو لکھ لکھ ...

مزید پڑھیے

چاند نکلے نہ کہیں یار پرانے نکلے

چاند نکلے نہ کہیں یار پرانے نکلے کوئی کمبخت مرا دل تو جلانے نکلے غم نازک کو تبسم نے کیا پردہ نشیں اشک دشمن کی طرح راز بتانے نکلے میں تو بس سرد ہوا کھانے کو چھت پر آیا وہ بھی سوکھے ہوئے کپڑوں کو اٹھانے نکلے اس کا غم تھا کہ مرے دل پہ سلیماں کی مہر اشک نکلے کہ یہ موتی کے خزانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 871 سے 4657