شاعری

موسم گل نہ بہاروں کا سخن یاد آئے

موسم گل نہ بہاروں کا سخن یاد آئے مجھ کو اے ماہ ترے رخ کی پھبن یاد آئے سیر گلشن کے لیے وہ نہ کہیں نکلے ہوں کس لیے آج مجھے سرو و سمن یاد آئے جب شفق دیکھوں تو یاد آتے ہیں عارض اس کے چاند کو دیکھتے ہی اس کا بدن یاد آئے بجھ گیا دل بھی مرے گھر کے چراغوں کی طرح خاک ایسے میں کوئی غنچہ دہن ...

مزید پڑھیے

سنی نہ دشت یا دریا کی بھی کبھی میں نے

سنی نہ دشت یا دریا کی بھی کبھی میں نے کہ بے خودی میں گزاری ہے زندگی میں نے بتائی موت کے سائے میں زندگی اپنی بنا ہی زہر کے کر لی ہے خودکشی میں نے ندی ہو تال سمندر یا دشت ہو کوئی سبھی کے لب پہ ہی دیکھی ہے تشنگی میں نے کبھی تو میرا کہا مان زندگی میری تری خوشی میں ہی پائی ہے ہر خوشی ...

مزید پڑھیے

لیلیٰ کا اگر مجھ کو کردار ملا ہوتا

لیلیٰ کا اگر مجھ کو کردار ملا ہوتا مجنوں سا کہانی کو آدھار ملا ہوتا صحرا میں نکل جاتا دریا بھی سرابوں سے گر کلپنا کو میری آکار ملا ہوتا پل بھر کی محبت میں جاں تک بھی میں دے دیتی افسوس نہیں ہوتا گر پیار ملا ہوتا ہوتی نہ مہابھارت یا کوئی بغاوت پھر حق دار کو جو اس کا ادھیکار ملا ...

مزید پڑھیے

دیکھ تاریخ کے خزانے میں

دیکھ تاریخ کے خزانے میں ہے مرا ذکر ہر زمانے میں یوں بھی عمریں قلیل ہوتی ہیں کیوں گنواتے ہو آزمانے میں اس کی قسطیں چکانی پڑتی ہیں کچھ نہیں لگتا دل لگانے میں ایک لمحے میں کھو نہ دینا اسے لگ گئی عمر جس کو پانے میں ڈال دیں گے خلوص کی چادر اور کیا ہے غریب خانے میں غم نہ کیجے کہ ہم ...

مزید پڑھیے

اس سمت تو ماحول ہے پہلے سے ہی بگڑا ہوا

اس سمت تو ماحول ہے پہلے سے ہی بگڑا ہوا اے آتشیں طوفان تیرا کیوں ادھر آنا ہوا وعدہ تھا اس کا وہ نہ آیا ہاں مگر ایسا ہوا اک پھول ساحل پر نظر آیا مجھے رکھا ہوا کس نے قدم رکھے یہاں کس کا ادھر پھیرا ہوا خوشبو سے کس کے جسم کی گھر ہے مرا مہکا ہوا اک ابر کے ٹکڑے نے میرے سر پہ کھینچا ...

مزید پڑھیے

ہم سفر اب مرے پہلو میں مرا دل نہ رہا

ہم سفر اب مرے پہلو میں مرا دل نہ رہا جس میں تو گرم سفر تھا وہی محمل نہ رہا کس کی امید پہ لڑتا پھروں طوفانوں سے منتظر اب مرا کوئی لب ساحل نہ رہا جس پہ مر مر کے ہمیں ڈھنگ سے جینا آیا کیا کریں اب سر مقتل وہی قاتل نہ رہا اب خیالات کی محفل بھی نہیں سج پاتی دل تنہا میں کوئی رونق محفل نہ ...

مزید پڑھیے

فتح پانے کی نئی راہ نکالی اس نے

فتح پانے کی نئی راہ نکالی اس نے میرا سر مانگ لیا بن کے سوالی اس نے اپنی ہی ذات کے گلشن میں کیا آ کے قیام بھول کر وادیٔ کشمیر و منالی اس نے قرب مانگا تو دیا ہجر جو مانگا تو دیا جو کہا میں نے کوئی بات نہ ٹالی اس نے میں سمجھتا تھا یوں ہی ہوگا ہنر اس کا مگر بے مثالی کی بھی تصویر بنا لی ...

مزید پڑھیے

سنبھالتا ہے ترا دست معتبر مجھ کو

سنبھالتا ہے ترا دست معتبر مجھ کو تو کس لیے ہو کوئی خوف یا خطر مجھ کو بس ایک بار تری جستجو میں نکلا تھا پھر اس کے بعد نہ اپنی ملی خبر مجھ کو وہ اک مکان جو پرچھائیوں کا مسکن ہے وہی بلاتا ہے مدت سے رات بھر مجھ کو کھلا یہی کہ ہے وہ زرد موسموں کا نقیب جو لگ رہا تھا بہاروں کا نامہ بر ...

مزید پڑھیے

آئنہ عہد گذشتہ کا بچا رہ گیا ہے

آئنہ عہد گذشتہ کا بچا رہ گیا ہے طاق نسیاں پہ ابھی ایک دیا رہ گیا ہے کھڑکیاں سو گئیں خاموش ہوئے سارے چراغ اک دریچہ مگر اس گھر کا کھلا رہ گیا ہے اے ہوا اب تو نہ کر آگ اگلنے کا عمل شاخ پر بس یہی اک پتا ہرا رہ گیا ہے کہیں ٹھوکر سے کوئی زخم نہ آ جائے تجھے دل ہمارا ترے قدموں میں پڑا رہ ...

مزید پڑھیے

رائیگاں عشق کا انجام کہاں ہوتا ہے

رائیگاں عشق کا انجام کہاں ہوتا ہے اب مرا غم ترے چہرے سے عیاں ہوتا ہے آج منہ موڑ کے جانے لگیں یادیں اس کی آج تاراج مرا کوچۂ جاں ہوتا ہے گردش وقت غلط نکلا ترا اندازہ ٹھوکریں کھا کے مرا عزم جواں ہوتا ہے ٹیس جب دل میں ابھرتی ہے تری یادوں کی تب کہیں اپنے بھی ہونے کا گماں ہوتا ہے اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 869 سے 4657