شاعری

بتاؤ موت کیا ہے زندگی کیا

بتاؤ موت کیا ہے زندگی کیا کسی نے بھید یہ کھولا کبھی کیا یہ آنکھیں سرخ سی کیوں ہو رہی ہیں کسی کی یاد کی بارش ہوئی کیا بجھے ہیں کیوں چراغ دل سبھی کے ہوا نے کی ہے کوئی دل لگی کیا ہنسے کیوں پھول سارے کھلکھلا کر کسی نے کی ہے ان کو گدگدی کیا محبت تو محبت ہی ہے صاحب کہوں اس کو بری کیا ...

مزید پڑھیے

نقش آنکھوں میں اتارا جائے گا

نقش آنکھوں میں اتارا جائے گا پھر سفر میں دن گزارہ جائے گا پہلے داخل ہوگا شب کے شہر میں پھر سویرے کو پکارا جائے گا جب امیدیں ختم سب ہو جائیں گی وقت پھر کیسے گزارہ جائے گا ہار کرنوں کا بنا کر جھیل کے آئنہ میں دن سنوارا جائے گا دیکھ لے گر اک نظر سورج اسے کہرہ یہ بے موت مارا جائے ...

مزید پڑھیے

پیہم جل میں رہتی ہوں

پیہم جل میں رہتی ہوں پھر بھی سوکھی سوکھی ہوں دامن ایسا پھاڑا ہے ناخونوں سے سہمی ہوں نبھ میں لاکھوں تارے ہیں اک تارے سی میں بھی ہوں تانا ٹوٹا ہے من کا بانا پکڑے بیٹھی ہوں کچھوا ہے مجھ میں سیماؔ ہولے ہولے چلتی ہوں

مزید پڑھیے

چاند خود کو دیکھ کر شرمائے گا

چاند خود کو دیکھ کر شرمائے گا بادلوں کی اوٹ میں چھپ جائے گا یوں اداسی میں نہ تو اس کو گزار عمر بھر اس شام کو پچھتائے گا آنکھ کھلتے ہی وہ ڈھونڈھے گا مجھے خواب ایسا اس کو میرا آئے گا چل تو کتنا بھی سلیقے سے مگر راستوں میں ٹھوکریں تو کھائے گا روندتا ہے آج جو اس خاک کو ایک دن وہ خاک ...

مزید پڑھیے

ضرور وقت ہی کچھ چال چل رہا ہوگا

ضرور وقت ہی کچھ چال چل رہا ہوگا وہی بساط پہ مہرے بدل رہا ہوگا اتر رہا ہے سبھی راستوں سے اک دریا پہاڑ برف کا کوئی پگھل رہا ہوگا اسے کھلونے دئے تھے کسی نے بچپن کے وہ ایک پاؤں پہ اب بھی اچھل رہا ہوگا لباس اپنا بدل آیا تھا بہت پہلے وہ اب تو شکل ہی اپنی بدل رہا ہوگا نہیں ہے اور کسی ...

مزید پڑھیے

سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں

سورج کی تپتی دھوپ نے مارا ہے ان دنوں پیڑوں کی چھاؤں کا ہی سہارا ہے ان دنوں ہم کو بھی دل کے درد نے مارا ہے ان دنوں درد جگر غزل میں اتارا ہے ان دنوں احساس برف برف ہیں دل کی زمین پر یادوں کی دھوپ کا ہی سہارا ہے ان دنوں سوکھے بدن کی خاک پہ غم کی پھوار تھی یہ ہی سبب ہے جسم میں گارا ہے ...

مزید پڑھیے

پوچھ مت کل آئنہ میں کیا ہوا

پوچھ مت کل آئنہ میں کیا ہوا اپنے زندہ ہونے کا دھوکہ ہوا روز سورج ڈوبتا اگتا ہوا وقت کی اک کیل پر لٹکا ہوا آ گیا لے کر ادھاری روشنی چاند نے سورج کو ہے پہنا ہوا تشنگی اپنی بجھائیں کیسے ہم جو سمندر تھا وہ اب صحرا ہوا شہر سے جب بھی یہ دل اکتا گیا دشت کی جانب مرا جانا ہوا خوبیاں ...

مزید پڑھیے

ٹھٹھک گیا مہ نو جھیل میں اترتے ہوئے

ٹھٹھک گیا مہ نو جھیل میں اترتے ہوئے تو ہم نے دیکھا ہے آب رواں ٹھہرتے ہوئے قصیدہ گوئی خد و خال کی نظارے کریں وہ آئنے سے کرے گفتگو سنورتے ہوئے نہ ارد گرد کا کچھ ہوش تھا نہ خود اپنا عجیب حال تھا خوشبو سے بات کرتے ہوئے پھر اس کے بعد سمٹنے کی آرزو نہ رہی کچھ ایسا لطف ملا ٹوٹتے بکھرتے ...

مزید پڑھیے

جب تلک عشق کا افسانہ مکمل ہوگا

جب تلک عشق کا افسانہ مکمل ہوگا ایک طوفان بپا ذہن میں ہر پل ہوگا دل دھڑکنے کی صدا اتنی کہاں ہوتی ہے پاس ہی شور مچاتا کوئی پاگل ہوگا اتنا آسان نہیں دشت تمنا کا سفر کہیں دریا تو کوئی راستہ دلدل ہوگا تشنگی دشت کی صورت ہے لبوں پر بیٹھی کب ترا ہاتھ مرے واسطے چھاگل ہوگا منزل درد سے ...

مزید پڑھیے

آندھیوں سے ہیں رابطے اس کے

آندھیوں سے ہیں رابطے اس کے جل رہے ہیں سبھی دیے اس کے خوشبوئیں کر رہی ہیں اس کا طواف باغ سب ہیں ہرے بھرے اس کے وہ سراپا ہے آفتاب جمال کون ٹھہرے گا سامنے اس کے مجھ سے پہچانتے ہیں لوگ اس کو عکس میرے ہیں آئنے اس کے میں کتاب اس کی زندگی کی ہوں مجھ میں روشن ہیں حاشیے اس کے شب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 868 سے 4657