شاعری

وہم کی پرچھائیوں سے دل کو بہلاتے نہیں

وہم کی پرچھائیوں سے دل کو بہلاتے نہیں اہل دانش اس فریب شوق میں آتے نہیں مضطرب رکھتی ہے ہر لمحہ سفر کی آرزو ہم وہ راہی ہیں جو منزل پر سکوں پاتے نہیں آبگینوں کی طرح ان کی حفاظت فرض ہے ٹوٹ جاتے ہیں جو رشتے پھر نمو پاتے نہیں چھوڑ کر اک تیرے در کو در بہ در جائیں تو کیوں ہر کسی کے ...

مزید پڑھیے

اپنی تخلیق میں اپنا ہی ہنر جاگتا ہے

اپنی تخلیق میں اپنا ہی ہنر جاگتا ہے وقت لگتا ہے مگر سچ کا اثر جاتا ہے بات چھوٹی ہی اگر ڈھنگ سے کہہ دے کوئی سننے والے میں تجسس کا اثر جاگتا ہے شیشہ پیکر ہو تو پتھر سے نبھائے رکھو یہ سلیقہ جسے آتا ہے وہ گھر جاگتا ہے زندگی نام ہے جینے کا تو زندہ سب ہیں پیار ملتا ہے تو خوابوں کا شجر ...

مزید پڑھیے

آگ سینے کی بجھا لوں پانی

آگ سینے کی بجھا لوں پانی سرخ آنکھیں ہیں بہا لوں پانی خرچ کم کم ہو سنبھالوں پانی ہو سکے جتنا بچا لوں پانی عنقا ہونے لگا ہے اب یہ بھی سب کی نظروں سے چھپا لوں پانی کل سے آیا نہیں ہے ایسا ہو دے کے آواز بلا لوں پانی قطرہ قطرہ جو بھر کے رکھا تھا برتنوں سے وہ نکالوں پانی بجلی غائب ...

مزید پڑھیے

ترا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے

ترا وحشی کچھ آگے ہے جنون فتنہ ساماں سے کہیں دست و گریباں ہو نہ آبادی بیاباں سے الٰہی جذبۂ دل کا اثر اتنا نہ ہو ان پر پریشاں وہ نہ ہو جائیں مرے حال پریشاں سے قیامت ہے وہ آئے اور آتے ہی ہوئے واپس یہ آثار سحر پیدا ہوئے شام غریباں سے نظر والے سمجھ جائیں نہ عرش و فرش کی نسبت ترا دامن ...

مزید پڑھیے

حسن مطلق ہے کیا کسے معلوم

حسن مطلق ہے کیا کسے معلوم ابتدا انتہا کسے معلوم میری بیتابیوں کی کھا کے قسم برق نے کیا کیا کسے معلوم دن دہاڑے شباب کے ہاتھوں ہائے میں لٹ گیا کسے معلوم میری کچھ گرم و سرد آہوں سے آسماں کیا ہوا کسے معلوم حسن کا ہر خیال روشن ہے عشق کا مدعا کسے معلوم سحرؔ کے ہم نوا فرشتے ہیں ہے ...

مزید پڑھیے

اس نے پتھر میں خود کو ڈھالا تھا

اس نے پتھر میں خود کو ڈھالا تھا تب کہیں مجھ کو ہنس کے ٹالا تھا ہم نے خواہش کی پرورش کی تھی سانپ اک آستیں میں پالا تھا سوچنے والے سوچتے ہی رہے ہو گیا وہ جو ہونے والا تھا زہر دیتا نہ وہ تو دیتا کون ہم نوالا تھا ہم پیالہ تھا زندہ رہنے کی تب ملی تھی چھوٹ اس نے جب خود کو مار ڈالا ...

مزید پڑھیے

تجربہ رہنما نہیں ہوتا

تجربہ رہنما نہیں ہوتا جو ہوا بارہا نہیں ہوتا وقت وعدوں کا سخت دشمن ہے آدمی بے وفا نہیں ہوتا ڈوبنے والے کس طرف جائیں آب پر نقش پا نہیں ہوتا اس نے پہلے ہی جان لینا تھا آدمی دیوتا نہیں ہوتا اس کی پرسش بھی ایک دن ہوگی حق جو خود کا ادا نہیں ہوتا کھائے جاتا ہے بس یہی احساس کاش جو ...

مزید پڑھیے

قتل کرنا ہو تو کب زہر دیا جاتا ہے

قتل کرنا ہو تو کب زہر دیا جاتا ہے ان دنوں بس نظر انداز کیا جاتا ہے زندگی زہر سہی جرعۂ مانوس تو ہے موت کا جام شفا کس سے پیا جاتا ہے میں تو لمحات کا بکھرا ہوا شیرازہ ہوں سوزن عمر سے کیوں مجھ کو سیا جاتا ہے تم کو اندازہ نہیں اس کی توانائی کا حد سے بڑھ کر جسے مجبور کیا جاتا ہے باز ...

مزید پڑھیے

دھوپ قسمت ہے تو پھر دھوپ کا خوگر ہونا

دھوپ قسمت ہے تو پھر دھوپ کا خوگر ہونا کیا ضروری ہے سدا سایہ کا سر پر ہونا کیوں نہ ہم لمحۂ موجود میں ہنس کر جی لیں جب کہ ممکن نہیں حالات کا بہتر ہونا صرف قصوں کی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے ہم نے دیکھا نہ تھا انسان کا پتھر ہونا صرف صورت نہیں سیرت بھی بگڑ جاتی ہے اک عجب روگ ہے ہارا ...

مزید پڑھیے

چلن رہا نہیں جینے کا اب زمانے میں

چلن رہا نہیں جینے کا اب زمانے میں لگے ہوئے ہیں سبھی زندگی بنانے میں کوئی کسی کو نہیں مارتا سر مقتل یہ کام ہوتا ہے دفتر میں کارخانے میں ہمارے دور میں انسانیت کا حال ہے یہ پڑی ہو لاش کوئی جیسے سرد خانے میں مزاج دہر کا کرنا نہ اہل شر پہ قیاس کہ ایسے لوگ تو ہوتے ہیں ہر زمانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 835 سے 4657