شاعری

ابر ہی ابر ہے برستا نئیں

ابر ہی ابر ہے برستا نئیں اب کے ساون تمہارے جیسا نئیں خواب اور سینت کر رکھیں آنکھیں ان سے آنسو تو اک سنبھلتا نئیں گھومتی ہے زمین گرد مرے پاؤں اٹھتے ہیں رقص ہوتا نئیں نوچ ڈالے ہیں اپنے پر میں نے میں بھی انسان ہوں فرشتہ نئیں کیسا ہرجائی ہو گیا آنسو میرا دامن ہے اور گیلا نئیں کب ...

مزید پڑھیے

ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ

ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ دیکھنا ہے تو لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ کوئی سورج سے ملا پاتا ہے کب تک آنکھیں پھر بھی اک بار لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ یہ کھلی آنکھ کا منظر ہی نہیں ہے مری جاں بند آنکھوں سے بھی اک بار اسے دیکھ کے دیکھ برف آنکھوں میں لئے دور کھڑے شخص کی خیر کیسے ...

مزید پڑھیے

ایک بس تو نہیں ملتا ہے مجھے کھونے کو

ایک بس تو نہیں ملتا ہے مجھے کھونے کو ورنہ کیا کچھ نہیں ہوتا ہے یہاں ہونے کو دیکھ بے درد زمانے کی زبوں حالی دیکھ ایک شانہ نہیں ملتا ہے جہاں رونے کو رات بھر خود سے گلے مل کے بہت روتی ہوں جھوٹے منہ بھی نہیں کہتا ہے کوئی سونے کو کتنی میلی ہے ہوس ناک نگاہوں کی چمک کہ سمندر بھی بہت کم ...

مزید پڑھیے

رنج و الم کے باب کا عنوان عشق ہے

رنج و الم کے باب کا عنوان عشق ہے ایثار کے نصاب کا عنوان عشق ہے اغیار کا خیال جو دل سے نکال دے حرمت کے اس سراب کا عنوان عشق ہے محسوس آفتاب کی جس سے نہ ہو تپش گیسو کے اس سحاب کا عنوان عشق ہے ہر دم تیار ہے جو کرائے کو سر قلم ایسے جری شباب کا عنوان عشق ہے انجام گرچہ طور ہے خواہش کے ...

مزید پڑھیے

وقت نے اک نظر جو ڈالی ہے

وقت نے اک نظر جو ڈالی ہے پھول کی تازگی چرا لی ہے آج بھی اس نے شام سے پہلے دھوپ دیوار سے اٹھا لی ہے اب ہوا چیختی پھرے شب بھر شہر تو شام ہی سے خالی ہے موت بھی اس لیے نہیں آتی زندگی زندگی سے خالی ہے ہے ملاقات اس سے خوابوں میں اور یہ تصویر بھی خیالی ہے ہم سفر بھی نیا بنا لیں گے رہ ...

مزید پڑھیے

مرے حق میں کوئی ایسی دعا کر

مرے حق میں کوئی ایسی دعا کر میں زندہ رہ سکوں تجھ کو بھلا کر فسردہ ہوں تجھے کھو کر کہ جیسے کوئی بچہ قلم تختی گنوا کر یہاں سورج سے خالی دن ہیں سارے کہا تو تھا تجھے روشن دیا کر بھلانے کی میں کوشش کر رہا ہوں تری تصویر کمرے میں سجا کر ہوا محروم میں شمس و قمر سے گھنا اک پیڑ آنگن میں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شخص کو کم ہی سمجھ میں آتا ہوں

ہر ایک شخص کو کم ہی سمجھ میں آتا ہوں جو جانتا ہے اسی کی سمجھ میں آتا ہوں نہ آؤں تو میں سمجھ میں کبھی نہیں آتا سمجھ میں آؤں تو فوری سمجھ میں آتا ہوں تجھے جو مجھ سے شکایت ہے وہ محبت ہے اسی لیے تو میں تیری سمجھ میں آتا ہوں جو تشنہ کام نظر بھر کے دیکھتے ہیں انہیں شراب اور صراحی سمجھ ...

مزید پڑھیے

عجیب شام تھی جب لوٹ کر میں گھر آیا

عجیب شام تھی جب لوٹ کر میں گھر آیا کوئی چراغ لیے منتظر نظر آیا دعا کو ہاتھ اٹھائے ہی تھے بہ وقت سحر کہ اک ستارا مرے ہاتھ پر اتر آیا تمام عمر ترے غم کی آبیاری کی تو شاخ جاں میں گل تازہ کا ثمر آیا پھر ایک شام در دل پہ دستکیں جاگیں اور ایک خواب کے ہم راہ نامہ بر آیا گلے سے لگ کے مرے ...

مزید پڑھیے

سفر میں گرد چھٹی راستہ دکھائی دیا

سفر میں گرد چھٹی راستہ دکھائی دیا اور اس کے بعد مجھے دوسرا دکھائی دیا زبان حرف سے محروم ہو گئی ہے مری بتاؤں کیسے مجھے اور کیا دکھائی دیا مرے ہی خواب تمنا کی لو میں جلتے رہے مرا ہی عکس سر آئینہ دکھائی دیا نکل کے آپ سے باہر دکھائی کچھ نہ دیا دکھائی کچھ نہ دیا تو خدا دکھائی ...

مزید پڑھیے

چمن کو پھول وطن کو نئی بہار ملے

چمن کو پھول وطن کو نئی بہار ملے ہمیں بھی دامن صد چاک و تار تار ملے خزاں میں ہم نے بہاروں کے گیت گائے تھے ہمیں بہار گلستاں پہ اختیار ملے یہی ہے آمد فصل بہار کا حاصل تمام پھول گلستاں میں دل فگار ملے جنہیں غرور تھا دنیا میں کج کلاہی کا فراز دار پہ ہم کو وہ تاجدار ملے شبانہؔ ہم بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 834 سے 4657