ابر ہی ابر ہے برستا نئیں
ابر ہی ابر ہے برستا نئیں اب کے ساون تمہارے جیسا نئیں خواب اور سینت کر رکھیں آنکھیں ان سے آنسو تو اک سنبھلتا نئیں گھومتی ہے زمین گرد مرے پاؤں اٹھتے ہیں رقص ہوتا نئیں نوچ ڈالے ہیں اپنے پر میں نے میں بھی انسان ہوں فرشتہ نئیں کیسا ہرجائی ہو گیا آنسو میرا دامن ہے اور گیلا نئیں کب ...