شاعری

رنگ اڑ کر رونق تصویر آدھی رہ گئی

رنگ اڑ کر رونق تصویر آدھی رہ گئی غم غلط کرنے کی یہ تدبیر آدھی رہ گئی دیکھنے والوں کی آنکھوں سے نہاں اک رخ رہا پوری کھنچ کر بھی مری تصویر آدھی رہ گئی مجھ سے میعاد اسیری کیا کرو گے پوچھ کر دیدہ ور ہو جانچ لو زنجیر آدھی رہ گئی ہوش تھا وحشت میں تو صحرا نوردی کا مجھے بے خودی میں گردش ...

مزید پڑھیے

وہ جو فردوس نظر ہے آئینہ خانہ ابھی

وہ جو فردوس نظر ہے آئینہ خانہ ابھی جلوہ گر جو وہ نہ ہوں ہو جائے ویرانہ ابھی شمع کی لو میں سما کر خود سراپا نور ہو دور رس اتنی نہیں پرواز پروانہ ابھی تیرا دیوانہ ہے اس کی رفعتوں کا ذکر کیا گرد کو جس کی نہ پہنچا کوئی فرزانہ ابھی ملتفت ہو کر نہ بخشیں اس طرح لبریز جام میری ہستی کا ...

مزید پڑھیے

میری قسمت سے قفس کا یا تو در کھلتا نہیں

میری قسمت سے قفس کا یا تو در کھلتا نہیں در جو کھلتا ہے تو بند بال و پر کھلتا نہیں آہ کرتا ہوں تو آتی ہے پلٹ کر یہ صدا عاشقوں کے واسطے باب اثر کھلتا نہیں ایک ہم ہیں رات بھر کروٹ بدلتے ہی کٹی ایک وہ ہیں دن چڑھے تک جن کا در کھلتا نہیں رفتہ رفتہ ہی نقاب اٹھے گی روئے حسن سے وہ تو وہ ہے ...

مزید پڑھیے

جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق

جس سے وفا کی تھی امید اس نے ادا کیا یہ حق اوروں سے ارتباط کی اور مجھے دیا قلق تیری جفا وفا سہی میری وفا جفا سہی خون کسی کا بھی نہیں تو یہ بتا ہے کیا شفق مصحف رخ ہی درد تھا اور نہ تھا کوئی خیال عشق نے خود پڑھا دیا حسن کا ایک اک ورق اور تو ہیں روایتیں مذہب عشق ہے صحیح روز عطا ہو شوق ...

مزید پڑھیے

جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا

جب سبق دے انہیں آئینہ خود آرائی کا حال کیوں پوچھیں بھلا وہ کسی سودائی کا محو ہے عکس دو عالم مری آنکھوں میں مگر تو نظر آتا ہے مرکز مری بینائی کا دونوں عالم رہے آغوش کشا جس کے لیے میں نے دیکھا ہے وہ عالم تری انگڑائی کا آئینہ دیکھ کر انصاف سے کہہ دے ظالم کیا مرا عشق ہے موجب مری ...

مزید پڑھیے

داور نے بندے بندوں نے داور بنا دیا

داور نے بندے بندوں نے داور بنا دیا ساگر نے قطرے قطروں نے ساگر بنا دیا بیتابیوں نے دل کی بامید شرح شوق اس جاں نواز کو بھی ستم گر بنا دیا پہلی سی لذتیں نہیں اب درد عشق میں کیوں دل کو میں نے ظلم کا خوگر بنا دیا کیفیت شباب سے معذور کچھ ہوئے کچھ عاشقوں نے بھی انہیں خود سر بنا ...

مزید پڑھیے

عاشق کی جان جاتی ہے اس بانکپن کو چھوڑ

عاشق کی جان جاتی ہے اس بانکپن کو چھوڑ اے بت خدا کے واسطے اپنے چلن کو چھوڑ بلبل نہ رحم آئے گا صیاد کو کبھی ہے جان اگر عزیز تو تو اس چمن کو چھوڑ اس کا یہی طریق رہا عاشقوں کے ساتھ اے دل بس اب شکایت چرخ کہن کو چھوڑ صحرا کی سمت پاؤں بڑھے جاتے ہیں دل آ وحشت پکارتی ہے کہ حب الوطن کو ...

مزید پڑھیے

ابھی تک ان کے وہی ستم ہیں جفا کی خو بھی نہیں گئی ہے

ابھی تک ان کے وہی ستم ہیں جفا کی خو بھی نہیں گئی ہے وہ رنجشیں بھی نہیں گئی ہیں وہ گفتگو بھی نہیں گئی ہے نشیمن اپنا اٹھا نہ یاں سے خزاں جو آئی تو آئی بلبل بہار رخصت ابھی ہوئی ہے گلوں کی بو بھی نہیں گئی ہے گئی جوانی تو جائے دلبر مجھے ہے الفت ہنوز باقی وہ التجا بھی نہیں گئی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

ہر ایک پہ یہ راز بھی افشا نہیں ہوتا

ہر ایک پہ یہ راز بھی افشا نہیں ہوتا اچھا جو نظر آتا ہے اچھا نہیں ہوتا روتے ہو بھلا کس لیے جب جانتے ہو تم یہ عشق ہے اس عشق میں کیا کیا نہیں ہوتا امید روا رکھتے ہو ہر ایک سے کیوں کر ہر شخص زمانے میں مسیحا نہیں ہوتا کرتا ہے جو ہر بات پہ سچائی کا دعویٰ سچ بات تو یہ ہے کہ وہ سچا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر کسی آنکھ کا بدلہ ہوا منظر ہوگا

ہر کسی آنکھ کا بدلہ ہوا منظر ہوگا شہر در شہر مسیحاؤں کا لشکر ہوگا آئنہ رو ہے اگر دل تو حفاظت کیجے کس کو معلوم ہے کس ہاتھ میں پتھر ہوگا لے کے پیغام خزاں آیا ہے میرے در پہ وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر ہوگا پھر سیاست کی مہک آنے لگی ہے مجھ کو جانے اب کون مرے شہر میں بے گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 836 سے 4657