رنگ اڑ کر رونق تصویر آدھی رہ گئی
رنگ اڑ کر رونق تصویر آدھی رہ گئی غم غلط کرنے کی یہ تدبیر آدھی رہ گئی دیکھنے والوں کی آنکھوں سے نہاں اک رخ رہا پوری کھنچ کر بھی مری تصویر آدھی رہ گئی مجھ سے میعاد اسیری کیا کرو گے پوچھ کر دیدہ ور ہو جانچ لو زنجیر آدھی رہ گئی ہوش تھا وحشت میں تو صحرا نوردی کا مجھے بے خودی میں گردش ...