شاعری

وہ بے وفا ہی سہی اس کو بے وفا نہ کہو

وہ بے وفا ہی سہی اس کو بے وفا نہ کہو ادب کی حد میں رہو حسن کو برا نہ کہو شراب عشق کی عظمت سے جو کرے انکار وہ پارسا بھی اگر ہو تو پارسا نہ کہو پڑا ہے کام اسی خود پرست کافر سے جسے یہ ضد ہے کسی اور کو خدا نہ کہو مرا خلوص محبت ہے قدر کے قابل زباں پہ ذکر وفا ہے اسے گلا نہ کہو یہ کیا کہا ...

مزید پڑھیے

اتنے چپ کیوں ہو ماجرا کیا ہے

اتنے چپ کیوں ہو ماجرا کیا ہے آج شاعرؔ تمہیں ہوا کیا ہے واقعہ یہ ہے تھے اسی قابل ہم جو رسوا ہوئے برا کیا ہے حاصل کائنات ہے اس میں میرے ساغر کو دیکھتا کیا ہے دل کی باتیں سنو نگاہوں سے یہ نہ پوچھو کہ مدعا کیا ہے تیری اک اک ادا نے لوٹ لیا ہے وفائی ہے کیا وفا کیا ہے سامنے اپنے آئنہ ...

مزید پڑھیے

سر تسلیم خم کرنا پڑا تقصیر سے پہلے

سر تسلیم خم کرنا پڑا تقصیر سے پہلے محبت کی سزا مجھ کو ملی تعزیر سے پہلے برا ہوگا ہماری راہ میں آیا اگر کوئی کہ ہم شمشیر بن جائیں گے خود شمشیر سے پہلے محبت کی نظر اک اک نفس پر کام کرتی ہے تجھے ہم دیکھ لیتے ہیں تری تصویر سے پہلے محبت کا زمانہ بھی عجب دل کش زمانہ تھا اسیری میری ...

مزید پڑھیے

فسانۂ ستم کائنات کہتے ہیں

فسانۂ ستم کائنات کہتے ہیں یہ اشک غم تو مرے دل کی بات کہتے ہیں وہی نگاہ کہ جس سے جہاں لرزتا ہے ہم اس نگاہ کو راز حیات کہتے ہیں طلوع مہر مبیں تک نظر نہیں جاتی جو بے خبر ہیں وہ دن کو بھی رات کہتے ہیں گل و بہار کا انجام ہے جنہیں معلوم چمن کو دام گہہ حادثات کہتے ہیں ہم اہل عشق ہیں ...

مزید پڑھیے

یاد کر کر کے آہیں بھرتے ہیں

یاد کر کر کے آہیں بھرتے ہیں ان کے کوچے سے جب گزرتے ہیں عشق تو آپ ہی سے کرتے ہیں پھر بھی اظہار سے وہ ڈرتے ہیں زخم الفت مگر نہیں بھرتے چارہ گر تو علاج کرتے ہیں آئنہ ان میں ڈوب جاتا ہے آئنے میں جو وہ سنورتے ہیں میری فطرت میں ہے وفاداری اور مجھ سے گلا وہ کرتے ہیں عشق میں ہائے ہے ...

مزید پڑھیے

کہنے کو تو ہے کیا نہیں

کہنے کو تو ہے کیا نہیں کیوں ہے خلش پتا نہیں مجھ سے ہوئے وہ کیوں خفا ان سے مجھے گلا نہیں جس کی تھی ہم کو جستجو کیوں وہ ہمیں ملا نہیں پھر بھی سزا مجھے ملی جب کہ میری خطا نہیں الجھا ہوں اتنا عشق میں مجھ کو مرا پتا نہیں یوں تو بہت ہیں راحتیں غم کی مرے دوا نہیں کہنے کو تو ہیں دور ...

مزید پڑھیے

زندگانی جب کہانی ہو گئی

زندگانی جب کہانی ہو گئی وہ کہانی خود پرانی ہو گئی زندگی نے جو مسرت پائی تھی وہ خوشی آنکھوں کا پانی ہو گئی جان دی دل دے دیا سودا کیا بات یہ ساری زبانی ہو گئی بات اس نے راستے میں جب نہ کی میں یہ سمجھا وہ سیانی ہو گئی داغ دامن پہ ہمارے جو لگے کیا یہ الفت کی نشانی ہو گئی ان کے آنے ...

مزید پڑھیے

نہ سنا اب مجھے تو افسانہ (ردیف .. ا)

نہ سنا اب مجھے تو افسانہ جل اٹھے نہ کہیں یہ پروانہ راتیں کاٹیں ہیں کروٹیں لے کر عشق کرنے کا ہے یہ ہرجانا آگ کا دریا پار کرنا ہے عشق کی راہ سے گزر جانا ان کے آنے سے چین آتا ہے ان کا جانا ہے جان کا جانا قتل کرنا نہیں ہے منصوبہ ان کی خواہش ہے مجھ کو تڑپانا مانتا ہی نہیں کبھی ...

مزید پڑھیے

مے کدوں میں تو عام پیتے ہیں

مے کدوں میں تو عام پیتے ہیں ہم نگاہوں سے جام پیتے ہیں تیری تصویر سامنے رکھ کر کر کے تجھ سے کلام پیتے ہیں غم فرقت میں بس دو گھونٹ پیا آپ کرتے ہیں نام پیتے ہیں آؤ پی لو کے صبح صادق ہے آؤ بیٹھو ہے شام پیتے ہیں میں زمانے کو میکدے سا لگوں آؤ اس طرح جام پیتے ہیں قید بوتل میں ہیں عجب ...

مزید پڑھیے

نام اپنا بھی کر گئے ہوتے

نام اپنا بھی کر گئے ہوتے عاشقی میں جو مر گئے ہوتے تیرا کوچہ اگر نہیں ہوتا پھر نہ جانے کدھر گئے ہوتے بے خودی میں نہ گر خودی پاتے ہم حدوں سے گزر گئے ہوتے آس ان کو نہیں تھی آنے کی ورنہ اب تک سنور گئے ہوتے گر وہ آتے مری عیادت کو زخم دل میرے بھر گئے ہوتے بادہ نوشی تھی تیرے غم کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 828 سے 4657