وہ بے وفا ہی سہی اس کو بے وفا نہ کہو
وہ بے وفا ہی سہی اس کو بے وفا نہ کہو ادب کی حد میں رہو حسن کو برا نہ کہو شراب عشق کی عظمت سے جو کرے انکار وہ پارسا بھی اگر ہو تو پارسا نہ کہو پڑا ہے کام اسی خود پرست کافر سے جسے یہ ضد ہے کسی اور کو خدا نہ کہو مرا خلوص محبت ہے قدر کے قابل زباں پہ ذکر وفا ہے اسے گلا نہ کہو یہ کیا کہا ...