شاعری

یہ سوچ سوچ کے بسمل پہ کیا گزرتی ہے

یہ سوچ سوچ کے بسمل پہ کیا گزرتی ہے کہ دست و بازوئے قاتل پہ کیا گزرتی ہے جو میرے ساتھ چلو چاندنی کی سیر کو تم تو دیکھنا مہ کامل پہ کیا گزرتی ہے میری تباہی پہ منہ پھیر کر نہ ہنس اے دوست نظر ملا کے تو کہہ دل پہ کیا گزرتی ہے چراغ بجھ گئے پروانے جل کے خاک ہوئے نہ پوچھ صاحب محفل پہ کیا ...

مزید پڑھیے

دم تعمیر تخریب جہاں کچھ اور کہتی ہے

دم تعمیر تخریب جہاں کچھ اور کہتی ہے کلی کچھ اور کہتی ہے خزاں کچھ اور کہتی ہے کدہ کی یاد سب کچھ ہے مگر اے زاہد ناداں دلوں سے مستئ چشم بتاں کچھ اور کہتی ہے کبھی شاید وہ دور آئے جب انساں ہو سکے انساں ابھی تو گردش ہفت آسماں کچھ اور کہتی ہے بنا کر آشیانے فصل گل میں شاد ہیں لیکن چمن ...

مزید پڑھیے

مزہ شباب کا جب ہے کہ با خدا بھی رہے

مزہ شباب کا جب ہے کہ با خدا بھی رہے بتوں کے ساتھ رہے اور پارسا بھی رہے مذاق حسن پرستی قبول ہے مجھ کو اگر نگاہ حقیقت سے آشنا بھی رہے نظام دہر جدا کر رہا ہے دونوں کو میں چاہتا ہوں کلی بھی رہے صبا بھی رہے کہاں سے جان بچے جب وہ شوخ سحر نگاہ جفا شعار بھی ہو مائل وفا بھی رہے مجھے ملا ...

مزید پڑھیے

زباں خموش رہے ترک مدعا نہ کرے

زباں خموش رہے ترک مدعا نہ کرے یہ التجا بھی نہیں کم کہ التجا نہ کرے میں ننگ عشق سمجھتا ہوں زندگی کے لئے وہ دل جو گردش دوراں کا سامنا نہ کرے دلا رہی ہے یقین وفا مجھے وہ نظر یہ بات اور ہے ہر ایک سے وفا نہ کرے اسے بہار کی رنگینیاں نصیب نہ ہوں چمن میں رہ کے چمن کا جو حق ادا نہ ...

مزید پڑھیے

راہ دشوار میں چلنا سیکھو

راہ دشوار میں چلنا سیکھو رخ زمانے کا بدلنا سیکھو زندگی خود ہی سنور جائے گی غم کے سانچے میں تو ڈھلنا سیکھو مے پرستی کی ہے اس میں توہین پی لیا ہے تو سنبھلنا سیکھو تیرگی آپ ہی چھٹ جائے گی بن کے خورشید نکلنا سیکھو دل کو پتھر نہ بناؤ اپنے موم کی طرح پگھلنا سیکھو ہو کے سرگرم عمل اے ...

مزید پڑھیے

نافہم کہوں میں اسے ایسا بھی نہیں ہے

نافہم کہوں میں اسے ایسا بھی نہیں ہے کیا شے ہے محبت وہ سمجھتا بھی نہیں ہے مانا کہ بہت رابطۂ عشق ہے نازک ہم توڑ سکیں جس کو وہ رشتا بھی نہیں ہے ہر شے سے جدا ہے دل برباد کی فطرت جب تک نہ ہو برباد سنورتا بھی نہیں ہے امید ہے وابستہ مری ابر کرم سے اور ابر کرم ہے کہ برستا بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا

ساقی کی نگاہوں کا پیغام نہیں آتا جس جام کا طالب ہوں وہ جام نہیں آتا مے خواروں کی لغزش پر دنیا کی نگاہیں ہیں نافہمیٔ واعظ پر الزام نہیں آتا اللہ رے مجبوری اللہ رے محرومی یا بارش صہبا تھی یا جام نہیں آتا بیتابیٔ دل راز تسکین محبت ہے اچھے ہیں وہی جن کو آرام نہیں آتا یا دل کے ...

مزید پڑھیے

گل خوش نما کے لباس میں کہ شعاع نور میں ڈھل کے آ

گل خوش نما کے لباس میں کہ شعاع نور میں ڈھل کے آ تجھے ڈھونڈھ لے گی مری نظر تو ہزار رنگ بدل کے آ ترے دل کی آگ حقیقتاً ترے حق میں فصل بہار ہے جو بجھائے سے بھی نہ بجھ سکے اسی دل کی آگ میں جل کے آ تری جستجو بھی حجاب ہے تری آرزو بھی حجاب ہے کبھی دام عقل و شعور سے جو نکل سکے تو نکل کے آ یہ ...

مزید پڑھیے

غم ہے کانٹوں کا نہ اندیشہ بیابانوں کا

غم ہے کانٹوں کا نہ اندیشہ بیابانوں کا عشق ہے راہنما آج بھی دیوانوں کا روح تاریک نظر کور محبت سے گریز کیا فرشتوں میں ہے شہرا انہیں انسانوں کا لفظ جذبات کی تصویر نہیں بن سکتے شکر کیسے ہو ادا حسن کے احسانوں کا دل برباد سے کرتے ہیں جسے ہم تعبیر اسی ویرانے میں اک شہر تھا ارمانوں ...

مزید پڑھیے

وسعت کون و مکاں میں وہ سماتے بھی نہیں

وسعت کون و مکاں میں وہ سماتے بھی نہیں جلوہ افروز بھی ہیں سامنے آتے بھی نہیں پارسائی کا ہماری نہیں دنیا میں جواب وقت آ جائے تو دامن کو بچاتے بھی نہیں ہم وہ میکش ہیں کی ساقی کی نظر پھرتے ہی جام کی سمت نگاہوں کو اٹھاتے بھی نہیں خود ہی رنگ رخ محبوب اڑا جاتا ہے ہم تو روداد غم عشق ...

مزید پڑھیے
صفحہ 827 سے 4657