شاعری

پتھ ہے دشوار کیا ہوا سائیں

پتھ ہے دشوار کیا ہوا سائیں ہارتا کیوں ہے حوصلہ سائیں ہم ستاروں کے ساتھ جاگتے تھے اب نہیں ہوتا رتجگا سائیں میں فضا میں تھا برگ آوارہ خود کو کیسے سنبھالتا سائیں آپ دیکھیں نہ مجھ کو حیرت سے رنگ و روغن اتر گیا سائیں فرصت یک نگاہ کس کو تھی جو مری اور دیکھتا سائیں میرے احباب ہیں ...

مزید پڑھیے

نہ خود کو زمانے سے انجان رکھ

نہ خود کو زمانے سے انجان رکھ کھلی اپنی آنکھیں کھلے کان رکھ نہیں رہتا یکساں رتوں کا مزاج سفر میں ضرورت کے سامان رکھ کہیں وقت سے پہلے مرجھا نہ جائے کچن سے بہت دور گلدان رکھ کہاں تجھ سے لغزش ہوئی پہلے سوچ نہ بے جا کسی پر بھی بہتان رکھ ہوا نرم چلنے کو بیتاب ہے امس ختم ہونے کا ...

مزید پڑھیے

آج بھی وہ اسی سبھاؤ کا ہے

آج بھی وہ اسی سبھاؤ کا ہے وہی انداز رکھ رکھاؤ کا ہے زندگی سے نظر ملا کے چلو راستہ اک یہی بچاؤ کا ہے اس کو بھولیں تو کس طرح بھولیں اس سے رشتہ عجب لگاؤ کا ہے زندگی کیا ہے کیا بتائیں تمہیں ہاتھ سے روکنا بہاؤ کا ہے جی میں آتا ہے بات کرتے جائیں اس کا لہجہ بھی کیا رچاؤ کا ہے جو دہکتا ...

مزید پڑھیے

سر گرانی تھی شادمانی تھی

سر گرانی تھی شادمانی تھی مہربانی تھی بد گمانی تھی زندگی نے اسے سنا ہی نہیں آرزوؤں کی جو کہانی تھی رات بیتی جو شاہراہوں پر کیا بتائیں کہاں بتانی تھی تبصرہ زندگی پہ کیا کرتے بڑی الجھی ہوئی کہانی تھی تجھ سے بچھڑے تو اپنے پاس رہے بس ادھوری سی زندگانی تھی اس طرح کس کو پیاس ہوتی ...

مزید پڑھیے

یہ دھڑکنوں کا ترنم فریب ہی تو نہیں

یہ دھڑکنوں کا ترنم فریب ہی تو نہیں کسی نے دور سے آواز مجھ کو دی تو نہیں ترے بغیر بھی کٹ جائے گی حیات مگر یہ خود فریبئ احساس زندگی تو نہیں ہزار تیرہ و تاریک راہ منزل ہے کبھی نہ ختم ہو یہ ایسی تیرگی تو نہیں اسی میں سارے گلستاں کی آگ شامل ہے یہ صرف میرے نشیمن کی روشنی تو نہیں بہت ...

مزید پڑھیے

پیکر حسن جب اڑان میں تھا

پیکر حسن جب اڑان میں تھا رنگ ہی رنگ آسمان میں تھا تجھ کو دیکھا مگر کہاں دیکھا ایک احساس درمیان میں تھا زندگی کتنی خوب صورت تھی آرزؤں کے سائبان میں تھا ایک جنس وفا نہ تھی ورنہ کیا نہیں حسن کی دکان میں تھا زندگی تیری چاہتوں کی قسم ہر قدم میں ہی امتحان میں تھا سب نے اپنی ہی ...

مزید پڑھیے

نظر سے دور ہے دل سے قریب تر ہے کوئی

نظر سے دور ہے دل سے قریب تر ہے کوئی تو پھر یہ کیسے کہوں مجھ سے بے خبر ہے کوئی یہ عہد کیسے کروں تجھ کو بھول جاؤں گا کہاں یقین دل بے قرار پر ہے کوئی بہت حسین شب انتظار ہے لیکن تمہی بتاؤ کہ اس رات کی سحر ہے کوئی ترے تصور رنگیں میں یوں نظر گم ہے میں اب وہاں ہوں کسے فرصت نظر ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی منزل نہ راستا ہے آج

کوئی منزل نہ راستا ہے آج لمحہ لمحہ بھٹک رہا ہے آج زندگی کی عجب ادا ہے آج زندگی خود سے بھی خفا ہے آج فاصلے اب کہاں ہیں دنیا میں صرف اپنوں میں فاصلا ہے آج دور اندیش کس قدر ہے وہ غم فردا بھی دیکھتا ہے آج صرف انساں کا لفظ زندہ ہے ورنہ انسان مر گیا ہے آج اب اسی کو خلوص کہتے ہیں پاس ...

مزید پڑھیے

انسانیت کو درد کا درماں کہے گا کون

انسانیت کو درد کا درماں کہے گا کون اب آدمی کو حضرت انساں کہے گا کون سب کچھ وہی ہے آج بھی چہرے بدل گئے شام خزاں کو صبح بہاراں کہے گا کون اب زندگی کے معنی و مطلب بدل گئے اب زندگی کو خواب پریشاں کہے گا کون یوں ہے کمال عظمت آدم لہو لہو اب داستان عظمت انساں کہے گا کون ہیں ہر قدم پہ ...

مزید پڑھیے

جان کے اس نے یوں نہ پڑھا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

جان کے اس نے یوں نہ پڑھا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے میری غزل کا وہ مقطع ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے رنگ حنا میں خون وفا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے آج بھی اس کا زخم ہرا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ترک وفا کی بات نہ پوچھو دل کے ہزاروں پہلو ہیں بعد میں وہ بھی پچھتایا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے باہر باہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 816 سے 4657