شاعری

ہاتھ سے ہاتھ ملا دل سے طبیعت نہ ملی

ہاتھ سے ہاتھ ملا دل سے طبیعت نہ ملی آپ کے ساتھ مری ایک بھی عادت نہ ملی زندگی وقف اسی کے لیے کر دی ناداں ایک لمحہ جسے تیرے لئے فرصت نہ ملی عیش و آرام سے کیوں کر ہمیں ملتی تسکین جب ہمیں غم سے خوشی رنج سے راحت نہ ملی اس کو انسان تو کہتے ہوئے شرم آتی ہے تیری درگہ سے جسے رتی بھی غیرت ...

مزید پڑھیے

اقلیم دل پہ عشق کی فرماں روائیاں

اقلیم دل پہ عشق کی فرماں روائیاں جاں بخش قربتیں کہیں قاتل جدائیاں سولی چڑھا کوئی کوئی غرقاب ہو گیا کیا کیا وفا سے ہوتی رہیں بے وفائیاں لٹتی ہے قید زلف میں کیا کیا بہار حسن تہہ میں اسیریوں کی ہیں کیا کیا رہائیاں ذات بشر ہزار گروہوں میں بٹ گئی گمراہ اور کر گئیں کچھ ...

مزید پڑھیے

نہایت انکساری عاجزی سے بات کرتے ہیں

نہایت انکساری عاجزی سے بات کرتے ہیں ہم ان سے جب وہ ہم سے بے رخی سے بات کرتے ہیں ہمارے ساتھ ہو تو مختصر سی بات ہوتی ہے چلا کرتی ہے پہروں جب کسی سے بات کرتے ہیں ہمیں کہتے ہیں دیکھو بھئی کسی سے بات مت کرنا اور اس پر خود جو ملتا ہے اسی سے بات کرتے ہیں تمہیں ہو ایک جن کو بات کرنے کا ...

مزید پڑھیے

چھپ چھپ کے تو شادؔ اس سے ملاقات کرے ہے

چھپ چھپ کے تو شادؔ اس سے ملاقات کرے ہے نادان وہ اک اک سے تری بات کرے ہے کچھ میرے بگڑنے سے چلے جاتے تھے اطوار اچھا ہے جو تو ترک عنایات کرے ہے تو مجھ سے جو کرتا ہے وہ رہتی ہے مجھی تک جو میں کروں اک اک سے تو وہ بات کرے ہے رنجش سے تو نفرت کی خلیج اور بڑھے گی آ پیار کریں پیار کرامات کرے ...

مزید پڑھیے

خواہ مفلسی سے نکل گیا یا تونگری سے نکل گیا

خواہ مفلسی سے نکل گیا یا تونگری سے نکل گیا وہی وقت اصل حیات تھا جو ہنسی خوشی سے نکل گیا اسے بھول جاؤں یہ کہہ کے میں وہ مرا نہیں تھا نہیں نہیں مجھے دے کے جو نئی زندگی مری زندگی سے نکل گیا کسے اپنا کہہ کے پکاریے کسے دل کے گھر میں اتارئیے وہ جو پیار نام کا وصف تھا خوئے آدمی سے نکل ...

مزید پڑھیے

جفا شعار بھی ہو کوئی مہرباں بھی رہے

جفا شعار بھی ہو کوئی مہرباں بھی رہے کسی کے لب پہ دعائیں بھی ہوں فغاں بھی رہے تری یہ دشمن جاں کو دعا جبین نیاز کہ تو رہے یہ تیرا سنگ آستاں بھی رہے حضور ان کے کہیں حرف مدعا تو مگر یہ دل بھی پہلو میں ہو منہ میں یہ زباں بھی رہے ادھر تباہی‌ و غارت گری ادھر تعمیر گری ہے برق بھی آباد ...

مزید پڑھیے

عجیب رت تھی برستی ہوئی گھٹائیں تھیں

عجیب رت تھی برستی ہوئی گھٹائیں تھیں زمیں نے پیاس کی اوڑھی ہوئی ردائیں تھیں وہ کیسا قافلہ گزرا وفا کی راہوں سے ستم کی ریت پہ پھیلی ہوئی جفائیں تھیں حصار ذات سے نکلا تو آگے صحرا تھا برہنہ سر تھے شجر چیختی ہوائیں تھیں وہ کون لوگ تھے جن کو سفر نصیب نہ تھا وگرنہ شہر میں کیا کیا کڑی ...

مزید پڑھیے

بچے ہوئے تھے جو پتے یہاں خزاؤں سے

بچے ہوئے تھے جو پتے یہاں خزاؤں سے بکھر گئے ہیں وہی نرم رو ہواؤں سے تپی منڈیر پہ بیٹھا ہوا پرندہ ہے ڈرا ہوا ہے وہ شاید شجر کی چھاؤں سے رتوں نے دیکھ لیا ہے چلن زمینوں کا برس رہی ہے تمازت یہاں گھٹاؤں سے فضائے شب سے کوئی آفتاب گزرا ہے سکوت گونج رہا ہے ابھی صداؤں سے عجیب روپ میں ...

مزید پڑھیے

برستی آگ میں گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں

برستی آگ میں گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں ہم آج موم کی صورت پگھل کے دیکھتے ہیں مقام شکر ہے اس دور میں بھی اہل نظر ادب کے چہرے پہ جگنو غزل کے دیکھتے ہیں ہزار ہم پہ کرے طنز دل کا آئینہ نئے زمانہ کے سانچے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں ہماری ماں ہمیں پہچانتی ہے یا کہ نہیں وطن کی آگ کو چہرے پہ مل ...

مزید پڑھیے

مسند نشین ہونے کی چاہت نہیں مجھے

مسند نشین ہونے کی چاہت نہیں مجھے منظور بے حسوں کی قیادت نہیں مجھے حق بات کے عوض میں ملی ہے سزائے موت گستاخیٔ زباں پہ ندامت نہیں مجھے نیچی بہت ہے قد سے مرے آسماں کی چھت ورنہ فلک سے کوئی شکایت نہیں مجھے قرآن جب پڑھا تو ہوا مجھ پہ منکشف دے گی فقط نماز ہی جنت نہیں مجھے میرا وجود ...

مزید پڑھیے
صفحہ 815 سے 4657