ہاتھ سے ہاتھ ملا دل سے طبیعت نہ ملی
ہاتھ سے ہاتھ ملا دل سے طبیعت نہ ملی آپ کے ساتھ مری ایک بھی عادت نہ ملی زندگی وقف اسی کے لیے کر دی ناداں ایک لمحہ جسے تیرے لئے فرصت نہ ملی عیش و آرام سے کیوں کر ہمیں ملتی تسکین جب ہمیں غم سے خوشی رنج سے راحت نہ ملی اس کو انسان تو کہتے ہوئے شرم آتی ہے تیری درگہ سے جسے رتی بھی غیرت ...