شاعری

کیا کہوں کب دھواں نہیں اٹھتا

کیا کہوں کب دھواں نہیں اٹھتا مجھ سے اپنا زیاں نہیں اٹھتا بھینچتے رہتے ہیں در و دیوار اور دل سے مکاں نہیں اٹھتا آبرو تھام تھام لیتی ہے ہاتھ ورنہ کہاں نہیں اٹھتا اٹھتی جاتی ہیں ساری امیدیں خدشۂ جسم و جاں نہیں اٹھتا ہاتھ اٹھتے رہے ہیں مجھ پر شاہؔ مجھ سے بار زباں نہیں اٹھتا

مزید پڑھیے

ستارے منتظر ہیں ساز کہکشاں لئے ہوئے

ستارے منتظر ہیں ساز کہکشاں لئے ہوئے زمیں کا چاند اٹھ رہا ہے آسماں لئے ہوئے جو دن ڈھلا ہوا رکی کچھ ایسی شام غم جھکی چراغ زندگی کی لو اٹھی دھواں لئے ہوئے کٹھن اگر ڈگر میں مرحلے تو تیز تر ہوں ولولے چلو نہ اس طرح متاع سرگراں لئے ہوئے نہ شاخ گل نہ آشیاں مگر کریں گے خستہ جاں طواف ...

مزید پڑھیے

ساز امید چھیڑ کر تاروں کی تھرتھری نہ دیکھ

ساز امید چھیڑ کر تاروں کی تھرتھری نہ دیکھ راز شکستگی سمجھ رنگ شکستگی نہ دیکھ خندۂ بے ضرر کہاں غنچہ و گل سے درس لے فطرت زندگی پہ جا عشرت زندگی نہ دیکھ ہوگی فضائے آشیاں سوز چمن سے سازگار برق گداز بن کے جی برق کی برہمی نہ دیکھ سود و زیاں کے مرحلے بچ اگر ان سے بچ سکے اپنے سے کچھ ...

مزید پڑھیے

سکوں تلاش نہ کر آرزو کے دیوانے

سکوں تلاش نہ کر آرزو کے دیوانے جو زندگی نے دیا ہے وہ زندگی جانے اس اہتمام سے اکثر اٹھے ہیں پیمانے کہ بوند بوند کو میں جانوں یا خدا جانے دکھے ہوئے دل آدم میں ہے امید کی دھوم ہیں ایک بات سے پیدا ہزار افسانے چراغ رہ سے غرض ہے نہ نقش پا کی تلاش یہ رہروی کوئی ناکردہ راہ کیا ...

مزید پڑھیے

یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے

یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے آنکھیں نہ ملائیں مری بالغ نظری نے منت کش پندار جنوں ہے دل پر خوں ان کا بھی سہارا نہ لیا بے خبری نے اے حسن دل آرا تری اک ایک ادا کو پروان چڑھایا مری حیرت نگری نے تھی مرحلۂ سخت وہ منزل کہ جہاں پر تم کو بھی سنبھالا مری آشفتہ سری نے تم خود ہی چلے ...

مزید پڑھیے

کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی حقیقتوں کا واسطہ عجیب شے ہے زندگی ترا خیال دے گیا ہے آسرا کہیں کہیں ترا فراق حوصلے بڑھا گیا کبھی کبھی اسی میں کچھ سکون ہے شعور غم کا ساتھ دیں یہی خوشی کی بات ہے چلے چلیں خوشی خوشی ہزار ٹوٹتے گئے طلسم روپ رنگ کے مگر نہ چین سے رہا مرا شعار بت ...

مزید پڑھیے

وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا

وہ ثمر تھا میری دعاؤں کا اسے کس نے اپنا بنا لیا مری آنکھ کس نے اجاڑ دی مرا خواب کس نے چرا لیا تجھے کیا بتائیں کہ دل نشیں ترے عشق میں تری یاد میں کبھی گفتگو رہی پھول سے کبھی چاند چھت پہ بلا لیا مجھے پہلے پہلے جو دیکھ کر ترا حال تھا مجھے یاد ہے کبھی جل گئیں تری روٹیاں کبھی ہاتھ تو ...

مزید پڑھیے

کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

کسی کی مہندی کا رنگ ہاتھوں سے دھو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی وہ دل سے چاہے جو میرا ہونا تو ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی جو شام ڈھلتے ہی میری آنکھوں میں جھلملاتا ہے چاند بن کر وہ اپنے سینے میں میری دھڑکن سمو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی جو اپنے زخموں کو میری نظروں سے دور رکھنے کا سوچتا ...

مزید پڑھیے

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تری کہانی ہے یا نہیں ہے

جو میری آنکھوں سے جھانکتی ہے تری کہانی ہے یا نہیں ہے اگر نہیں ہے تو پھر بتاؤ یہ رائیگانی ہے یا نہیں ہے کسی کے شجرے میں کیا لکھا ہے مجھے غرض ہی نہیں ہے اس سے زباں کھلے گی تو علم ہوگا وہ خاندانی ہے یا نہیں ہے میں اپنی تنہائی تن پہ اوڑھے پلٹ رہا ہوں یہ دیکھنے کو وہ آج بھی اپنی بے ...

مزید پڑھیے

وہ جو اک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے

وہ جو اک پھول ہے پتھر بھی تو ہو سکتا ہے نرم لہجہ کبھی خنجر بھی تو ہو سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ چاہت میں وہ سینے سے لگے اس لپٹنے کا سبب ڈر بھی تو ہو سکتا ہے دور سے پھول جسے آپ نے بھجوائے ہیں آپ سے مل کے وہ بہتر بھی تو ہو سکتا ہے ہم جسے آپ کے آنچل کی دھنک سمجھے ہیں کوئی خوش رنگ سا منظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 773 سے 4657