ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط
ہے دل کو میرے عارض جاناں سے ارتباط بلبل کو جس طرح ہو گلستاں سے ارتباط مجھ درد مند عشق کی تدبیر ہے عبث ہوگا نہ میرے درد کو درماں سے ارتباط بندہ ہوں عشق کا نہیں مذہب سے مجھ کو کام کیوں کر کروں میں گبرو مسلماں سے ارتباط ہے ربط مجھ کو کوچۂ جاناں سے روز و شب مجنوں کو جس طرح تھا ...