شاعری

ہم کچھ اس طرح حیات گزراں سے گزرے

ہم کچھ اس طرح حیات گزراں سے گزرے جیسے احساس کوئی خواب گراں سے گزرے یوں حقائق مری چشم نگراں سے گزرے جیسے اک موج ہوا آب رواں سے گزرے آگہی عین حقیقت ہے مگر شرط یہ ہے پہلے توفیق یقیں حد گماں سے گزرے باغ کا درد اسی پھول کے دل سے پوچھو مسکراتا ہوا جو دور خزاں سے گزرے دل کی ہر بات ہے ...

مزید پڑھیے

سو گیا اوڑھ کے پھر شب کی قبائیں سورج

سو گیا اوڑھ کے پھر شب کی قبائیں سورج جن کے دامن پہ چھڑکتا تھا ضیائیں سورج آج تک راکھ سمیٹی نہیں جاتی اپنی ہم نے چاہا تھا ہتھیلی پہ سجائیں سورج آنکھ بجھ جائے تو اک جیسے ہیں سارے منظر اپنی بینائی کے دم سے ہیں گھٹائیں سورج میری پلکوں پہ لرزتے ہوئے آنسو موتی میرے بجھتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

زندگی شب کے جزیروں سے ادھر ڈھونڈتے ہیں

زندگی شب کے جزیروں سے ادھر ڈھونڈتے ہیں آنکھ میں اشک جو چمکیں تو سحر ڈھونڈتے ہیں خاک کی تہہ سے ادھر کوئی کہاں ملتا ہے ہم کو معلوم ہے یہ بات مگر ڈھونڈتے ہیں کار دنیا سے الجھتی ہیں جو سانسیں اپنی زخم گنتے ہیں کبھی مصرعۂ تر ڈھونڈتے ہیں بے ہنر ہونا بھی ہے موت کی صورت اے دوست زندہ ...

مزید پڑھیے

صدائے مژدۂ لا تقنطوا کے دھارے پر

صدائے مژدۂ لا تقنطوا کے دھارے پر چراغ جلتے رہے آس کے مینارے پر عجیب اسم تھا لب پر کہ پاؤں اٹھتے ہی میں خود کو دیکھتا تھا عرش کے کنارے پر عجیب عمر تھی صدیوں سے رہن رکھی ہوئی عجیب سانس تھی چلتی تھی بس اشارے پر وہ ایک آنکھ کسی خواب کی تمنا میں وہ ایک خواب کہ رکھا ہوا شرارے پر اسی ...

مزید پڑھیے

ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجئے ناں

ٹھہر ٹھہر کے خدارا کلام کیجئے ناں اداس شب کا بھی کچھ احترام کیجئے ناں سنا ہے آپ کی آنکھیں ہیں بادشاہ آنکھیں نظر اٹھائیے ہم کو غلام کیجئے ناں یہ چند اہل محبت کا پیر و مرشد ہے یہ آ گیا ہے تو اٹھ کر سلام کیجئے ناں وہ شام جس میں ستاروں کے بھاگ جاگتے ہیں اک ایسی شام ہمارے بھی نام ...

مزید پڑھیے

ہر سمت بکھرتی ہوئی خوشبو کی طرح ہیں

ہر سمت بکھرتی ہوئی خوشبو کی طرح ہیں کچھ لوگ مرے شہر میں اردو کی طرح ہیں کچھ لوگ محبت کے پیمبر ہیں زمیں پر کچھ لوگ سیہ رات میں جگنو کی طرح ہیں گر سکتے ہیں دامن پہ کسی وقت بھی اب ہم رخسار پہ ٹھہرے ہوئے آنسو کی طرح ہیں سرہانے پہ رکھے ہوئے کچھ خواب ہمارے پھولوں سے بھرے آپ کے بازو کی ...

مزید پڑھیے

میں پور پور تلک عشق میں نکھرنے لگا

میں پور پور تلک عشق میں نکھرنے لگا ترا وصال محبت میں رنگ بھرنے لگا تبھی سے میرے بزرگوں کو فکر ہونے لگی میں ایک دن میں کئی بار جب سنورنے لگا مزا خلوص میں ہوتا ہے گفتگو میں نہیں جسے سمجھ نہیں آئی وہ بات کرنے لگا وہ جتنی دیر سے ڈوبا مری محبت میں میں اتنا جلد ہی اشعار میں ابھرنے ...

مزید پڑھیے

مشکل تو نہ تھا ایسا بھی افلاک سے رشتہ

مشکل تو نہ تھا ایسا بھی افلاک سے رشتہ توڑا ہی نہیں ہم نے مگر خاک سے رشتہ ہر صبح کی قسمت کہاں رخسار کی لالی ہر شب کا کہاں دیدۂ نمناک سے رشتہ بخشی ہے تجھے جس نے خد و خال کی دولت ہے میرے بدن کا بھی اسی چاک سے رشتہ چھوڑا ہے کسے فکر کے دریا نے سلامت راس آیا کسے موجۂ ادراک سے ...

مزید پڑھیے

خاک زادہ ہوں مگر تا بہ فلک جاتا ہے

خاک زادہ ہوں مگر تا بہ فلک جاتا ہے میرا ادراک بہت دور تلک جاتا ہے تیری نسبت کو چھپاتا تو بہت ہوں لیکن تیرا چہرہ مری آنکھوں سے جھلک جاتا ہے اک حقیقت سے ابھر آتا ہے ہر شے کا وجود ایک جگنو سے اندھیرا بھی چمک جاتا ہے یوں تو ممکن نہیں دشمن مرے سر پر پہنچے پہرے داروں میں کوئی آنکھ ...

مزید پڑھیے

کب گوارا ہے مجھے اور کہیں پر چمکے

کب گوارا ہے مجھے اور کہیں پر چمکے میرا سورج ہے تو پھر میری زمیں پر چمکے کتنے گلشن کہ سجے تھے مرے اقرار کے نام کتنے خنجر کہ مری ایک نہیں پر چمکے جس نے دن بھر کی تمازت کو سمیٹا چپ چاپ شب کو تارے بھی اسی دشت نشیں پر چمکے یہ تری بزم یہ اک سلسلۂ نکہت و نور جتنے تاریک مقدر تھے یہیں پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 774 سے 4657