ہم کچھ اس طرح حیات گزراں سے گزرے
ہم کچھ اس طرح حیات گزراں سے گزرے جیسے احساس کوئی خواب گراں سے گزرے یوں حقائق مری چشم نگراں سے گزرے جیسے اک موج ہوا آب رواں سے گزرے آگہی عین حقیقت ہے مگر شرط یہ ہے پہلے توفیق یقیں حد گماں سے گزرے باغ کا درد اسی پھول کے دل سے پوچھو مسکراتا ہوا جو دور خزاں سے گزرے دل کی ہر بات ہے ...