شاعری

ہاں ہمیں میرؔ کا دیوان نہیں ہونا ہے

ہاں ہمیں میرؔ کا دیوان نہیں ہونا ہے آپ سے مل کے پریشان نہیں ہونا ہے ہم کہ خود اپنے لیے اپنی انا سے کھیلیں ان کی تفریح کا سامان نہیں ہونا ہے خیریت چاہنے والو میں تری یاد کا ذکر بھری محفل میں بیابان نہیں ہونا ہے لاکھ امید کھلاتی رہے آنکھوں میں گلاب اس سمندر کو گلستاں نہیں ہونا ...

مزید پڑھیے

تیری مرضی کے خد و خال میں ڈھلتا ہوا میں

تیری مرضی کے خد و خال میں ڈھلتا ہوا میں خاک سے آب نہ ہو جاؤں پگھلتا ہوا میں اے خزاں میں تجھے خوش رنگ بنا سکتا تھا تجھ سے دیکھا نہ گیا پھولتا پھلتا ہوا میں مجھ کو مانگی ہوئی عزت نہیں پوری آتی ٹوٹ جاؤں نہ یہ پوشاک بدلتا ہوا میں شعبدہ گر نہیں مہمان صف یاراں ہوں زہر پیتا ہوا اور شہد ...

مزید پڑھیے

جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے

جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے سفر ہمارے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے میں سر بہ سجدہ سکوں میں نہیں سفر میں ہوں جبیں پہ داغ نہیں آبلہ بنا ہوا ہے میں کیا کروں مرا گوشہ نشین ہونا بھی پڑوسیوں کے لیے واقعہ بنا ہوا ہے مگر میں عشق میں پرہیز سے بندھا ہوا ہوں ترا وجود تو خوش ذائقہ بنا ہوا ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں میں دھواں ہو کے بھی حصار میں ہوں اب مجھے بولنا نہیں پڑتا اب میں ہر شخص کی پکار میں ہوں جس کے آگے ہے آئینہ دیوار میں بھی کرنوں کی اس قطار میں ہوں آہٹوں کا اثر نہیں مجھ پر جانے میں کس کے انتظار میں ہوں پردہ پوشی تری مجھی سے ہے تیرے آنچل کے تار تار میں ...

مزید پڑھیے

رنگ نظر سے حسن تمنا نکھار کے

رنگ نظر سے حسن تمنا نکھار کے بیٹھی ہوں آج کاکل ہستی سنوار کے گزری ہوں میں نفس کی کشاکش سے جس طرح دھاروں سے لڑ رہی تھی کسی آبشار کے پاؤں کے آبلوں سے نہ پوچھو سفر کا حال قصے ہیں دردناک رہ خار زار کے دور خزاں گیا نہ گیا اس سے کیا غرض منظر جما لئے ہیں نظر میں بہار کے وقت سحر ہے گرچہ ...

مزید پڑھیے

سکوں کا ایک بھی لمحہ جو دل کو ملتا ہے

سکوں کا ایک بھی لمحہ جو دل کو ملتا ہے یہ دل خیال کی وادی میں جا نکلتا ہے یہ روشنی مرے دل میں ترے خیالوں کی کہ اک چراغ سا ویراں کدے میں جلتا ہے مہک رہی ہے تری یاد کی کلی ایسے کہ پھول جیسے بیاباں میں کوئی کھلتا ہے خلا میں میری نظر جب کہیں اٹکتی ہے ترے وجود کا پیکر وہیں پہ ڈھلتا ...

مزید پڑھیے

یوں اپنے خوابوں میں گرتا سنبھلتا رہتا ہوں

یوں اپنے خوابوں میں گرتا سنبھلتا رہتا ہوں میں تیری یاد سے آگے نکلتا رہتا ہوں وہ میری نیندوں میں اترے تو کیوں نہ تھک جائے میں اپنے خوابوں کے منظر بدلتا رہتا ہوں میں ڈھونڈ لیتا ہوں ہر بار کوئی اوس کی بوند پھر اس کی یاد کی بھٹی میں جلتا رہتا ہوں وہ ایک نام جو بے چین کرتا رہتا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا جو لا حاصل ضروری ہے تو حاصل سے نکالوں گا مرے خوں سے زیادہ تو مری مٹی میں شامل ہے تجھے دل سے نکالوں گا تو کس دل سے نکالوں گا مجھے معلوم ہے اک چور دروازہ عقب میں ہے مگر اس بار میں رستہ مقابل سے نکالوں گا شبیہوں کی طرح قبریں مجھے آواز دیتی ...

مزید پڑھیے

بچھڑ گیا تھا کوئی خواب دل نشیں مجھ سے

بچھڑ گیا تھا کوئی خواب دل نشیں مجھ سے بہت دنوں مری آنکھیں جدا رہیں مجھ سے میں سانس تک نہیں لیتا پرائی خوشبو میں جھجھک رہی ہے یوں ہی شاخ یاسمیں مجھ سے مرے گناہ کی مجھ کو سزا نہیں دیتا مرا خدا کہیں ناراض تو نہیں مجھ سے یہ شاہکار کسی ضد کا شاخسانہ ہے الجھ رہا تھا بہت نقش اولیں مجھ ...

مزید پڑھیے

مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے

مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے مرے وجود کا حصہ نہ رکھ جدا مجھ سے وہ ناسمجھ مجھے پتھر سمجھ کے چھوڑ گیا وہ چاہتا تو ستارے تراشتا مجھ سے اس ایک خط نے سخنور بنا دیا مجھ کو وہ ایک خط کہ جو لکھا نہیں گیا مجھ سے اسے ہی ساتھ گوارا نہ تھا مرا ورنہ کسے مجال کوئی اس کو چھینتا مجھ سے ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 750 سے 4657