شاعری

کبھی کابل کبھی ڈھاکہ کبھی رنگون سے نکلے

کبھی کابل کبھی ڈھاکہ کبھی رنگون سے نکلے نہ جانے کتنے ہی دریا ہمارے خون سے نکلے ہم اپنا نفس امارہ سمجھنے سے رہے قاصر کتاب نفس پڑھ کر آگے افلاطون سے نکلے اجازت میں نہیں دوں گا مرا دل توڑ جانے کی مرے دل سے جو نکلے قاعدے قانون سے نکلے اسے تو بولنے والا ہی اب بہتر بتائے گا ہزاروں ...

مزید پڑھیے

جو قابل ہوں اس کے انہیں سے کرو

جو قابل ہوں اس کے انہیں سے کرو محبت حسیں ہے حسیں سے کرو چلو تم کو پرپوز کرتا ہوں میں شروعات تم بھی نہیں سے کرو کسی اور کے پاس کیوں جاؤ گے ہماری برائی ہمیں سے کرو تمہیں جب کسی پر بھروسہ نہیں تو شک ہی کرو پر یقیں سے کرو سفر بعد مرنے کے اک اور ہے جہاں ختم ہو پھر وہیں سے کرو جو سچ ...

مزید پڑھیے

چراغ دل جلانے میں بہت ہی دیر کر دی ہے

چراغ دل جلانے میں بہت ہی دیر کر دی ہے سراغ درد پانے میں بہت ہی دیر کر دی ہے حریر و پرنیاں خوشبو جڑاؤ ہاتھ کے کنگن گل و لالہ سجانے میں بہت ہی دیر کر دی ہے کہیں پتھر نہ ہو جائیں مری یہ منتظر آنکھیں پلٹ کر تم نے آنے میں بہت ہی دیر کر دی ہے چلو کچھ مختصر کر دیں غم و آلام کا قصہ تمہیں ...

مزید پڑھیے

چند گھڑیاں نہیں گزری تھیں شناسائی کو

چند گھڑیاں نہیں گزری تھیں شناسائی کو شعلہ اندام چلے آئے پذیرائی کو کون جانے وہ حسیں تھا کہ تمنا میری ڈھونڈ لائی تھی کہیں سے مری رسوائی کو عکس ٹھہرا تھا مرے دیدۂ تر میں کب سے آئینہ ڈھونڈ نہ پایا رخ زیبائی کو ٹوٹ کر ریزہ ہوئے جاتے ہیں سب خواب مرے کہہ دو گریہ نہ کرے چشم تماشائی ...

مزید پڑھیے

جو تھے منزلوں کے فراق میں سبھی راستے وہ مٹا دیے

جو تھے منزلوں کے فراق میں سبھی راستے وہ مٹا دیے سر شام ہی جو بھڑک اٹھے وہ الاؤ میں نے بجھا دیے میں فریب‌ وقت میں قید تھی رخ کارواں نہ بدل سکی کڑی دھوپ میں جو ملے شجر تو وہیں پہ ڈیرے جما دیے تھا عجیب میرا بھی ناخدا اسے آزمانا تھا حوصلہ مجھے ظلمتوں کے سپرد کر کے چراغ سارے بڑھا ...

مزید پڑھیے

چاک پہ رکھے ہیں تصویر بنا دی جائے

چاک پہ رکھے ہیں تصویر بنا دی جائے ورنہ اس جگہ سے یہ مٹی ہٹا دی جائے تم نے کیا سوچ کے رکھا ہے یہاں کوزہ گرو گر نہیں ڈھالنا تو وجہ بتا دی جائے رنگ و خوشبو تو ازل سے مری کمزوری ہے سبز موسم سے مری دنیا سجا دی جائے ہو گیا کوچہ تہمت میں تو جینا مشکل جرم کی اب تو سزا ہم کو سنا دی ...

مزید پڑھیے

دوست بن کر دوستوں کی بے وفائی دیکھیے

دوست بن کر دوستوں کی بے وفائی دیکھیے کج ادائی دیکھیے بے اعتنائی دیکھیے رہ گزار شوق میں ہم رکھ تو بیٹھے ہیں قدم جانے کب منزل پہ ہو اپنی رسائی دیکھیے کس بلا کا سحر تھا ان کی نگاہ ناز میں دل نے خود بڑھ کر نظر کی چوٹ کھائی دیکھیے میرے سجدوں کے مقدر میں وہ سنگ در نہ تھا میری پیشانی ...

مزید پڑھیے

نوائے وقت کا اترا ابھی خمار نہیں

نوائے وقت کا اترا ابھی خمار نہیں ابھی تلک تو مجھے خود پہ اختیار نہیں ہوا ہے یہ بھی کہ صحرا میں پھول کھلتے ہیں سفر نصیب کے حصے میں کیوں بہار نہیں طلسم جان کے سب راز کھول دوں کیسے نہیں نہیں مجھے خود پر بھی اعتبار نہیں شب سیاہ چھپاتی ہے میرے داغوں کو اسے یہ کہہ دو کہ گیسو ابھی ...

مزید پڑھیے

حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے

حرص و ہوس کے آگے نہ کچھ بھی دکھائی دے انسان اپنے قد سے بھی چھوٹا دکھائی دے اپنے دلوں کا کھوٹ نظر آتا نہیں ہے سکہ پرایا ہو تو وہ کھوٹا دکھائی دے کوئی تو ایسا شخص مجھے ڈھونڈ کے لا دو انسانیت کا بوجھ جو ڈھوتا دکھائی دے کیا نازکی ہے آج دل فتنہ ساز کی خود کو لگے جو ٹھیس تو روتا ...

مزید پڑھیے

غبار راہ بنی میں رہ غبار میں ہوں

غبار راہ بنی میں رہ غبار میں ہوں نہ جانے کون ہے میں جس کے انتظار میں ہوں وہ مجھ سے ملنے پلٹ کر ضرور آئے گا بہت زمانے سے امید کے حصار میں ہوں یہ جبر و قدر کا چکر ازل سے چلتا ہے کبھی یہ سوچا نہیں کس کے اختیار میں ہوں یہ لوگ کون ہیں کیسے ہیں کچھ نہیں معلوم میں بس ہجوم کا حصہ ہوں کس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 738 سے 4657