شاعری

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب

شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب کبھی تو دیکھ مرے ہم نشین کی جانب میں اپنا زخم دکھاؤں تجھے کہ میں دیکھوں لہو میں ڈوبی ہوئی آستین کی جانب ان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا گریز پلٹ رہا ہوں میں اپنی زمین کی جانب کچھ اپنے حرف کے موتی کچھ اپنے لفظ کے پھول اچھال آیہ ہوں اس نازنین کی ...

مزید پڑھیے

کوچۂ سنگ ملامت کے سب آثار کے ساتھ

کوچۂ سنگ ملامت کے سب آثار کے ساتھ آ گئے دشت میں ہم بھی در و دیوار کے ساتھ دشت وحشت نے مرے نوچ لی شب کی پوشاک توڑ دی پاؤں کی زنجیر بھی جھنکار کے ساتھ میری تنہائی میں اک وجد کی کیفیت ہے رقص کرتا ہوں میں اک عالم اسرار کے ساتھ گونجتا ہے مرے سینے کے نہاں خانے میں سانس لیتا ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

ابر لکھتی ہے کہیں اور گھٹا لکھتی ہے

ابر لکھتی ہے کہیں اور گھٹا لکھتی ہے روز اک زخم مرے نام ہوا لکھتی ہے زرد پتوں کی چمکتی ہوئی پیشانی پر ہے کوئی نام جسے باد صبا لکھتی ہے جو مرے نام سے منسوب نہیں ہے لیکن وہ فسانہ بھی مرا خلق خدا لکھتی ہے اے مری جان محبت بھی عجب شے ہے کہ جو کوچۂ گرد ملامت کو وفا لکھتی ہے سن کسی ...

مزید پڑھیے

میں کیا ہوں کون ہوں یہ بتانے سے میں رہا

میں کیا ہوں کون ہوں یہ بتانے سے میں رہا اب خود کو خود سے خود کو ملانے سے میں رہا میں لڑ پڑا ہوں آج خود اپنے خلاف ہی اب درمیاں سے خود کو ہٹانے سے میں رہا ہے زندگی اسیر عدم جانتا ہوں میں دنیا ترے فریب میں آنے سے میں رہا مجھ میں کہاں ہے تجھ سے جدائی کا حوصلہ اے میری جان تجھ کو گنوانے ...

مزید پڑھیے

ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن

ننھا سا دیا ہے کہ تہہ آب ہے روشن بجھتی ہوئی آنکھوں میں کوئی خواب ہے روشن سنسان جزیرے میں چمکتا ہوا تارا دل ہے کہ کوئی کشتیٔ شب تاب ہے روشن دہشت کے فرشتے ہیں فصیلوں پہ ہوا کی اور چاروں طرف شہر کے سیلاب ہے روشن میں ڈوبتا جاتا ہوں تری موج بدن میں یوں رقص میں کرنیں ہیں کہ گرداب ہے ...

مزید پڑھیے

ہمیں خبر بھی نہیں یار کھینچتا ہے کوئی

ہمیں خبر بھی نہیں یار کھینچتا ہے کوئی ہمارے بیچ میں دیوار کھینچتا ہے کوئی یہ کیسا دشت تحیر ہے یاں سے کوچ کرو ہمارے پاؤں سے رفتار کھینچتا ہے کوئی ہے چاک چاک ہمارے لہو کا پیراہن ہماری روح سے جھنکار کھینچتا ہے کوئی میں چل رہا ہوں مسلسل بنا توقف کے مجھے بہ صورت پرکار کھینچتا ہے ...

مزید پڑھیے

اپنی تنہائی کا سامان اٹھا لائے ہیں

اپنی تنہائی کا سامان اٹھا لائے ہیں آج ہم میرؔ کا دیوان اٹھا لائے ہیں ان دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہے گھر میں ہم دشت و بیابان اٹھا لائے ہیں وسعت حلقۂ زنجیر کی آواز کے ساتھ ہم وہ قیدی ہیں کہ زندان اٹھا لائے ہیں میرے سانسوں میں کوئی گھولتا رہتا ہے الاؤ اپنے سینے میں وہ ...

مزید پڑھیے

آج پھر روبرو کرو گے تم

آج پھر روبرو کرو گے تم مجھ سے کیا گفتگو کرو گے تم مجھ سے لو گے مرے لہو قصاص پھر مجھے سرخ رو کرو گے تم حیف ہو میری بد مزاجی پر آپ اپنا لہو کرو گے تم تم گنوا دو گے ایک دن مجھ کو پھر مری جستجو کرو گے تم تم صف دوستاں میں ہو لیکن پھر بھی کار عدو کرو گے تم زخم پر زخم کھائے جاتے ہو اور ...

مزید پڑھیے

ہجر کی رات ہے اس کو شب ماتم نہ بنا

ہجر کی رات ہے اس کو شب ماتم نہ بنا وصل لمحوں کو سجا زمزمۂ غم نہ بنا کرچیاں ٹوٹ کے بکھری ہیں ترے چاروں طرف ریزۂ دل کو اٹھا زخم کا مرہم نہ بنا گر بچھڑنا ہے تو اک فیصلہ کر لیتے ہیں اس کو تقدیر سمجھ درد کا موسم نہ بنا سارے سپنے بہا لے جائیں گے آنسو تیرے نیم خواب آنکھوں کو تو دیدۂ پر ...

مزید پڑھیے

محبت جب منافع یا خسارا سوچ کر کرتے

محبت جب منافع یا خسارا سوچ کر کرتے تو پھر ہم بھی ترے دل میں گزارا سوچ کر کرتے تمہیں جب دل میں رہنا تھا مرے تو پھر مرے دل پر ستم کرتے کرم کرتے خدارا سوچ کر کرتے سہارے کی ضرورت جب مجھے بھی تھی تمہیں بھی تھی تو بہتر تھا مجھے تم بے سہارا سوچ کر کرتے اگر پہلے دیا ہوتا سلیقے سے جواب ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 737 سے 4657