شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب
شکستہ جسم دریدہ جبین کی جانب کبھی تو دیکھ مرے ہم نشین کی جانب میں اپنا زخم دکھاؤں تجھے کہ میں دیکھوں لہو میں ڈوبی ہوئی آستین کی جانب ان آسمان مزاجوں سے ہے بلا کا گریز پلٹ رہا ہوں میں اپنی زمین کی جانب کچھ اپنے حرف کے موتی کچھ اپنے لفظ کے پھول اچھال آیہ ہوں اس نازنین کی ...