شاعری

عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا

عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا اور اس دل نے بنا ڈالا تماشا دل کا بعد تیرے کوئی نظروں میں سمایا ہی نہیں اب صدا دیتا نہیں خالی یہ کاسہ دل کا ایک طوفان ہے روکے سے نہیں جو رکتا موج نے توڑ دیا ہو نہ کنارا دل کا دو گھڑی چین سے جینے نہیں دیتا ناداں جان پاتے ہی نہیں کیا ہے ارادہ دل ...

مزید پڑھیے

اندھیری رات میں ہم نے دیے جلائے ہیں

اندھیری رات میں ہم نے دیے جلائے ہیں چلی ہیں آندھیاں پھر بھی نہ ٹمٹمائے ہیں ہیں راہ حق کے مسافر ذرا سمجھ لینا خدائے نور نے رستے ہمیں دکھائے ہیں زمانہ ہم کو بدل پایا ہی نہیں لیکن سبق زمانے کو ہم نے بہت سکھائے ہیں ہمیں مٹانے کی کاوش بھی رائیگاں سمجھو ہم حق کی راہ سے باطل مٹا کے ...

مزید پڑھیے

مری طرح سے کہیں خاک چھانتا ہوگا

مری طرح سے کہیں خاک چھانتا ہوگا وہ اپنی ذات کے صحرا میں کھو گیا ہوگا شرار راکھ میں باقی رہا نہیں کوئی چراغ دل کا مرے جل کے بجھ گیا ہوگا جو میری جھیل سی آنکھوں میں ڈوب ڈوب گیا ستارہ وار کہیں خود کو ڈھونڈھتا ہوگا پھر آج قریۂ جاں پر عذاب اترے ہیں کسی نے پھر نیا ترکش سجا لیا ...

مزید پڑھیے

میں انتہائے یاس میں تنہا کھڑا رہا

میں انتہائے یاس میں تنہا کھڑا رہا سایہ مرا شریک سفر ڈھونڈھتا رہا پھیلی تھی چاروں سمت سیاہی عجیب سی میں ہاتھ میں چراغ لیے گھومتا رہا یاد اس کی دور مجھ کو سر شام لے گئی میں ساری رات اپنے لیے جاگتا رہا خود کو سمیٹ لینے کا انجام یہ ہوا میں راستے پہ سنگ کی صورت پڑا رہا کاغذ کی ناؤ ...

مزید پڑھیے

جو دیکھتا ہے مجھے آئینہ کے اندر سے

جو دیکھتا ہے مجھے آئینہ کے اندر سے وہ کون ہے کوئی پوچھے بھی اس ستم گر سے سکوت ٹوٹ گیا خامشی کے جنگل کا مری صدائیں اٹھیں اس طرح مرے گھر سے میں ایک تنکے کی صورت ہمیشہ بہتا رہا مجھے مفر نہ ملا وقت کے سمندر سے مرے دیار میں ماضی کی جو تھیں تصویریں سبھوں کو توڑ دیا میں نے آج پتھر ...

مزید پڑھیے

لہو کا داغ نہ تھا زخم کا نشان نہ تھا

لہو کا داغ نہ تھا زخم کا نشان نہ تھا وہ مر چکا تھا کسی کو مگر گمان نہ تھا میں چل پڑا تھا کہیں اجنبی دشاؤں میں ہوا کا زور تھا کشتی میں بادبان نہ تھا میں اس مکان میں مدت سے قید تھا کہ جہاں کوئی زمین نہ تھی کوئی آسمان نہ تھا مری شکست مری فتح کچھ نہیں یعنی وہ حادثہ تھا کوئی میرا ...

مزید پڑھیے

کیوں کہتے ہو پاؤں نہیں گھر چلتا ہے

کیوں کہتے ہو پاؤں نہیں گھر چلتا ہے ایسی ہی باتوں پر خنجر چلتا ہے آسودہ ہے کون تماشا بینی سے آنکھیں تھک جاتی ہیں منظر چلتا ہے رات گئے سب آپس میں مل جاتے ہیں خوابوں کی دنیا میں بستر چلتا ہے شیشے کا گھر اچھا لگتا ہے لیکن شیشے کے گھر پر ہی پتھر چلتا ہے پیاس بجھانا ساحل ساحل جا کر ...

مزید پڑھیے

غم مجھ سے کسی طور سمیٹا نہیں جاتا

غم مجھ سے کسی طور سمیٹا نہیں جاتا پہرا ہے مری سوچ پہ بولا نہیں جاتا اب دل کے دھڑکنے کی صدا بھی نہیں آتی اور قریۂ خواہش سے بھی نکلا نہیں جاتا سجدے کے نشانوں سے جبیں زخم ہوئی ہے اور تجھ سے مقدر مرا بدلا نہیں جاتا سورج کے نکلنے کی خبر مجھ کو بھی کرنا ظلمت کدۂ شب میں تو ٹھہرا نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ سامنے ہوں مرے اور نظر جھکی نہ رہے

وہ سامنے ہوں مرے اور نظر جھکی نہ رہے متاع زیست لٹا کر کوئی کمی نہ رہے دئے جلائے ہیں میں نے کھلے دریچوں پر اے تند و تیز ہوا تجھ کو برہمی نہ رہے بتاؤ ایسا بھی منظر نظر سے گزرا ہے چراغ جلتے رہیں اور روشنی نہ رہے کوئی بھی لمحہ گزرتا نہیں ہے تیرے بغیر تعلقات میں ایسی بھی چاشنی نہ ...

مزید پڑھیے

جلتی بجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں رہتا ہے

جلتی بجھتی ہوئی شمعوں کا دھواں رہتا ہے کچھ عجب دھند کے عالم میں مکاں رہتا ہے خشک دریا ہے نہ دریا پہ ہے پہرہ لیکن ہر طرف پیاس کا خوں رنگ سماں رہتا ہے اس بھرے شہر میں مشکل ہے تجسس اس کا کس کو فرصت جو کہے کون کہاں رہتا ہے بھولنا سہل نہیں وقت کی سنگینی کا زخم بھرتا ہے مگر اس کا نشاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 739 سے 4657