عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا
عشق کو اپنے لیے سمجھا اثاثہ دل کا اور اس دل نے بنا ڈالا تماشا دل کا بعد تیرے کوئی نظروں میں سمایا ہی نہیں اب صدا دیتا نہیں خالی یہ کاسہ دل کا ایک طوفان ہے روکے سے نہیں جو رکتا موج نے توڑ دیا ہو نہ کنارا دل کا دو گھڑی چین سے جینے نہیں دیتا ناداں جان پاتے ہی نہیں کیا ہے ارادہ دل ...