شاعری

نشتر غم جو رگ جاں میں اتر جاتا ہے

نشتر غم جو رگ جاں میں اتر جاتا ہے اور کچھ حوصلۂ‌ شوق نکھر جاتا ہے حال بیمار کا کچھ ٹھیک نہیں ہے شاید جو بھی آتا ہے دبے پاؤں گزر جاتا ہے احتیاط ان کو سر بزم نہ مل جائے نظر اور مجھے غم ہے کہ ناموس نظر جاتا ہے رہرو راہ محبت کا سہارا ہے یہی غم جو جاتا ہے تو سامان سفر جاتا ہے فتنۂ ...

مزید پڑھیے

دستک دیتی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

دستک دیتی صرف ہوا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے دیر سے کوئی در پہ کھڑا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے شاخ ارماں سونی ہے تو کیا الزام بہاروں پر پھول کسی نے توڑ لیا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے ایک تغافل پروردہ تو خوگر غم ہو جاتا ہے لطف و کرم سے درد بڑھا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے آدھی رات ہے بند پڑے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہر سمت روشنی تھی جدھر بھی نظر اٹھی

ہر سمت روشنی تھی جدھر بھی نظر اٹھی لیکن وہ اک نگاہ نہ جانے کدھر اٹھی یہ کون نغمہ سنج و غزل خواں گزر گیا گلشن سے جھومتی ہوئی باد سحر اٹھی وہ انتظار یار کے لمحات الاماں درد جگر بڑھا تو نظر سوئے در اٹھی افسانے آنسوؤں سے ہزاروں ابل پڑے پھر آج جو نگاہ مری بام پر اٹھی کس نے یہاں ...

مزید پڑھیے

مرا ہی خوف ہر اک موڑ پر ملے ہے مجھے

مرا ہی خوف ہر اک موڑ پر ملے ہے مجھے نواح جاں کوئی آسیب سا لگے ہے مجھے میں داستاں کی طرح ہر صدی کے ذہن میں ہوں کوئی لکھے ہے مجھے اور کوئی پڑھے ہے مجھے جو میرے قد کو اندھیروں میں چھوڑ آیا تھا شعاع زر کی طرح ساتھ لے چلے ہے مجھے میں کیا ہوں کون ہوں پہچان میں نہیں آتا جو جس کے جی میں ...

مزید پڑھیے

بہ احتیاط مرے پاس سے گزر بھی گیا

بہ احتیاط مرے پاس سے گزر بھی گیا وہ بے نیاز رہا اور با خبر بھی گیا نہ تن کا ہوش رہا اور نہ جاں عزیز ہوئی وہ معرکہ تھا کہ احساس تیغ و سر بھی گیا تمہیں میں تھا وہ مگر تم نہ اس کو جان سکے اور اب تو وادئ لا سمت میں اتر بھی گیا سنبھالے بیٹھے تھے دستار دونوں ہاتھوں سے اٹھی وہ موج کہ ...

مزید پڑھیے

مرکز چشم ہے اب لعل و گہر کا سودا

مرکز چشم ہے اب لعل و گہر کا سودا ننگ بازار ہوا دیدۂ تر کا سودا آج چولھے سے اٹھے گا کوئی شعلہ نہ دھواں آج لوٹا ہی نہیں لے کے وہ گھر کا سودا صاحب سر کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی اور ہو جاتا ہے بازار میں سر کا سودا اب میسر ہے نہ صحرا نہ بیاباں کوئی لے کے جائے گا کہاں مجھ کو یہ سر کا ...

مزید پڑھیے

اپنے روز و شب کا عالم کربلا سے کم نہیں

اپنے روز و شب کا عالم کربلا سے کم نہیں عرصۂ ماتم ہے لیکن فرصت ماتم نہیں صرف جذب شوق میں پوریں لہو کرتے رہے ہم وہاں الجھے جہاں پر کوئی پیچ و خم نہیں کوئی روگ ایسا نہیں جو قریۂ جاں میں نہ ہو کوئی سوگ ایسا نہیں جس میں کہ شامل ہم نہیں کوئی لے ایسی نہیں جو صرف ہنگامہ نہیں ایک بھی سر ...

مزید پڑھیے

دیر ہو جائے گی پھر کس کو سنائی دو گے

دیر ہو جائے گی پھر کس کو سنائی دو گے دشت خود بول اٹھے گا تو دہائی دو گے اب تو اس پردۂ افلاک سے باہر آ جاؤ ہم بھی ہو جائیں گے منکر تو دکھائی دو گے؟ اب اسیران قفس جیسے قفس میں بھی نہیں اب کہاں ہوگی رہائی جو رہائی دو گے شمعیں روشن ہیں تو کیا عالم بے چہرگی میں تم کوئی بھی ہو مگر کس کو ...

مزید پڑھیے

خواہ محصور ہی کر دیں در و دیوار مجھے

خواہ محصور ہی کر دیں در و دیوار مجھے گھر کو بننے نہیں دینا کبھی بازار مجھے میں اسے دست عدو میں نہیں جانے دوں گا سر کی قیمت پہ بھی مہنگی نہیں دستار مجھے میں جو چلتا ہوں تو آنکھیں بھی کھلی رکھتا ہوں اتنا سادہ بھی نہ سمجھیں مرے سالار مجھے پھر توازن میں رہے گی مری ناؤ کب تک جب ...

مزید پڑھیے

دیکھ ان آنکھوں سے کیا جل تھل کر رکھا ہے

دیکھ ان آنکھوں سے کیا جل تھل کر رکھا ہے غم سی آگ کو ہم نے بادل کر رکھا ہے جس نے راہ کے پیڑوں کی سب شاخیں کاٹیں سب نے اسی کے سر پر آنچل کر رکھا ہے کوئی پہاڑ ہے اپنی ذات کے اندر جس نے خود ہم سے بھی ہم کو اوجھل کر رکھا ہے پتھر لے کر سارا شہر ہے اس کے پیچھے اک پاگل نے سب کو پاگل کر رکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 699 سے 4657