شاعری

زندگی کو ہم وفا تک وہ جفا تک لے گئے

زندگی کو ہم وفا تک وہ جفا تک لے گئے اپنے اپنے فن کو دونوں انتہا تک لے گئے لغزشوں میں کیا معافی کی توقع ہو کہ جب بے گناہی کو بھی میری وہ سزا تک لے گئے ساحلوں پر اور بھی خوش ذوق تھے لیکن مجھے پانیوں کے رنگ ہر موج بلا تک لے گئے جی رہی ہے اب تو بستی ایک سناٹے کے ساتھ جبر کے موسم ...

مزید پڑھیے

دشمن جاں بھی وہی حاصل ارماں بھی وہی

دشمن جاں بھی وہی حاصل ارماں بھی وہی غم کا ساماں بھی وہی درد کا درماں بھی وہی لطف گل گشت مگر اب وہ کہاں تیرے بغیر رنگ گلشن ہے وہی جوش بہاراں بھی وہی بعد دیوانے کے اگلی سی وہ رونق نہ رہی بزم خوباں ہے وہی شہر نگاراں بھی وہی آج تک آتش غم جان جہاں کم نہ ہوئی زخم ہیں اب بھی وہی سوزش ...

مزید پڑھیے

روز میں اک شجر سے ملتا ہوں

روز میں اک شجر سے ملتا ہوں زندگی کیا بھنور سے ملتا ہوں اس سے پہلے اداسی چھا جائے میں خوشی کی خبر سے ملتا ہوں عشق میں کون دل جلائے اب وجد میں اک سفر سے ملتا ہوں شہر امید مجھ سے واقف ہے اس لئے کر و فر سے ملتا ہوں میں ہوں اک حادثہ گئی رت کا قصۂ معتبر سے ملتا ہوں کوستی رہ گئی زمیں ...

مزید پڑھیے

آنکھ پر ریت مل رہے ہیں ہم

آنکھ پر ریت مل رہے ہیں ہم سو زمیں کو بھی کھل رہے ہیں ہم ہم کو معلوم بے خودی اپنی پھر بھی صحرا میں چل رہے ہیں ہم واسطے دے رہا ہے صحرا بھی خامشی کو نگل رہے ہیں ہم زرد پتے صدائیں دیتے ہیں ان کو پل پل کچل رہے ہیں ہم میرؔ کی کیا غزل سنی ہم نے عاشقی میں بھی جل رہے ہیں ہم جب سے دیکھا ہے ...

مزید پڑھیے

اس دشت کی وسعت میں سمٹ کر نہیں دیکھا

اس دشت کی وسعت میں سمٹ کر نہیں دیکھا اک عمر چلے اور پلٹ کر نہیں دیکھا ہم اہل نظر ہو کے بھی کب اہل نظر تھے حالات کو خود سے کبھی ہٹ کر نہیں دیکھا احباب کی بانہوں کا نشہ اور ہے لیکن تو نے کبھی دشمن سے لپٹ کر نہیں دیکھا اک درد کے دھاگے میں پروئے ہیں ازل سے اس رشتۂ موہوم سے کٹ کر نہیں ...

مزید پڑھیے

تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے

تجھ کو سوچوں تو ترے جسم کی خوشبو آئے میری غزلوں میں علامت کی طرح تو آئے میں تجھے چھیڑ کے خاموش رہوں سب بولیں باتوں باتوں میں کوئی ایسا بھی پہلو آئے قرض ہے مجھ پہ بہت رات کی تنہائی کا میرے کمرے میں کوئی چاند نہ جگنو آئے لگ کے سوئی ہے کوئی رات مرے سینے سے صبح ہو جائے کہ جذبات پہ ...

مزید پڑھیے

ایک سوراخ سا کشتی میں ہوا چاہتا ہے

ایک سوراخ سا کشتی میں ہوا چاہتا ہے سب اثاثہ مرا پانی میں بہا چاہتا ہے مجھ کو بکھرایا گیا اور سمیٹا بھی گیا جانے اب کیا مری مٹی سے خدا چاہتا ہے ٹہنیاں خشک ہوئیں جھڑ گئے پتے سارے پھر بھی سورج مرے پودے کا بھلا چاہتا ہے ٹوٹ جاتا ہوں میں ہر روز مرمت کر کے اور گھر ہے کہ مرے سر پہ گرا ...

مزید پڑھیے

دھوپ سے بر سر پیکار کیا ہے میں نے

دھوپ سے بر سر پیکار کیا ہے میں نے اپنے ہی جسم کو دیوار کیا ہے میں نے جب بھی سیلاب مرے سر کی طرف آیا ہے اپنے ہاتھوں کو ہی پتوار کیا ہے میں نے جو پرندے مری آنکھوں سے نکل بھاگے تھے ان کو لفظوں میں گرفتار کیا ہے میں نے پہلے اک شہر تری یاد سے آباد کیا پھر اسی شہر کو مسمار کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

قدم اٹھے ہیں تو دھول آسمان تک جائے

قدم اٹھے ہیں تو دھول آسمان تک جائے چلے چلو کہ جہاں تک بھی یہ سڑک جائے نظر اٹھاؤ کہ اب تیرگی کے چہرے پر عجب نہیں کہ کوئی روشنی لپک جائے گداز جسم سے پھولوں پہ انگلیاں رکھ دوں یہ شاخ اور ذرا سا اگر لچک جائے کبھی کبھار ترے جسم کا اکیلا پن مرے خیال کی عریانیت کو ڈھک جائے ترے خیال کی ...

مزید پڑھیے

مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مرے ساتھ نہ چل

مجھ پہ ہیں سیکڑوں الزام مرے ساتھ نہ چل تو بھی ہو جائے گا بدنام مرے ساتھ نہ چل تو نئی صبح کے سورج کی ہے اجلی سی کرن میں ہوں اک دھول بھری شام مرے ساتھ نہ چل اپنی خوشیاں مرے آلام سے منسوب نہ کر مجھ سے مت مانگ مرا نام مرے ساتھ نہ چل تو بھی کھو جائے گی ٹپکے ہوئے آنسو کی طرح دیکھ اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 700 سے 4657