شاعری

نقد دل لے کر پھرے ہم نقد جاں لے کر پھرے

نقد دل لے کر پھرے ہم نقد جاں لے کر پھرے دل میں کیا کیا آرزوؤں کا جہاں لے کر پھرے ایک بھی تو تیری بستی میں نہ تھا پرسان غم ہم تو آنکھوں میں ہزاروں داستاں لے کر پھرے ہم نہ ہوں گے تو ہمارے نقش پا کام آئیں گے زندگی کو کیوں کوئی اب سرگراں لے کر پھرے اے کلیم اپنی حکایات جنوں ہیں بے ...

مزید پڑھیے

اپنے ذوق دید کو اب کارگر پاتا ہوں میں

اپنے ذوق دید کو اب کارگر پاتا ہوں میں ان کا جلوہ ہر طرف پیش نظر پاتا ہوں میں وہ بھی دن تھے جب مرے دل کو تھی تیری جستجو یہ بھی دن ہے دل کو اب تیرا ہی گھر پاتا ہوں میں ہر قدم ہے جستجو کی راہ میں دشوار تر ہر قدم پر گم رہی کو راہ بر پاتا ہوں میں آ گیا ہے عشق میں کیسا یہ حیرت کا مقام جس ...

مزید پڑھیے

کچھ ازالہ تو کریں آپ بھی تڑپانے کا

کچھ ازالہ تو کریں آپ بھی تڑپانے کا دل جو توڑا ہے تو پھر سوچیے ہرجانے کا نہ کوئی اشک نہ بازو نہ کوئی زلف نصیب کوئی مصرف نظر آیا نہیں اس شانے کا رات کیا خوب تماشہ تھا گلی میں ان کی شیخ جی پوچھا کیے راستہ مے خانے کا دو گھڑی دل تو بہل جاتا ہے تصویر کے ساتھ مسئلہ حل نہیں ہوتا ترے ...

مزید پڑھیے

موسم آنے پہ شجر بور سے بھر جاتا ہے

موسم آنے پہ شجر بور سے بھر جاتا ہے جانے کس اور مگر سارا ثمر جاتا ہے آ کے بیٹھے ہو تم اور وقت سحر آ پہنچا کس قدر جلد بھلا وقت گزر جاتا ہے جب بھی بیٹی کی جدائی کا سماں سوچتا ہوں ایک خنجر مرے سینے میں اتر جاتا ہے تو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کے ذرا اے خوباں کوئی کوچے سے ترے خاک بہ سر جاتا ...

مزید پڑھیے

کعبہ بنائیے نہ کلیسا بنائیے

کعبہ بنائیے نہ کلیسا بنائیے دل کو تصورات کی دنیا بنائیے تصویر حسن کھینچیے مجنوں کے بھیس میں آئینۂ خیال کو لیلیٰ بنائیے حرص و ہوائے دار فنا سے غرض نہیں دنیا سے کھوئیے مجھے اپنا بنائیے دیوانگئ عشق کو رسوا نہ کیجئے لیلیٰ کو قیس قیس کو لیلیٰ بنائیے ہے فطرت نظر کا تقاضا یہ بار ...

مزید پڑھیے

حسن ہو میرا دل نواز حسن کی دل نواز میں

حسن ہو میرا دل نواز حسن کی دل نواز میں میرے اٹھائیں ناز وہ اس کے اٹھاؤں ناز میں کون ہوں اور کیا ہوں میں کوئی نہ یہ سمجھ سکا بزم جہاں میں آتے ہی بن گئی ایک راز میں حسن میں اور عشق میں کیسے نبھے گی اے خدا حسن جفا شعار ہے اور وفا نواز میں میرے شب فراق میں کاش اجل ہو میہماں پھر تو ...

مزید پڑھیے

ہوتا ہے اس جہاں میں کسے ناگوار جھوٹ

ہوتا ہے اس جہاں میں کسے ناگوار جھوٹ جب سچ ہوا ذلیل تو عالی وقار جھوٹ تہذیب نو کا شاعرہؔ ہے شاہکار جھوٹ بے اختیار سچ ہوا با اختیار جھوٹ کتنا حسیں فریب ہے پروردگار جھوٹ جان قرار جھوٹ ہے جان بہار جھوٹ یہ صبح و شام جھوٹ یہ لیل و نہار جھوٹ ساری ہی زندگی کا ہے اب کاروبار جھوٹ بنتی ...

مزید پڑھیے

دلا نہ اپنی محبت کا اعتبار مجھے

دلا نہ اپنی محبت کا اعتبار مجھے خدا کے واسطے رہنے دے سوگوار مجھے نہیں ہے منظر ہستی پہ اعتبار مجھے مشیتوں نے دیا ہے دل فگار مجھے ہر اک مقام پہ شاکی ہے آدمی کی نظر نہ راس آیا تجسس کا کاروبار مجھے فراق دوست کا غم ہو کہ ہو نشاط حیات نہیں ہے اب کسی حالت پہ اعتبار مجھے نگاہ شوق کو ...

مزید پڑھیے

نئی منزلوں کو پا لو مرے نقش پا پہ چل کے

نئی منزلوں کو پا لو مرے نقش پا پہ چل کے میں بنا چکی ہوں لوگو وہ جو راستے ہیں کل کے مجھے بحر غم میں پا کر نہ ہنسو اے ہنسنے والو کوئی موج لے نہ ڈوبے کہیں تم کو بھی اچھل کے تری آرزو سے بڑھ کر کوئی آرزو نہیں ہے میں تجھی کو ڈھونڈھتی ہوں ترے غم کے ساتھ چل کے کہیں دھوپ بن گیا ہے کہیں رات ...

مزید پڑھیے

میں روایت ہوں ایک بھولی ہوئی (ردیف .. ے)

میں روایت ہوں ایک بھولی ہوئی اور تو جدتوں میں رہتا ہے میری آنکھیں سوال کرتی ہیں کیا خدا منظروں میں رہتا ہے ساعتیں رقص کر رہی ہیں مگر میرا دل الجھنوں میں رہتا ہے پرچم جنگ جھک گیا لیکن وسوسہ سا دلوں میں رہتا ہے گو چراغاں کیے گئے خیمے پر اندھیرا دلوں میں رہتا ہے آؤ موجوں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 689 سے 4657