شاعری

بس وہی لمحہ آنکھ دیکھے گی (ردیف .. ا)

بس وہی لمحہ آنکھ دیکھے گی جس پہ لکھا ہوا ہو نام اپنا ایسا صدیوں سے ہوتا آیا ہے لوگ کرتے رہیں گے کام اپنا کچھ ہوائیں گزر رہی تھیں ادھر ہم نے پہنچا دیا پیام اپنا ذہن کر لے ہزارہا کوشش دل بھی کرتا رہے گا کام اپنا چاہتی ہوں فلک کو چھو لینا جانتی ہوں مگر مقام اپنا کیا یہی ہے شناخت ...

مزید پڑھیے

جس نے بھی داستاں لکھی ہوگی

جس نے بھی داستاں لکھی ہوگی کچھ تو سچائی بھی رہی ہوگی کیوں مرے درد کو یقیں ہے بہت تیری آنکھوں میں بھی نمی ہوگی کیا کروں دوسرے جنم کا میں زندگی کل بھی اجنبی ہوگی کتنی اندھی ہے آرزو میری کیا کبھی اس میں روشنی ہوگی قید سے ہو چکی ہوں پھر آزاد جانے کس نے گواہی دی ہوگی

مزید پڑھیے

سمجھ میں آتی ہے بادل کی آہ و زاری اب (ردیف .. ے)

سمجھ میں آتی ہے بادل کی آہ و زاری اب وہ مہربان مجھے بھی بہت رلاتا ہے مماثلت ہی نہیں ساتھ رہنے والوں میں کوئی بتائے مجھے کس سے میرا ناطہ ہے لگا کہ قفل مرے خواب کے دریچوں کو ترا خیال عذابوں سے کیوں ڈراتا ہے سمجھ میں آتا نہیں زندہ ہیں کہ مردہ ہیں کبھی تو مارتا ہے اور کبھی جلاتا ...

مزید پڑھیے

تعمیر کائنات کے ساماں لئے ہوئے

تعمیر کائنات کے ساماں لئے ہوئے آئی ہوں راز عالم امکاں لئے ہوئے جاؤں کدھر میں کشتیٔ ارماں لئے ہوئے ہر ساحل مراد ہے طوفاں لئے ہوئے جلوہ نظر فریب ہے دنیا ہے دل فریب ہر آئنہ ہے دیدۂ حیراں لئے ہوئے خودبیں تو مرے شیوۂ تسلیم پر نہ جا بیٹھی ہوں راز عالم امکاں لئے ہوئے ہر قطرہ ہے ...

مزید پڑھیے

ناکامیٔ دل کلثومؔ کبھی تقدیر کو اپنی روئی نہیں

ناکامیٔ دل کلثومؔ کبھی تقدیر کو اپنی روئی نہیں قربان میں اپنی ہمت کے سب سوئے مگر یہ سوئی نہیں اے صبح قیامت کیا کہنا اس وعدۂ دید کے میں قرباں وہ پردہ سے اب نکلے ہیں جب دیکھنے والا کوئی نہیں گریاں ہے ابھی تک چشم فلک بلبل بھی برابر روتی ہے بربادیٔ گلشن کے غم میں شبنم ہی اکیلی روئی ...

مزید پڑھیے

یاں مدعی اپنا کسے اے یار نہ دیکھا

یاں مدعی اپنا کسے اے یار نہ دیکھا ہے کوئی جسے تیرا طلب گار نہ دیکھا سوتوں کو جگایا مرے نالے نے عدم کے پر طالع خوابیدہ کو بیدار نہ دیکھا کل بزم میں سب پر نگہ لطف و کرم تھی اک میری طرف تو نے ستم گار نہ دیکھا جز چشم بتاں مے کدۂ دہر میں ؔجوشش ہم نے تو کسی مست کو ہشیار نہ دیکھا

مزید پڑھیے

مری بیاض کو شعروں سے تم سجا دینا

مری بیاض کو شعروں سے تم سجا دینا میں ایک وہم ہوں مجھ کو یقیں بنا دینا بنا کے کوئی کہانی ہماری ہستی کی ندی میں کاغذی کشتی کوئی بہا دینا بہت سنبھال کے رکھا ہے میں نے پھولوں کو جو ہو سکے انہیں گلدان میں سجا دینا چلا گیا جو کبھی لوٹ کر نہیں آیا میں لوٹ آؤں گی مجھ کو ذرا صدا ...

مزید پڑھیے

سن لی راماین کی جب پوری کتھا

سن لی راماین کی جب پوری کتھا دل مرا راون پہ ہو بیٹھا فدا ہجر کی باتوں میں تھا ایسا اثر وصل میں بھی دل مرا بیتاب تھا چاند نے اپنی نگاہیں پھیر لیں پر تری آنکھوں میں جلتا تھا دیا اک انوکھی کیفیت نے چھو لیا ہاتھ میں جیسے خدا کا ہاتھ تھا اک صحیفے میں لکھی تھی داستاں لفظ لفظوں سے ...

مزید پڑھیے

ہم اپنے عشق کی بابت کچھ احتمال میں ہیں

ہم اپنے عشق کی بابت کچھ احتمال میں ہیں کہ تیری خوبیاں اک اور خوش خصال میں ہیں تمیز ہجر و وصال اس مقام پر بھی ہے حساب راہ محبت میں گرچہ حال میں ہیں کوئی بھی پاس نہیں تو ترا خیال نہ غم بقول پیر جہاں دیدہ ہم وصال میں ہیں بہت ضروری نہیں ہے کہ تو سبب ٹھہرے یہ بات اپنی جگہ ہم کسی ملال ...

مزید پڑھیے

نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا (ردیف .. ')

نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا تو کیا یہ طے ہے اب رنج پشیمانی نہیں ہونا سکوں سے جا لگے گی دل کی کشتی اپنے ساحل سے کہ اس برسات میں دریا کو طوفانی نہیں ہونا سبھی کچھ طے شدہ معمولی جیسا ہونے والا ہے کسی بھی واقعے کو وجہ حیرانی نہیں ہونا جنوں میں ممکنہ حد تک رہے گا ہوش بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 690 سے 4657