شاعری

فکر کے جب بھی پاؤں اٹھیں گے تیرے گھر تک جائیں گے

فکر کے جب بھی پاؤں اٹھیں گے تیرے گھر تک جائیں گے دنیا بھر کو دیکھنے والے میری نظر تک جائیں گے ہم نے جی کر دیکھ لیا ہے یہ دھرتی تو تنگ رہی دوستو اب یہ سوچ رہے ہیں شمس و قمر تک جائیں گے تبدیلی اس نظم کہن کی آج نہیں تو کل ہوگی جن رستے یہ راز ملیں گے ایسی ڈگر تک جائیں گے بیٹھے بیٹھے ...

مزید پڑھیے

جو ترے در پہ رک گئی ہوگی

جو ترے در پہ رک گئی ہوگی وہ نظر مجھ کو ڈھونڈھتی ہوگی زندگی بھی اداس راہوں میں میرے بارے میں سوچتی ہوگی ان نگاہوں سے واسطہ بھی کیا جن نگاہوں میں بے رخی ہوگی دن کی یادوں سے روشنی پا کر رات سرشار ہو گئی ہوگی جن کو اپنا پتہ نہیں معلوم ان سے کیا خاک رہبری ہوگی سخت راہوں سے بچ کے ...

مزید پڑھیے

اندھیرے ناپنا مشکل نہیں ہے

اندھیرے ناپنا مشکل نہیں ہے مگر سورج کا اتنا دل نہیں ہے ستارے ٹوٹ کر گرتے ہیں کیسے زمیں اس بات سے غافل نہیں ہے گرا ہے میرے دامن پہ جو آنسو وہ میری زیست کا حاصل نہیں ہے نہ جانے کس کے ہاتھوں قتل ٹھہرا وہ ظالم ہے مگر قاتل نہیں ہے جسے شائستہؔ تو نے توڑ ڈالا میں کہتی ہوں وہ میرا دل ...

مزید پڑھیے

کچھ اس طرح سے زمانہ بدلتا رہتا ہے

کچھ اس طرح سے زمانہ بدلتا رہتا ہے دل و دماغ میں سناٹا چلتا رہتا ہے بدلتے وقت کا احساس ہوشمندی ہے ہماری عمر کا سورج بھی ڈھلتا رہتا ہے کوئی ضروری نہیں دل ہمیشہ سخت رہے وفا کی آنچ سے وہ بھی پگھلتا رہتا ہے اگر ہے صاحب ایماں گناہ کرنے پر خدا کے خوف سے اکثر دہلتا رہتا ہے جسے تمیز ہے ...

مزید پڑھیے

زندگی بس وہ زندگی ہوگی

زندگی بس وہ زندگی ہوگی جو کسی ہجر میں کٹی ہوگی عمر رفتہ کے غم میں کیوں روئیں تیری دہلیز پر پڑی ہوگی آپ کی دید اور چشم فقیر کس قیامت کی وہ گھڑی ہوگی چاروں جانب سے تیر آ رہے تھے شست تو آپ نے بھی لی ہوگی مجھ پہ آوازے کسنے والوں میں اک نمایاں صدا تری ہوگی رونق راہ میں نہ گم ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی چھوٹی سی ایک بات بڑی دور تک گئی ہم تو ہر امتحاں میں ہوئے سرخ رو مگر مجبورئ حیات بڑی دور تک گئی تشنہ لبی تو زیست کا اوج کمال تھی گو کہ لب فرات بڑی دور تک گئی واعظ تمہاری جنت و دوزخ کی خیر ہو رندوں کی کائنات بڑی دور تک گئی بچھڑے ہر ایک موڑ پہ ساتھی ...

مزید پڑھیے

سرنگوں موسم بہار میں ہے

سرنگوں موسم بہار میں ہے یہ شجر کس کے انتظار میں ہے تاب نظارہ آنکھ کو بھی نہیں دل بھی کب اپنے اختیار میں ہے زیست ہو بات ہو کہ مجلس ہو لطف گر ہے تو اختصار میں ہے وہ بس اک بار چھو کے گزرے تھے روح تک لمس کے خمار میں ہے کیسا الٹا سفر ہے جیون کا یہ چڑھاؤ کسی اتار میں ہے زیست کرنے میں ...

مزید پڑھیے

ایسے مقام تک بھی ترے نارسا گئے

ایسے مقام تک بھی ترے نارسا گئے تارے فلک کے ٹوٹ کے قدموں میں آ گئے امید وصل یار لیے کتنے کم نصیب اپنی دکان تیرے جہاں سے بڑھا گئے دیکھا جنہوں نے آنکھ گنوا کر سفر کیا بے لوث جو چلے تھے وہی تجھ کو پا گئے مجھ سے کسی کے سامنے رویا نہیں گیا کتنے ہی غم تھے جو مجھے اندر سے کھا گئے اک ان ...

مزید پڑھیے

دل و نظر پہ کوئی اختیار بھی تو نہیں

دل و نظر پہ کوئی اختیار بھی تو نہیں یہ شتر ایسے مگر بے مہار بھی تو نہیں منا ہی لیتے اسے ہم کڑی ریاضت سے وہ زود رنج کہ پروردگار بھی تو نہیں نہ جانے کیوں ہمیں شرمندگی ہے ماضی پر اگرچہ ایسا کوئی داغ دار بھی تو نہیں یہ کیفیت کہ کوئی سر خوشی نہیں لیکن تری جدائی طبیعت پہ بار بھی تو ...

مزید پڑھیے

ساقی مئے گل رنگ مرے لب سے ملا دیکھ

ساقی مئے گل رنگ مرے لب سے ملا دیکھ جس وقت بہکنے میں لگوں تب تو مزہ دیکھ گر دیکھنا ہے بلبل نالاں کا تماشہ تو باد صبا باغ میں تو گل کو ہنسا دیکھ بگڑی ہے شب وصل تو وہ مجھ سے کہے ہے اب کی تو بدن کو تو مرے ہاتھ لگا دیکھ پیچھا ترا چھوڑیں نہ کبھی بوسہ لیے بن دو روز ہم ایسوں کو ذرا منہ تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 688 سے 4657