شاعری

ٹوٹے ہوئے دیوار و در اجڑی ہوئی تھی میری چھت

ٹوٹے ہوئے دیوار و در اجڑی ہوئی تھی میری چھت اس نے کہا کیا حال ہے میں نے کہا سب خیریت بارات اک آتی ہوئی میت کوئی جاتی ہوئی یہ زندگی ہے تہ بہ تہ کھلتی نہیں اس کی پرت چہروں کی رنگت زرد سی محفل ہوئی کیوں سرد سی باقی اگرچہ ہم میں ہے اب بھی وہی تاب و سکت انساں پریشاں دہر میں وحشی درندے ...

مزید پڑھیے

ہر منظر ہستی پر کہتی ہے خرد کیا ہے

ہر منظر ہستی پر کہتی ہے خرد کیا ہے دیکھا ہے جو سچ ہے بھی یا خواب تمنا ہے آباد ترا کوچہ عشاق سے ہے تیرے اللہ رکھے تجھ کو تو ہے تو تماشہ ہے کیا حال کیا تو نے اپنا غم جاناں میں وحشت سی برستی ہے کس سوچ میں ڈوبا ہے آزاد پرندوں کی مانند جنوں میرا یا دشت میں آوارہ یا وسعت صحرا ہے یہ عقل ...

مزید پڑھیے

یہ کس گماں پہ توقع ہے اے بھلے صاحب

یہ کس گماں پہ توقع ہے اے بھلے صاحب دعائیں دے بھی وہی جس کا گھر جلے صاحب بس اس لیے کہ ہواؤں سے کھیلنا سیکھے ہم آندھیوں میں جلا کر دیا چلے صاحب ہمارا قتل کسی شب کی داستاں تو نہیں یہ سانحہ بھی ہوا اور دن ڈھلے صاحب کبوتروں پہ جھپٹنے کی خو کہاں ان میں کہ یہ عقاب تو زاغوں میں ہیں پلے ...

مزید پڑھیے

مٹھی میں چھپاتے ہیں گہر بولتے کم ہیں

مٹھی میں چھپاتے ہیں گہر بولتے کم ہیں جو لوگ کہ رکھتے ہیں ہنر بولتے کم ہیں اب شوخئ گفتار عزیزوں میں نہیں ہے ملتے ہیں سر راہ مگر بولتے کم ہیں اشکوں ہی سے کچھ حال عیاں ہو تو عیاں ہو عشاق تو اے دیدۂ تر بولتے کم ہیں لگتا ہے کہ غافل ہیں زمانے سے یہ درویش رکھتے ہیں دو عالم کی خبر بولتے ...

مزید پڑھیے

جب میں رویا ہوں وہ روئے ہیں یہ الفت میرے ساتھ

جب میں رویا ہوں وہ روئے ہیں یہ الفت میرے ساتھ مدتوں برسا کیا ہے ابر رحمت میرے ساتھ جان جائے یار ہے دل کو رہے گا پاس عشق قبر میں جائیں گے تیرے راز الفت میرے ساتھ دیتی ہے ترغیب نالے کی کہ ہر آزردہ‌ دوست دشمنی کرتی ہے اب میری محبت میرے ساتھ میں تو ہوں دل دادۂ الفت کہو میں کیا ...

مزید پڑھیے

سوئے منزل کوئی کارواں لٹ گیا

سوئے منزل کوئی کارواں لٹ گیا کس کی امید کا یہ جہاں لٹ گیا تو نے اف تک نہ کی دیکھتا رہ گیا تیرے کوچہ میں اک کارواں لٹ گیا کوئی حسرت نہ گلچیں کے دل میں رہی پھول مرجھا گئے گلستاں لٹ گیا تم تو ہشیار تھے کیوں ہوئے بے خبر دل تو نادان تھا ناگہاں لٹ گیا کوئی آئے مدد کے لئے اب مری گل ...

مزید پڑھیے

کسی کے لب پہ بھولے پن سے میرا نام ہے شاید

کسی کے لب پہ بھولے پن سے میرا نام ہے شاید مری بے چارگی سے پھر کسی کو کام ہے شاید یہ ہلچل سی مچی ہے آج جو سارے زمانے میں سنا ہے کچھ ہمارے واسطے پیغام ہے شاید تمہیں بھی راس آئے یا نہ آئے آج کا عالم تمہارا بھی ہماری ہی طرح انجام ہے شاید زمانے کو نہیں بھایا مرا خاموش سا رہنا خموشی ...

مزید پڑھیے

کس لیے گردش حالات کا رونا ہے میاں

کس لیے گردش حالات کا رونا ہے میاں وہ تو ہو کر ہی رہے گا کہ جو ہونا ہے میاں فیصلہ کر نہ سکی عقل کہ اس دنیا میں آدمی خود کوئی قوت کہ کھلونا ہے میاں میں کسی چیز کو پا کر بھی کبھی خوش نہ ہوا جانتا ہوں کہ ہر اک چیز کو کھونا ہے میاں اس کا کیا ذکر کہ محروم ثمر ہیں ہم لوگ نسل فردا کے لیے ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی ہو اس سے جدائی کا سبب گھر جاؤ

کچھ بھی ہو اس سے جدائی کا سبب گھر جاؤ ڈھل چکی شام اندھیرا ہوا اب گھر جاؤ شب میں گھس آتے ہیں آسیب مرے شہروں میں تاک میں رہتی ہے یہ وحشت شب گھر جاؤ لوگ حق مانگنے پہنچے تھے شہنشاہ کے پاس نوک خنجر پہ ملا حکم کے سب گھر جاؤ نہیں یہ زخم قبیلے کے لیے باعث ناز قتل ہو لو کسی تلوار سے تب گھر ...

مزید پڑھیے

شہر میں کیسا خطر لگتا ہے

شہر میں کیسا خطر لگتا ہے اپنے سائے سے بھی ڈر لگتا ہے آج پھر دل ہے دعا پر مائل بند پھر باب اثر لگتا ہے کچھ وقار در و دیوار نہیں ہو مکیں گھر میں تو گھر لگتا ہے آشیاں جس میں پرندوں کے نہ ہوں کتنا تنہا وہ شجر لگتا ہے آسماں کتنا جھک آیا ہے شریفؔ سر اٹھاتا ہوں تو سر لگتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 623 سے 4657