غزل وہی ہے جو ہو شاخ گل نشاں کی طرح
غزل وہی ہے جو ہو شاخ گل نشاں کی طرح اثر ہو جس میں جمال پری رخاں کی طرح سمجھ رہے تھے کہ آساں ہے عشق کی منزل حواس اڑنے لگے گرد کارواں کی طرح اگر ہے دل میں کشش خود قریب آئیں گے ابھی تو دور ہیں وہ مجھ سے آسماں کی طرح مسرتوں کے خزینے بھی اس پہ قرباں ہیں عزیز مجھ کو ترا غم ہے اپنی جاں کی ...