شاعری

غزل وہی ہے جو ہو شاخ گل نشاں کی طرح

غزل وہی ہے جو ہو شاخ گل نشاں کی طرح اثر ہو جس میں جمال پری رخاں کی طرح سمجھ رہے تھے کہ آساں ہے عشق کی منزل حواس اڑنے لگے گرد کارواں کی طرح اگر ہے دل میں کشش خود قریب آئیں گے ابھی تو دور ہیں وہ مجھ سے آسماں کی طرح مسرتوں کے خزینے بھی اس پہ قرباں ہیں عزیز مجھ کو ترا غم ہے اپنی جاں کی ...

مزید پڑھیے

قدرت ہے طرفہ کار تجھے کچھ خبر بھی ہے

قدرت ہے طرفہ کار تجھے کچھ خبر بھی ہے وہ آئنہ شکن بھی ہے آئینہ گر بھی ہے صحرا کو چھوڑ دیں تو کہاں جا کے یہ رہیں آوارگان عشق و محبت کا گھر بھی ہے مسجود کائنات ہو جیسے نظر نواز کتنا لطیف وقت طلوع سحر بھی ہے کعبہ کا احترام ہے اک فرض خوش گوار میں کیا کروں نظر میں ترا سنگ در بھی ...

مزید پڑھیے

جو بجھ سکے نہ کبھی دل میں ہے وہ آگ بھری

جو بجھ سکے نہ کبھی دل میں ہے وہ آگ بھری بلائے جاں ہے محبت میں فطرت بشری قفس میں ہم نے ہزاروں اسیر دیکھے ہیں رہا ہے کس کا سلامت غرور بال و پری ترے جمال کے اسرار کون سمجھے گا پناہ مانگ رہا ہے شعور دیدہ دری سفر عدم کا ہے دشوار تو اکیلا ہے مجھے بھی ساتھ لیے چل ستارۂ سحری بنا بنا کے ...

مزید پڑھیے

قاصد نہیں یہ وقت سوال و جواب کا

قاصد نہیں یہ وقت سوال و جواب کا اب حال غیر ہے دل خانہ خراب کا تم دیکھنے کی چیز ہو دیکھا کرے کوئی یہ حسن یہ جمال یہ عالم شباب کا تمہید بے خودی تھا کہاں تھا حواس و ہوش خلوت میں آ کے ان کا الٹنا نقاب کا کیا آتش فراق نے دل پر اثر کیا ان آنسوؤں میں میرے مزا ہے کباب کا ہم نے تو اپنی ...

مزید پڑھیے

ہم کو تو ربط خاص ہے دار و رسن کے ساتھ

ہم کو تو ربط خاص ہے دار و رسن کے ساتھ جینے کی آرزو ہے مگر بانکپن کے ساتھ دل میں ہمارے شوق ہے غم ہے امید ہے صحرا نوردیاں ہیں مگر انجمن کے ساتھ حیرت سے برہمی کی ادا دیکھتے رہے کتنی کہانیاں تھی جبیں پر شکن کے ساتھ اب خیریت کہاں ہے نگاہ شعور کی الجھی ہوئی ہے زلف شکن در شکن کے ...

مزید پڑھیے

تری نگاہ سے جب بھی مری نگاہ ملی

تری نگاہ سے جب بھی مری نگاہ ملی مجھے تو گردش ایام سے پناہ ملی ہمیں تو تیرے تبسم پہ جان دینی ہے کلی کلی کو جو دیکھا تیری گواہ ملی رہ وفا میں ترے غم کی بخششیں کیا خوب دلوں کو سوز ملا ہے لبوں کو آہ ملی مجھے تو صرف یہ کہنا ہے اپنے دل کے لئے بھٹکنے والی وفا کو قیام گاہ ملی نہ جانے ...

مزید پڑھیے

دیدۂ شوق لیے جذبۂ بے تاب لئے

دیدۂ شوق لیے جذبۂ بے تاب لئے آج تو حسن بھی ہے عشق کے آداب لئے چشم مخمور لئے کاکل شب تاب لئے رشک ایماں بھی ہیں وہ کفر کے اسباب لئے ان کے ابرو پہ ہیں بل اور تبسم لب پر میرے افسانۂ ہستی کا نیا باب لئے اب تو یہ حال ہے دیکھے ہوئے مدت گزری کوئی گزرا ہی نہیں خندۂ شاداب لئے خواب کیا ...

مزید پڑھیے

تحریر بدلتی ہے تقدیر بدلتی ہے

تحریر بدلتی ہے تقدیر بدلتی ہے ماحول بدلنے سے تدبیر بدلتی ہے جب رنگ بدلتا ہے اس چشم فسوں گر کا ہر جرعۂ صہبا کی تاثیر بدلتی ہے یہ کیا تری نسبت سے ہر شے میں تلون ہے ہر لمحہ ترے غم کی تصویر بدلتی ہے ہوتا ہے اک عرصہ تک جب خون تمنا کا تب خواب محبت کی تعبیر بدلتی ہے وہ کچھ بھی کہیں ...

مزید پڑھیے

چشم الفت عجیب ہوتی ہے

چشم الفت عجیب ہوتی ہے مجھ سے ہر شے قریب ہوتی ہے بات جب بڑھ گئی محبت میں اپنی ہستی رقیب ہوتی ہے جس کو چاہے نہ کوئی دنیا میں اس کی دنیا عجیب ہوتی ہے ایسا ہوتا ہے یاد کچھ بھی نہیں یوں بھی یاد حبیب ہوتی ہے سامنے وہ ہوں اور بات نہ ہو وہ گھڑی بد نصیب ہوتی ہے ان کی باتوں سے زخم کھا کے ...

مزید پڑھیے

لکھا ہے گو تیری قسمت میں شوکتؔ چشم تر رکھنا

لکھا ہے گو تیری قسمت میں شوکتؔ چشم تر رکھنا مگر ظالم کسی کی آبرو پر بھی نظر رکھنا نہ بھولے گا نہ بھولے گا قیامت تک نہ بھولے گا کسی کا وہ محبت سے مرے سینہ پہ سر رکھنا نہ اٹھے گا دل نازک سے صدمہ رنج فرقت کا الٰہی میرے درد دل سے ان کو بے خبر رکھنا وہ کیا جانے بھلا ہوتی ہیں کیسی عیش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 622 سے 4657