ایک شے تھی کہ جو پیکر میں نہیں ہے اپنے
ایک شے تھی کہ جو پیکر میں نہیں ہے اپنے جس کو دیتے ہو صدا گھر میں نہیں ہے اپنے تجھے پانے کی تمنا تجھے چھونے کا خیال ایسا سودا بھی کوئی سر میں نہیں ہے اپنے تو نے تلوار بھی دیکھی نگۂ یار بھی دیکھ یہ تب و تاب تو خنجر میں نہیں ہے اپنے کس قبیلے سے اڑا لائی ہے فوج اعدا ایسا جرار تو لشکر ...