شاعری

ایک شے تھی کہ جو پیکر میں نہیں ہے اپنے

ایک شے تھی کہ جو پیکر میں نہیں ہے اپنے جس کو دیتے ہو صدا گھر میں نہیں ہے اپنے تجھے پانے کی تمنا تجھے چھونے کا خیال ایسا سودا بھی کوئی سر میں نہیں ہے اپنے تو نے تلوار بھی دیکھی نگۂ یار بھی دیکھ یہ تب و تاب تو خنجر میں نہیں ہے اپنے کس قبیلے سے اڑا لائی ہے فوج اعدا ایسا جرار تو لشکر ...

مزید پڑھیے

کہانی میری بربادی کی جس نے بھی سنی ہوگی

کہانی میری بربادی کی جس نے بھی سنی ہوگی نظر میں اس کے اک تصویر حیرت کھنچ گئی ہوگی ستا لو جس قدر چاہو اداؤں سے جفاؤں سے قسم کھاتا ہوں گر ہوگی تمہیں سے دوستی ہوگی وفا کو بھی مری ہمدم جفا ہی جو سمجھتے ہیں مجھے معلوم ہے اک دن انہیں شرمندگی ہوگی ارے نادان تجھ کو کاش یہ معلوم ہو ...

مزید پڑھیے

دل کو نصیب سوز غم گلستاں کہاں

دل کو نصیب سوز غم گلستاں کہاں ہوتا تو آج ہوتا یہ درد نہاں کہاں ذوق بہار ہی ہے نہ خوف خزاں مجھے گم سم ہے اپنے حال میں طبع رواں کہاں جس سے گلوں کے ضبط کا دامن ہو تار تار ہے عندلیب تیرا وہ ذوق فغاں کہاں ہو جائے اب نہ ختم فسانہ فراق کا ہیں نور صبح رات کی نیرنگیاں کہاں لے جائے گی صبا ...

مزید پڑھیے

بیزار پھر نہ ہوں گے کبھی زندگی سے ہم

بیزار پھر نہ ہوں گے کبھی زندگی سے ہم ہو لیں ترے قریب جو خوش قسمتی سے ہم اے کاش ہم بھی ہوتے کبھی اتنے خوش نصیب غم بانٹتے کسی کا تو ہنستے کسی سے ہم تم نے بلا لیا تو چلے آئے بزم میں کب چاہتے تھے قرب حریفاں خوشی سے ہم انجام طور آج بھی اپنی نظر میں ہے غش کھا نہ جائیں آپ کی جلوہ گری سے ...

مزید پڑھیے

ہر ایک بات پہ کیوں پیچ و تاب ہوتا ہے

ہر ایک بات پہ کیوں پیچ و تاب ہوتا ہے عزیزو جرم محبت عذاب ہوتا ہے فراز بام پہ دیکھا ہے جب کبھی ان کو نظر میں بیچ رخ ماہتاب ہوتا ہے فقط یہ عشق و محبت کی ہم پہ آفت ہے کہ جب بھی ہوتا ہے ہم پر عتاب ہوتا ہے جہاں پہ ظلم و ستم حد سے اپنی بڑھتے ہیں یقین مانو وہیں انقلاب ہوتا ہے نہ انجمن ...

مزید پڑھیے

یاروں کے یارانے دیکھے

یاروں کے یارانے دیکھے دنیا کے فرزانے دیکھے وقت ضرورت جو کام آئے ایسے بھی بیگانے دیکھے دل دے کر پائے ہیں آنسو عشق کے یہ نذرانے دیکھے موجوں میں لے جائیں کشتی ایسے بھی دیوانے دیکھے باغ ملے اس قسمت کو ہم نے تو ویرانے دیکھے حل کرتے ہیں مطلب اپنا مطلب کے دیوانے دیکھے ایک ذرا سی ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں میں ہم نے حیا دیکھ لی ہے

ان آنکھوں میں ہم نے حیا دیکھ لی ہے نرالی سی طرز جفا دیکھ لی ہے تمہارے نہیں بس میں کچھ اے طبیبو دوا ہم نے صبر آزما دیکھ لی ہے نہ آئے گا کوئی نظر میں حسیں اب ترے حسن کی انتہا دیکھ لی ہے کروں ناز قسمت پہ جتنا بھی کم ہے کنکھیوں کی تیری ادا دیکھ لی ہے خزاں میں قفس سے ملی کیا ...

مزید پڑھیے

شخصیت جس کی انا الحق کی سزا وار لگے

شخصیت جس کی انا الحق کی سزا وار لگے ہر طرف اس کے نہ کیوں فلسفۂ دار لگے سانس میں روکوں تو رک جائے نظام عالم نبض ہاتھوں کی مرے وقت کی رفتار لگے خبر حال چمن کیوں نہ ملے ناظر کو ورق چہرۂ گل صفحۂ اخبار لگے ہو گئی عام اندھیرے کی خبر چھپ نہ سکی صبح ہر چہرے ہمیں رات کے اخبار لگے جس کی ...

مزید پڑھیے

ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں

ادھورا جسم لیے پیچھے ہٹ رہا ہوں میں کہ اک کنارا ہوں دریا کا کٹ رہا ہوں میں مرے وجود کو وسعت نہیں کسی بھی طرح ہر ایک سمت سے ہر روز گھٹ رہا ہوں میں اثر پذیر ہوں اک زلزلے سے ہستی کے زمیں کے جیسے ہر اک سانس پھٹ رہا ہوں میں ہیں میرے واسطے خنجر شعاعیں سورج کی کھلی سڑک پہ ہوں ہر لمحہ کٹ ...

مزید پڑھیے

خود کو انعام کے پا لینے کا دھوکا دے کر

خود کو انعام کے پا لینے کا دھوکا دے کر ڈاکیہ چہرے کو پڑھتا ہے لفافہ دے کر ریل ہر سمت سے روز آ کے گزر جاتی ہے شہر کو میرے کئی رنگ کا چہرہ دے کر کس نے بچوں کی طرح تالی بجائی ہوگی کس کو خوش اس نے کیا ہے مجھے دنیا دے کر خضر ہونے کا جو دعویٰ ہے تو سیدھا کر دو کسی گرتی ہوئی دیوار کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 624 سے 4657