توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے
توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے موت سے کرکے بغاوت زندگی تک آ گئے اپنی منزل آپ ہی خود آ رہے ہیں اب نظر ہو نہ ہو ہم آج اپنی روشنی تک آ گئے اے غم عالم تری اس دل نوازی کے نثار تیرے نزدیک آ کے جیسے ہر خوشی تک آ گئے کیوں فضاؤں میں نظر آتے ہیں جلوؤں کے غبار کیا مہ و خورشید گرد آدمی ...