شاعری

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے

توڑ کر ہم بے خودی کی حد خودی تک آ گئے موت سے کرکے بغاوت زندگی تک آ گئے اپنی منزل آپ ہی خود آ رہے ہیں اب نظر ہو نہ ہو ہم آج اپنی روشنی تک آ گئے اے غم عالم تری اس دل نوازی کے نثار تیرے نزدیک آ کے جیسے ہر خوشی تک آ گئے کیوں فضاؤں میں نظر آتے ہیں جلوؤں کے غبار کیا مہ و خورشید گرد آدمی ...

مزید پڑھیے

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو اپنے ہاتھوں سے مرا چاک گریباں کر دو بات تو جب ہے کہ بیگانۂ درماں کر دو اب پریشاں ہی کیا ہے تو پریشاں کر دو نشتر نیم نگاہی کی قسم ہے تم کو دل کے ہر زخم کو تصویر گلستاں کر دو تم سما جاؤ مری روح میں نغمہ بن کر آؤ ساز دل غمگیں کو غزل خواں کر دو یا ...

مزید پڑھیے

وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے

وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے جو سوچتے ہیں کہ ترکیب زندگی کیا ہے کدھر ہے غیرت غم کچھ مجھے سہارا دے وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تری خوشی کیا ہے وفا کا راز نہ سمجھا سکا کوئی اب تک کہ اس کی کیا ہے حقیقت یہ واقعی کیا ہے یہی تو ہوتی ہے سارے رخوں کا آئینہ کوئی سمجھ کے تو دیکھے کہ بے ...

مزید پڑھیے

لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی

لبوں پر ان کے حیات آفریں ہنسی نہ رہی گلوں میں روح ستاروں میں روشنی نہ رہی خدا شناسوں کی پہچان ہی کوئی نہ رہی کہ سرکشی بھی بہ انداز سرکشی نہ رہی فسانہ گردش دوراں کا نظم کر لیتے مگر نگاہ میں ان کی وہ برہمی نہ رہی وقار ذوق تجسس پہ حرف آئے گا اگر شریک سفر اپنے گمرہی نہ رہی ہے اپنا ...

مزید پڑھیے

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے

پتھر نہ کوئی دھول نہ کانٹا دکھائی دے یہ حالت جنون بھی تماشا دکھائی دے ہم نے نشان قبر کو آئینہ کر دیا شاید کسی کو وقت کا چہرہ دکھائی دے ایسا نہ ہو کہ شوق سے محروم ہی رہیں جو کچھ ہماری آنکھ نے دیکھا دکھائی دے ہو کر بھی کچھ نہیں ہوں اگر ہوں تو اے خدا مجھ کو مرے وجود کا ہونا دکھائی ...

مزید پڑھیے

آنکھ کو حسن کا شاہکار دکھانے سے رہی

آنکھ کو حسن کا شاہکار دکھانے سے رہی شاعری ان کے خد و خال بنانے سے رہی یہ سبھی دشت مرا جوش جنوں جانتے ہیں یہ ہوا میری طرح خاک اڑانے سے رہی تیری بانہیں نہ سہی وسعت صحرا ہی سہی میری مٹی تو کسی طور ٹھکانے سے رہی ہم نے بھی چہرہ بدلنے کا ہنر سیکھ لیا دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے ...

مزید پڑھیے

تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی

تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی مر کے بھی مجھ کو محبت نہیں ملنے والی کھا لیے وقت کی تلخی نے سریلے لہجے اب وہ پہلی سی حلاوت نہیں ملنے والی یہ نئے دور کے بچے ہیں بڑے لگتے ہیں ان میں معصوم شرارت نہیں ملنے والی ضبط کرنے سے گزارا نہیں ہونے والا ظلم سہنے سے شرافت نہیں ملنے ...

مزید پڑھیے

اثر اتنا تو ہو یارب ہمارے جذبۂ دل کا

اثر اتنا تو ہو یارب ہمارے جذبۂ دل کا بغیر التجا پردہ الٹ دے کوئی محمل کا جو تم چاہو بدل جائے ابھی نقشہ مرے دل کا تمہیں مشکل نہیں آسان کرنا میری مشکل کا خدا جانے یہ کس کا خون ناحق رنگ لایا ہے ہر آنسو سرخ ہے جو بہہ رہا ہے شمع محفل کا مجھی سے کیا ہے میرے آنسوؤں کے منتظر کیا ہو ذرا ...

مزید پڑھیے

حرص دعا نہ ہو ہوس التجا نہ ہو

حرص دعا نہ ہو ہوس التجا نہ ہو الفت کا جب مزہ ہے کوئی مدعا نہ ہو تو ان کی بے وفائی پہ شکوہ سرا نہ ہو قدر وفا نہ ہو وہ اگر بے وفا نہ ہو تصویر بن کے دیکھ بہ آداب دید انہیں جنبش نہ ہو نگاہ کو دل بولتا نہ ہو آسودگان عیش بتائیں وہ کیا کرے جس کو بہ قدر حوصلہ غم بھی ملا نہ ہو اے بے خودی ...

مزید پڑھیے

زمیں سے گزرے ہیں یا آسماں سے گزرے ہیں

زمیں سے گزرے ہیں یا آسماں سے گزرے ہیں جہاں کو ساتھ لیا ہے جہاں سے گزرے ہیں ہوا چمن میں پھر اعلان آشیاں بندی ابھی کی بات ہے اک امتحاں سے گزرے ہیں بہ جوش سعیٔ بغاوت زمیں کے یہ ذرے ہزاروں بار سر آسماں سے گزرے ہیں وہیں الجھ سے گئے ہیں وہیں ٹھٹک سے گئے نگاہیں اپنی بچا کر جہاں سے گزرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 594 سے 4657