یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو

یہ جنوں ہی سہی پورا مگر ارماں کر دو
اپنے ہاتھوں سے مرا چاک گریباں کر دو


بات تو جب ہے کہ بیگانۂ درماں کر دو
اب پریشاں ہی کیا ہے تو پریشاں کر دو


نشتر نیم نگاہی کی قسم ہے تم کو
دل کے ہر زخم کو تصویر گلستاں کر دو


تم سما جاؤ مری روح میں نغمہ بن کر
آؤ ساز دل غمگیں کو غزل خواں کر دو


یا تو تم حد تعین پہ رہو جلوہ فروز
یا مری تاب نظر تا حد امکاں کر دو


نزع کا وقت ہے آ جاؤ عیادت کے لئے
تم شفاؔ پر دم آخر یہی احساں کر دو