وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے
وہ پہلے سوچ لیں کھلتی ہوئی کلی کیا ہے
جو سوچتے ہیں کہ ترکیب زندگی کیا ہے
کدھر ہے غیرت غم کچھ مجھے سہارا دے
وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تری خوشی کیا ہے
وفا کا راز نہ سمجھا سکا کوئی اب تک
کہ اس کی کیا ہے حقیقت یہ واقعی کیا ہے
یہی تو ہوتی ہے سارے رخوں کا آئینہ
کوئی سمجھ کے تو دیکھے کہ بے رخی کیا ہے
دم اخیر ہے کس کا خیال جلوہ فروز
یہ میری موت کی حد میں حیات سی کیا ہے
دراز عمر ہو اے جینے والے تیری مگر
جو صرف اپنے لئے ہو وہ زندگی کیا ہے
نہ جانے کیا ہو کہ میری ہی روشنی میں شفا
خودی یہ سوچ رہی ہے کہ بے خودی کیا ہے