حرص دعا نہ ہو ہوس التجا نہ ہو
حرص دعا نہ ہو ہوس التجا نہ ہو
الفت کا جب مزہ ہے کوئی مدعا نہ ہو
تو ان کی بے وفائی پہ شکوہ سرا نہ ہو
قدر وفا نہ ہو وہ اگر بے وفا نہ ہو
تصویر بن کے دیکھ بہ آداب دید انہیں
جنبش نہ ہو نگاہ کو دل بولتا نہ ہو
آسودگان عیش بتائیں وہ کیا کرے
جس کو بہ قدر حوصلہ غم بھی ملا نہ ہو
اے بے خودی خودی کی طرف آنکھ پھیر دے
دیکھیں کہیں حجاب خودی میں خدا نہ ہو
اس وقت شاید ان کا پتا مل سکے تجھے
جب تیرا اپنی ہستی کی حد تک پتا نہ ہو
اظہار مدعا ہو شفاؔ اس ادا کے ساتھ
دست دعا بھی واقف نفس دعا نہ ہو