زمیں سے گزرے ہیں یا آسماں سے گزرے ہیں

زمیں سے گزرے ہیں یا آسماں سے گزرے ہیں
جہاں کو ساتھ لیا ہے جہاں سے گزرے ہیں


ہوا چمن میں پھر اعلان آشیاں بندی
ابھی کی بات ہے اک امتحاں سے گزرے ہیں


بہ جوش سعیٔ بغاوت زمیں کے یہ ذرے
ہزاروں بار سر آسماں سے گزرے ہیں


وہیں الجھ سے گئے ہیں وہیں ٹھٹک سے گئے
نگاہیں اپنی بچا کر جہاں سے گزرے ہیں


نہ پوچھئے کشش منزل غم جاناں
یہیں کے ہو گئے جو بھی یہاں سے گزرے ہیں


قدم قدم میں ہمارے ہے جذبۂ تخلیق
وہیں ابھار دی منزل جہاں سے گزرے ہیں


شفاؔ بڑھو کہ افق در نظر رجز بر لب
شفق کی آڑ میں کچھ کارواں سے گزرے ہیں