شاعری

یہ کیا کہا کہ جمال ان کا بے حجاب نہ تھا

یہ کیا کہا کہ جمال ان کا بے حجاب نہ تھا یہ ماہتاب نہیں تھا یہ آفتاب نہ تھا نہ ہے وہ دور جو مجروح انقلاب نہ تھا تمہارے حسن مرے عشق کا جواب نہ تھا جہان غم میں تصور بھی کامیاب نہ تھا شفاؔ ہماری قیامت میں آفتاب نہ تھا یہ تھا حجاب فریب اس کا یا فریب حجاب کہ بے حجاب تھا وہ اور بے حجاب ...

مزید پڑھیے

بے اجازت تو بس آتی ہے ہوا کمرے میں

بے اجازت تو بس آتی ہے ہوا کمرے میں کون رہتا ہے ترے ساتھ بتا کمرے میں روز آتی ہے دبے پاؤں کسی کی خوشبو چھوڑ جاتی ہے کوئی نام پتہ کمرے میں اپنے حالات بتائیں تو بتائیں کس کو ایک کرتا ہے ترے بعد ٹنگا کمرے میں ہر نئی بات پہ جی بھر کے تماشہ کرنا یہ فرائض تو وہ کرتے ہیں ادا کمرے ...

مزید پڑھیے

آ کر نجات بخش دو رنج و ملال سے

آ کر نجات بخش دو رنج و ملال سے دل مطمئن نہیں ہے تمہارے خیال سے اف گردش نصیب کہ ہشیار ہو کے بھی محفوظ رہ سکے نہ زمانے کی چال سے یہ کیوں کہوں کہ مجھ سے انہیں پیار ہے مگر اک واسطہ ضرور ہے میرے خیال سے تھا کون یہ خبر نہیں بس اتنا یاد ہے ٹکرائی تھی نگاہ کسی کے جمال سے دل بستگی کی اس ...

مزید پڑھیے

ہاتھ اٹھاتا ہوں میں اب دعا کے لیے

ہاتھ اٹھاتا ہوں میں اب دعا کے لیے تم بھی آمین کہنا خدا کے لیے مجھ کو اس نیم جاں دل پہ حیرت ہے جو زندگی چاہتا ہے خطا کے لیے آفتیں جس قدر ہو سکیں بخش دو وقف ہے دل مرا ہر بلا کے لیے مجھ تک آنے میں زحمت نہ ہو لاؤ میں راہ ہموار کر دوں قضا کے لیے نقل فریاد سے میری کیا فائدہ کچھ اثر بھی ...

مزید پڑھیے

زاویے فکر کے اب اور بناؤ یارو

زاویے فکر کے اب اور بناؤ یارو بات کاغذ پہ نئے ڈھنگ سے لاؤ یارو کر دیے سرد مسرت کی گھٹا نے جذبات روح کو غم کی ذرا دھوپ دکھاؤ یارو جنگ اخلاق و محبت سے بھی ہو سکتی ہے اپنے دشمن پہ نہ تلوار اٹھاؤ یارو جس کو ہر قوم کی تہذیب گوارا کر لے ایسا دستور کوئی سامنے لاؤ یارو انتہا نور کی ...

مزید پڑھیے

کس نے پڑھ کر پھونکا منتر پانی میں

کس نے پڑھ کر پھونکا منتر پانی میں پتھر بن کے ڈوبے منظر پانی میں پیاسا گھاٹ سے لوٹ آیا تھا پیاسا کیوں مجھ پر راز کھلا یہ جا کر پانی میں جھیل امڈ کے چاند تلک جا پہنچی ہے کس نے پھینکے اتنے کنکر پانی میں میری آنکھ بھی دھیرے سے لگ جاتی ہے جب بھی سویا دیکھوں امبر پانی میں دیکھیں اب ...

مزید پڑھیے

اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے

اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے میں جو خاموش ہوا زخم جگر بول پڑے رات یادوں کے پرندوں نے بہت شور کیا جیسے خوابیدہ جزیروں میں سحر بول پڑے دل نے خاموش محبت کی طہارت سن لی دم رخصت جو ترے دیدۂ تر بول پڑے ان سے دن رات بدلنے کا سبب جاننا تھا شوق تقلید میں گم شمس و قمر بول پڑے پہلے ...

مزید پڑھیے

بے خیالی میں ترا امکان رہنے کے لئے

بے خیالی میں ترا امکان رہنے کے لئے مفلسی میں آ گیا مہمان رہنے کے لئے آپ کے ارماں کو دل سے کھینچ کر باہر کیا اب کہاں جائیں گے یہ شیطان رہنے کے لئے شہر کے حالات سے دو چار ہو کر آ گئے ڈاکوؤں کے بیچ اب دربان رہنے کے لئے دن دہاڑے خواب کیوں پلکوں پہ مرنے آ گیا یہ جگہ ہرگز نہیں آسان ...

مزید پڑھیے

دشمن تو مرے دھیان سے آگے کی بات کر

دشمن تو مرے دھیان سے آگے کی بات کر اب تیر اور کمان سے آگے کی بات کر لے کر لیا قبول کہ میں ہوں انا پرست عشق اب مرے بیان سے آگے کی بات کر رہتے ہیں خیمہ ڈال کے تیرے خیال میں اب کوٹھی یا مکان سے آگے کی بات کر گھر بار بھی پسند ہے لڑکی بھی ہے پسند پھر بیٹھ اطمینان سے آگے کی بات کر رشتوں ...

مزید پڑھیے

ضدی اڑیل ہے خرافات پہ رک جاتی ہے (ردیف .. ی)

ضدی اڑیل ہے خرافات پہ رک جاتی ہے سوچ اس شخص کے حالات پہ رک جاتی ہے عشق مہلت ہی نہیں دیتا جہاں داری کا ہر تمنا تو اسی ذات پہ رک جاتی ہے اشک تھم جاتے ہیں بدلے ہوئے موسم کے سبب اور بارش کبھی جذبات پہ رک جاتی ہے بھائی کچھ ضبط سکھا دوسرے گھر جائے گی تیری بیٹی تو سوالات پہ رک جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 595 سے 4657