اثر اتنا تو ہو یارب ہمارے جذبۂ دل کا
اثر اتنا تو ہو یارب ہمارے جذبۂ دل کا
بغیر التجا پردہ الٹ دے کوئی محمل کا
جو تم چاہو بدل جائے ابھی نقشہ مرے دل کا
تمہیں مشکل نہیں آسان کرنا میری مشکل کا
خدا جانے یہ کس کا خون ناحق رنگ لایا ہے
ہر آنسو سرخ ہے جو بہہ رہا ہے شمع محفل کا
مجھی سے کیا ہے میرے آنسوؤں کے منتظر کیا ہو
ذرا تم ہی پلٹ دو مسکرا کر رنگ محفل کا
سمجھ بیٹھے سکون عارضی کو مستقل راحت
نہ کیوں ماتم کروں میں عشرت یاران ساحل کا
کوئی دوزخ بنائیں گے کہ وہ جنت بنائیں گے
خدا جانے کریں گے کیا مری خاکستر دل کا
شفاؔ یہ کسر شان ذوق توہین نظارہ ہے
کہ ان کو دیکھ کر کیا دیکھنا پھر ماہ کامل کا