آنکھ کو حسن کا شاہکار دکھانے سے رہی
آنکھ کو حسن کا شاہکار دکھانے سے رہی
شاعری ان کے خد و خال بنانے سے رہی
یہ سبھی دشت مرا جوش جنوں جانتے ہیں
یہ ہوا میری طرح خاک اڑانے سے رہی
تیری بانہیں نہ سہی وسعت صحرا ہی سہی
میری مٹی تو کسی طور ٹھکانے سے رہی
ہم نے بھی چہرہ بدلنے کا ہنر سیکھ لیا
دوستی اپنی بھی کچھ روز زمانے سے رہی
کھائے جاتا ہے شب و روز ترے ہجر کا غم
میری تنہائی مری عمر بڑھانے سے رہی
اب کسی اور کے در پہ ہے یقیناً اخترؔ
زندگی مجھ سے تو اب آنکھ ملانے سے رہی