شاعری

آنکھ کی جاگیر اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں

آنکھ کی جاگیر اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں آنسوؤں کے دام میں لیکن ملا کچھ بھی نہیں ہے پرانا پیڑ برگد کا اسے سب علم ہے پنچھیوں کو تھا بھرم یہ جانتا کچھ بھی نہیں کچھ تو کہنا چاہتی تھی میری خاموشی تمہیں تم بڑے مصروف تھے تم نے سنا کچھ بھی نہیں اس دل ناشاد کا الزام اس کے سر ہو کیوں وہ ...

مزید پڑھیے

کیا سچ میں اتنے اچھے ہو

کیا سچ میں اتنے اچھے ہو یا باتیں اچھی کرتے ہو مجھ کو بھی ضد ہے میں دیکھوں تم کیسے غصہ کرتے ہو آنسو کیسے اب ٹھہریں گے ان آنکھوں میں تم ٹھہرے ہو دنیا بھی ویسے پیاری ہے تم مجھ کو بے حد پیارے ہو اک کونا اس میں میرا ہے گھر وہ جس میں تم رہتے ہو سب راہیں آساں ہے جانا مشکل تو تم ہی لگتے ...

مزید پڑھیے

رت سہانی ہے اس کی آنکھوں میں

رت سہانی ہے اس کی آنکھوں میں رات رانی ہے اس کی آنکھوں میں دل کی خواہش ہے ڈوب مرنے کی اتنا پانی ہے اس کی آنکھوں میں دیکھ بھر لے تو کھل اٹھے گلشن وہ جوانی ہے اس کی آنکھوں میں عشق جو جاودانی ہوتا ہے جاودانی ہے اس کی آنکھوں میں ہیر رانجھے کو جس میں جینا ہے وہ کہانی ہے اس کی آنکھوں ...

مزید پڑھیے

لب کی لرزش جبیں پہ رکھ دینا

لب کی لرزش جبیں پہ رکھ دینا سارے شکوہ وہیں پہ رکھ دینا التجا دھڑکنوں کی سن لینا بہکی سانسیں یہیں پہ رکھ دینا ہے سیاہی جو تیرے اشکوں کی آنکھ کی سرمگیں پہ رکھ دینا چاند کتنا فلک پہ تنہا ہے اس کو لا کر زمیں پہ رکھ دینا اتنی شدت سے کون چاہے گا تم یہ ذمہ ہمیں پہ رکھ دینا یار یہ عشق ...

مزید پڑھیے

آج نظریں چرا رہا تھا بہت

آج نظریں چرا رہا تھا بہت جو کبھی آشنا رہا تھا بہت آنسوؤں میں ڈبا کے ختم کیا ایک رشتہ تھکا رہا تھا بہت دور جانا تو طے ہی تھا اس کا شخص وہ ہم کو بھا رہا تھا بہت ہم سے بھی انتظار ہو نہ سکا وقت بھی وہ لگا رہا تھا بہت موت نے عین تب ہی دستک دی جب یہ جینا لبھا رہا تھا بہت

مزید پڑھیے

غم میں ہر لب پہ وہی آہ و بکا آتی ہے

غم میں ہر لب پہ وہی آہ و بکا آتی ہے مختلف ساز ہیں اور ایک صدا آتی ہے ہو کے زنداں سے جو گلشن کی ہوا آتی ہے اور دیوانوں کو دیوانہ بنا آتی ہے پست ہوتی ہے جہاں اہل دلا کی ہمت اس جگہ کام غریبوں کی دعا آتی ہے مجھ سے ہر حال میں اچھا ہے تصور میرا کم سے کم آپ کی تصویر بنا آتی ہے جب جفاؤں سے ...

مزید پڑھیے

دیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے

دیر میں ہے وہ نہ کعبہ میں نہ بت خانے میں ہے ڈھونڈھتا ہوں جس کو میں وہ میرے کاشانے میں ہے یہ ترا حسن تصور تیرے کاشانے میں ہے تو نہ آبادی میں ہے غافل نہ ویرانے میں ہے ہے بجائے خود زمانہ بیکسی میں مبتلا اب مروت کا نشاں اپنے نہ بیگانے میں ہے اس کی حسرت دیکھیے اس کا کلیجہ دیکھیے راز ...

مزید پڑھیے

اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا

اب بعد فنا کس کو بتاؤں کہ میں کیا تھا اک خواب تھا اور خواب بھی تعبیر نما تھا اب تک وہ سماں یاد ہے جب ہوش بجا تھا ہر شے میں مجھے لطف تھا ہر شے میں مزا تھا تم جور و جفا مجھ پہ نہ کرتے تو برا تھا ہوتے نہ اگر ظلم تو کیا لطف وفا تھا کچھ یاد ہیں آغاز محبت کی وہ باتیں اور بھولنے والے یہی ...

مزید پڑھیے

ہو راہزن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب

ہو راہزن کی ہدایت کہ راہبر کے فریب مری نگاہ نے کھائے نظر نظر کے فریب یہ بت کدہ یہ کلیسا یہ مسجدیں یہ حرم یہ سب فریب ہیں اور ایک سنگ در کے فریب سمجھ رہے تھے کہ اشکوں سے ہوگا دل ہلکا نہ جانتے تھے کہ ہیں یہ بھی چشم تر کے فریب پتہ چلا کہ ہر اک گام میں تھی اک منزل کھلے ہیں منزل مقصود ...

مزید پڑھیے

جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے

جو ہم انجام پر اپنی نظر اے باغباں کرتے چمن میں آگ دے دیتے قفس کو آشیاں کرتے اجل کمبخت آتی ہے نہیں در پر ترے ورنہ ہم ایسی موت پر بھی زندگانی کا گماں کرتے سہی افشائے راز عشق لیکن یہ مصیبت ہے نہ کرتے سجدہ تیرے در پر آخر تو کہاں کرتے ہمیں دیر و حرم میں قید رکھا بد نصیبی نے جہاں سجدہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 583 سے 4657