لب کی لرزش جبیں پہ رکھ دینا

لب کی لرزش جبیں پہ رکھ دینا
سارے شکوہ وہیں پہ رکھ دینا


التجا دھڑکنوں کی سن لینا
بہکی سانسیں یہیں پہ رکھ دینا


ہے سیاہی جو تیرے اشکوں کی
آنکھ کی سرمگیں پہ رکھ دینا


چاند کتنا فلک پہ تنہا ہے
اس کو لا کر زمیں پہ رکھ دینا


اتنی شدت سے کون چاہے گا
تم یہ ذمہ ہمیں پہ رکھ دینا


یار یہ عشق والی مٹی ہے
میری میت یہیں پہ رکھ دینا