زندہ ہوں یوں کہ بس میں مری خود کشی نہیں
زندہ ہوں یوں کہ بس میں مری خود کشی نہیں آخر یہ اور کیا ہے اگر بے بسی نہیں وہ دل دیا نصیب نے جس میں خوشی نہیں اک چیز تو ملی ہے مگر کام کی نہیں ہاں اے شب فراق تجھے جانتا ہوں میں تو صبح تک رہی تو مری زندگی نہیں ہرگز فریب رنگ مسرت نہ کھائیے یہ غم کا نام ہے یہ حقیقی خوشی نہیں دنیا کی ...