شاعری

نہیں زمانے میں حاصل کہیں ٹھکانہ مجھے

نہیں زمانے میں حاصل کہیں ٹھکانہ مجھے کہاں کہاں لئے پھرتا ہے آب و دانہ مجھے وہ دیکھتے ہیں بہ انداز مجرمانہ مجھے کہ جن سے پیار ہے اے دوست والہانہ مجھے جھلستی دھوپ میں اے کاش ایسا وقت آئے نصیب ہو تری پلکوں کا آشیانہ مجھے کبھی رہا نہ غریبوں سے واسطہ جس کو وہ دے گا کیا مری محنت کا ...

مزید پڑھیے

تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیا

تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیا جائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیا کی ذرا دست جنوں نے کوتہی چاک آ کر تا بہ داماں رہ گیا دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ جادۂ راہ بیاباں رہ گیا قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں تیغ کا گردن پہ احساں رہ گیا ہم تو پہنچے بزم جاناں تک مگر شکوۂ بیداد درباں رہ گیا کیا ...

مزید پڑھیے

تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں

تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوں واعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوں پھینک دینے کی کوئی چیز نہیں فضل و کمال ورنہ حاسد تری خاطر سے میں یہ بھی کر لوں اے نکیرین قیامت ہی پہ رکھو پرسش میں ذرا عمر گزشتہ کی تلافی کر لوں کچھ تو ہو چارۂ غم بات تو یک ہو جائے تم خفا ہو تو اجل ہی کو میں ...

مزید پڑھیے

یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے

یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائے گل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائے اس میں در پردہ سمجھتے ہیں وہ اپنا ہی گلہ شکوۂ چرخ بھی زنہار نہ ہونے پائے فتنۂ حشر جو آنا تو دبے پاؤں ذرا بخت خفتہ مرا بیدار نہ ہونے پائے ہائے دل کھول کے کچھ کہہ نہ سکے سوز دروں آبلے ہم سخن خار نہ ہونے پائے باغ کی سیر ...

مزید پڑھیے

بڑے ہی موڈ میں تتلی تھی اس دن

بڑے ہی موڈ میں تتلی تھی اس دن تمہاری بات پھر نکلی تھی اس دن فقط خود کو نہ تم الزام دینا ہوا بھی کچھ ذرا پگلی تھی اس دن تیرے ہاتھوں میں میری انگلیاں تھیں بلا کی تشنگی مچلی تھی اس دن وہ دن جب ہم جیے تھے اصلیت میں لگی دنیا ہمیں نکلی تھی اس دن چھتوں پر شور تھا بس بارشوں کا مہرباں ...

مزید پڑھیے

دوا سے تو کچھ ہوا نہیں اب دعا کریں گے

دوا سے تو کچھ ہوا نہیں اب دعا کریں گے اثر دعا میں ہوا نہیں گر تو کیا کریں گے حقیقتوں کی یہ دنیا ہم کو نہ ملنے دے گی سو یار ہم تم سے خواب میں ہی ملا کریں گے ہمیں ہے دریا کے پار جانا سو ہم کسی دن اس ایک بوڑھے درخت سے مشورہ کریں گے اگر یہ سوچو گے پھر تو دنیا میں کیا بچے گا ہمیں ملی ہے ...

مزید پڑھیے

دور تک رہ گئی ہے تنہائی

دور تک رہ گئی ہے تنہائی خود پرستی کی یہ سزا پائی اب تو دیدار بھی میسر کر جب عطا کی ہے مجھ کو بینائی کیا ترا کوئی بھی نہیں ہے یہاں طنز کرتی ہے روز تنہائی دوسرا عشق کرکے دیکھ لیا ہو نہ پائی تمہاری بھرپائی کون میری گلی میں آیا ہے کس نے ساری فضا ہے مہکائی مسئلے بات کر کے حل ...

مزید پڑھیے

لگا ہوا ہے ہر ایک انساں اسے لبھانے کی کوششوں میں

لگا ہوا ہے ہر ایک انساں اسے لبھانے کی کوششوں میں لڑائی آپس میں کر رہا ہے بس اس کو پانے کی کوششوں میں اداس آنکھوں میں دکھ رہا ہے کہ بات کچھ تو ستا رہی ہے مگر مسلسل لگا ہوا ہے وہ مسکرانے کی کوششوں میں بس اک دلاسے سے رات بھر میں ہی بھر گیا خاکدان پورا یہ آخری کش میں پی رہا ہوں تمہیں ...

مزید پڑھیے

جدائی بے وفائی اور تنہا رات کا غم

جدائی بے وفائی اور تنہا رات کا غم یہ بس میرا نہیں ہے یہ ہے ساری ذات کا غم نہ کوئی چاند ہے ساتھی نہ تارہ ہے نہ جگنو نہ دیکھا جائے گا مجھ سے اب اور اس رات کا غم کوئی آئے چلا جائے کوئی روٹھے منائے نہیں محسوس ہوتا اب کسی بھی بات کا غم تجھے جتنی خوشی ہے جیتنے پر اس سے بڑھ کر منایا جا ...

مزید پڑھیے

فرہاد نہیں مجنوں رانجھا بھی نہیں ہوں

فرہاد نہیں مجنوں رانجھا بھی نہیں ہوں ہوں عشق کا مارا مگر اتنا بھی نہیں ہوں کیوں طنز کسے ہیں مرے کردار پہ اے دوست گر اچھا نہیں ہوں ترے جیسا بھی نہیں ہوں وہ آئیں تو سمجھیں کہ مرا حال برا ہے میں اس لئے گھر اپنا سجاتا بھی نہیں ہوں بدنام مجھے کر کے وہ مشہور ہوئے ہیں سو اس لئے محفل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 582 سے 4657