رت سہانی ہے اس کی آنکھوں میں

رت سہانی ہے اس کی آنکھوں میں
رات رانی ہے اس کی آنکھوں میں


دل کی خواہش ہے ڈوب مرنے کی
اتنا پانی ہے اس کی آنکھوں میں


دیکھ بھر لے تو کھل اٹھے گلشن
وہ جوانی ہے اس کی آنکھوں میں


عشق جو جاودانی ہوتا ہے
جاودانی ہے اس کی آنکھوں میں


ہیر رانجھے کو جس میں جینا ہے
وہ کہانی ہے اس کی آنکھوں میں


نو شگفتہ انار کا بوٹا
زعفرانی ہے اس کی آنکھوں میں


اک اشارے پہ چل پڑے دنیا
وہ روانی ہے اس کی آنکھوں میں


لاکھ ہو شہر خوشبوؤں والے
راجدھانی ہے اس کی آنکھوں میں


اک ہے بے حد ذہین سی لڑکی
اک دوانی ہے اس کی آنکھوں میں


ہے اگر لفظ زندگی مشکل
تو معانی ہیں اس کی آنکھوں میں