کیا سچ میں اتنے اچھے ہو

کیا سچ میں اتنے اچھے ہو
یا باتیں اچھی کرتے ہو


مجھ کو بھی ضد ہے میں دیکھوں
تم کیسے غصہ کرتے ہو


آنسو کیسے اب ٹھہریں گے
ان آنکھوں میں تم ٹھہرے ہو


دنیا بھی ویسے پیاری ہے
تم مجھ کو بے حد پیارے ہو


اک کونا اس میں میرا ہے
گھر وہ جس میں تم رہتے ہو


سب راہیں آساں ہے جانا
مشکل تو تم ہی لگتے ہو


اک دن میں سن لوں گی وہ بھی
خود سے جو باتیں کرتے ہو