آج نظریں چرا رہا تھا بہت

آج نظریں چرا رہا تھا بہت
جو کبھی آشنا رہا تھا بہت


آنسوؤں میں ڈبا کے ختم کیا
ایک رشتہ تھکا رہا تھا بہت


دور جانا تو طے ہی تھا اس کا
شخص وہ ہم کو بھا رہا تھا بہت


ہم سے بھی انتظار ہو نہ سکا
وقت بھی وہ لگا رہا تھا بہت


موت نے عین تب ہی دستک دی
جب یہ جینا لبھا رہا تھا بہت