آنکھ کی جاگیر اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں

آنکھ کی جاگیر اشکوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آنسوؤں کے دام میں لیکن ملا کچھ بھی نہیں


ہے پرانا پیڑ برگد کا اسے سب علم ہے
پنچھیوں کو تھا بھرم یہ جانتا کچھ بھی نہیں


کچھ تو کہنا چاہتی تھی میری خاموشی تمہیں
تم بڑے مصروف تھے تم نے سنا کچھ بھی نہیں


اس دل ناشاد کا الزام اس کے سر ہو کیوں
وہ ہے تھوڑا بے وفا اس کے سوا کچھ بھی نہیں


کچھ ادھوری خواہشیں اور چند ضدی حوصلے
زندگی کا فلسفہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں


غم نہیں دلبر نہیں اور عاشقی بھی کی نہیں
زندگی بخشی تھی رب نے تو جیا کچھ بھی نہیں