شاعری

خود فاصلے ہی وصل کی تحریک ہو گئے

خود فاصلے ہی وصل کی تحریک ہو گئے تم دور ہو کے اور بھی نزدیک ہو گئے جب سے چھٹا ہے ہاتھ ترا میرے ہاتھ سے سب راستے حیات کے تاریک ہو گئے جن راستوں پہ دوڑ کے ہم تم چلے تھے ساتھ تنہا چلے تو بال سے باریک ہو گئے ان کے بغیر جینا بھی اک جرم ہو گیا لمحے تمام مانگی ہوئی بھیک ہو گئے اتنا ہوا ...

مزید پڑھیے

دھجیاں جیب و گریباں کی اڑا دیں ہم لوگ

دھجیاں جیب و گریباں کی اڑا دیں ہم لوگ آئیے فصل بہاراں کا پتہ دیں ہم لوگ جس کے سائے میں تعصب کی تپش شامل ہو وقت کہتا ہے وہ دیوار گرا دیں ہم لوگ دیکھیں پھر کیسے مٹاتے ہیں مٹانے والے ایک اک شاخ نشیمن سے سجا دیں ہم لوگ اور اگر ہو نہ سکے کچھ بھی اجالوں کی سبیل اک چراغ اپنے لہو سے ہی ...

مزید پڑھیے

آج کا وعدہ یوں ہی کل پہ اٹھائے رکھیے

آج کا وعدہ یوں ہی کل پہ اٹھائے رکھیے غم نصیبوں کو بہر حال جلائے رکھیے خون کے گھونٹ پئے جائیے صہبا کے عوض کچھ نہ کچھ بزم کا ماحول بنائے رکھیے حال کے غم کا نہیں اس کے سوا کوئی علاج اپنے ماضی کو کلیجے سے لگائے رکھیے جانے کب مانگ لے وہ اپنی محبت کا صلہ کم سے کم اتنا لہو دل میں بچائے ...

مزید پڑھیے

گھڑی گھڑی نئے چہرے بدل رہے ہیں ہم

گھڑی گھڑی نئے چہرے بدل رہے ہیں ہم نئی حیات کے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں ہم شب ستم کے اندھیرے میں شمع کی مانند خود اپنی آگ میں صدیوں سے جل رہے ہیں ہم ہزار وقت کے طوفاں نے ٹھوکریں ماریں مگر چٹان کی صورت اٹل رہے ہیں ہم نہ راہبر ہے کوئی اور نہ منزلوں کے نشاں نہ جانے کس کے سہارے پہ چل ...

مزید پڑھیے

ہم نے اس شخص کو مایوسی کا پیکر جانا

ہم نے اس شخص کو مایوسی کا پیکر جانا جس نے حالات کی گردش کو مقدر جانا میرے ہر شعر سے محظوظ ہوئی ہے دنیا میرے ہر زخم کو دنیا نے گل تر جانا تجربے کون سی منزل پہ مجھے لے آئے میرے احساس نے ہر پھول کو پتھر جانا اس سے پوچھو کہ غریب الوطنی کیا شے ہے جس کو مشکل ہو وطن اپنے پلٹ کر جانا اس ...

مزید پڑھیے

ہر آن رہ شوق میں چلنے کی لگن ہے

ہر آن رہ شوق میں چلنے کی لگن ہے ہر گام وہی سلسلۂ دار و رسن ہے آہستہ گزر باد صبا اس کی گلی سے سنتے ہیں کہ اس شوخ کا پھولوں سا بدن ہے اس باغ کے خاروں سے بھرا ہے مرا دامن جس باغ کے پھولوں میں بھی خاروں سی چبھن ہے اللہ رے ہر سانس کی گھٹتی ہوئی قیمت اس دور کے انسان کا جی لینا بھی فن ...

مزید پڑھیے

نہ صرف یہ کہ سبھی گل بدن دریدہ رہے

نہ صرف یہ کہ سبھی گل بدن دریدہ رہے ہمارے حال پہ پتھر بھی آب دیدہ رہے اسی زمانے میں فن پر نکھار بھی آیا وہ جس زمانے میں ہم سے بہت کشیدہ رہے انہیں نے وقت کے چہرے کو تابناکی دی جو لوگ وقت کے ہاتھوں ستم رسیدہ رہے ہم ایک قصۂ اندوہ و یاس تھے لیکن سماعتوں کے نگر میں بھی ناشنیدہ ...

مزید پڑھیے

سوز الم سے دور ہوا جا رہا ہوں میں

سوز الم سے دور ہوا جا رہا ہوں میں وہ تو جلا رہے ہیں بجھا جا رہا ہوں میں مانوس التفات ہوا جا رہا ہوں میں دیکھ اے نگاہ ناز مٹا جا رہا ہوں میں جلووں کی تابشیں ہیں کہ اللہ کی پناہ رنگیں تجلیوں میں گھرا جا رہا ہوں میں یہ آتے جاتے ہے نگہ غیظ کس لئے لے آج تیرے در سے اٹھا جا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

ہنگامہ ہے نہ فتنۂ دوراں ہے آج کل

ہنگامہ ہے نہ فتنۂ دوراں ہے آج کل ہر سمت شمع امن فروزاں ہے آج کل سننے میں آ رہے ہیں مسرت کے واقعات جمہوریت کا حسن نمایاں ہے آج کل جو غنچہ ہے وہ اپنے تبسم میں مست ہے جو پھول ہے بہار بہ داماں ہے آج کل نظروں میں اضطراب نہ دل میں کوئی کھٹک کانٹوں سے پاک صحن گلستاں ہے آج کل مدت کے بعد ...

مزید پڑھیے

زہے کوشش کامیاب محبت

زہے کوشش کامیاب محبت ہمیشہ رہے ہم خراب محبت سکون محبت جو ممکن نہیں ہے بڑھا دیجئے اضطراب محبت جھکی جا رہی ہیں وہ معصوم نظریں دیا جا رہا ہے جواب محبت بلا واسطہ ہم سے آنکھیں ملاؤ رہے درمیاں کیوں حجاب محبت تری بزم جنت تھی لیکن کروں کیا اٹھا لے گیا اضطراب محبت نہ ترسا نہ ترسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 577 سے 4657