اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی

اگر کچھ تھی تو بس یہ تھی تمنا آخری اپنی
کہ وہ ساحل پہ ہوتے اور کشتی ڈوبتی اپنی


ہمیں تو شام غم میں کاٹنی ہے زندگی اپنی
جہاں وہ ہوں وہیں اے چاند لے جا چاندنی اپنی


نہ ہے یہ اضطراب اپنا نہ ہے یہ بے خودی اپنی
تری محفل میں شاید بھول آیا زندگی اپنی


وہیں چلئے وہیں چلئے محبت کا تقاضہ ہے
وہ محفل ہائے جس محفل میں دنیا لٹ گئی اپنی


مناسب ہو تو اے ظالم گھڑی بھر کے لئے آ جا
بجھانا ہے ترے دامن سے شام زندگی اپنی