شاعری

ہر فلک بوس عمارت ہے انا کی تصویر (ردیف .. ن)

ہر فلک بوس عمارت ہے انا کی تصویر اور میں ٹوٹ کے گرتی ہوئی دیوار میں ہوں تم کو تنہائی کا احساس ہوا کیوں آخر میں تو مدت سے تمہارے در و دیوار میں ہوں شہر کے شہر پہ ہے نیند کا افسوں طاری میں ہوں خوش بخت کہ اک دیدۂ بے دار میں ہوں نہ سمندر نہ گھٹاؤں کی رہین منت بھیگتی اپنے ہی جذبات کی ...

مزید پڑھیے

یہ شہر تو ہمیں صحرا دکھائی دیتا ہے

یہ شہر تو ہمیں صحرا دکھائی دیتا ہے یہاں ہر آدمی تنہا دکھائی دیتا ہے وہ راہبر ہو کہ رہزن ہو یا رفیق سفر ہمیں تو ایک ہی جیسا دکھائی دیتا ہے جو خود نمائی کی فرضی بلندیوں پر ہے اسے ہر آدمی بونا دکھائی دیتا ہے نشیب عقل کے زندانیوں کو کیا معلوم فراز دار سے کیا کیا دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

کلیسا یا حرم میں اور نہ ویرانوں میں ملتا ہے

کلیسا یا حرم میں اور نہ ویرانوں میں ملتا ہے جو سچا آدمی ہے صرف مے خانوں میں ملتا ہے پرائی آگ میں جلنا نہیں آساں خرد مندو یہ جذبہ تو فقط ہم جیسے دیوانوں میں ملتا ہے یہ بے ماضی نیا گھر مسئلوں کا ایک جنگل ہے سکون دل تو بس بوسیدہ دالانوں میں ملتا ہے کوئی چہرہ مکمل ہی نہیں تصویر کیا ...

مزید پڑھیے

اے جنوں تیرا ابھی تک نہ مقدر بدلا

اے جنوں تیرا ابھی تک نہ مقدر بدلا شہر بدلا نہ کسی ہاتھ کا پتھر بدلا زندگی بخش دی جب قتل مجھے کر نہ سکا میرے قاتل نے بہت تیز یہ خنجر بدلا ہو گئی راہ جنوں پھر کسی سازش کا شکار مجھ کو لگتا ہے ہر اک میل کا پتھر بدلا میں تو سمجھا تھا یہاں فن کی پرستش ہوگی چند سکوں کا اچھلنا تھا کہ ...

مزید پڑھیے

راہیں ویران تو اجڑے ہوئے کچھ گھر ہوں گے

راہیں ویران تو اجڑے ہوئے کچھ گھر ہوں گے دشت سے بڑھ کے مرے شہر کے منظر ہوں گے یوں ہی تعمیر اگر ہوتے رہے شیش محل ایک دن شہر کی ہر راہ میں پتھر ہوں گے دشت میں ہم نے یہ مانا کہ ملیں گے وحشی شہر والوں سے تو ہر حال میں بہتر ہوں گے کیا خبر تھی کہ گلابوں سے حسیں ہونٹوں پر زہر میں ڈوبے ...

مزید پڑھیے

بادلوں میں بجلیاں کوندیں اجالا ہو گیا

بادلوں میں بجلیاں کوندیں اجالا ہو گیا کم نظر کہنے لگے اٹھو سویرا ہو گیا ڈھلتے سورج کی شعاعوں کا کرشمہ تھا کہ میں دشت میں خود اپنے سائے سے بھی چھوٹا ہو گیا پوچھنا چاہو تو پوچھو اس سے تنہائی کا غم بھیڑ میں رہتے ہوئے جو شخص تنہا ہو گیا ہائے وہ صدیاں جو لمحوں میں سمٹ کر رہ ...

مزید پڑھیے

گھڑی گھڑی نئے چہرے بدل رہے ہیں ہم

گھڑی گھڑی نئے چہرے بدل رہے ہیں ہم نئی حیات کے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں ہم شب ستم کے اندھیرے میں شمع کی مانند خود اپنی آگ میں صدیوں سے جل رہے ہیں ہم ہزار وقت کے طوفاں نے ٹھوکریں ماریں مگر چٹان کی صورت اٹل رہے ہیں ہم نہ راہبر ہے کوئی اور نہ منزلوں کے نشاں نہ جانے کس کے سہارے پہ چل ...

مزید پڑھیے

دنیا کو درس مہر و وفا دے رہے ہیں ہم

دنیا کو درس مہر و وفا دے رہے ہیں ہم صحرا میں جیسے کوئی صدا دے رہے ہیں ہم یہ سوچنا فضول ہے دنیا سے کیا ملا یہ دیکھنا ضرور ہے کیا دے رہے ہیں ہم لے کر جزائے خلد کی اک آرزوئے خام خود کو نہ جانے کب سے سزا دے رہے ہیں ہم اے رہزن متاع دل و جاں خدا گواہ تجھ کو بصد خلوص دعا دے رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی ہی آرزؤں سے اک جنگ ہے حیات

اپنی ہی آرزؤں سے اک جنگ ہے حیات بس یوں سمجھ لو دست تہہ سنگ ہے حیات کیوں مرگ ناگہاں کو پکاریں کہ آج کل مرنے کا ایک اور نیا ڈھنگ ہے حیات اے ناصحان عصر جئے جا رہے ہو کیوں جب جرم ہے گناہ ہے اور ننگ ہے حیات ہیں تیرے باغیوں پہ زمانے کی نعمتیں تیرے جو ہیں انہیں پہ بہت تنگ ہے حیات اے ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی پھول نہ پھل اور نہ کوئی پتا تھا

نہ کوئی پھول نہ پھل اور نہ کوئی پتا تھا میں جس کے سائے میں بیٹھا وہ پیڑ ننگا تھا چمک دمک میں تمہارا خلوص ہیرا تھا مرا وجود بہر حال ایک شیشہ تھا عجیب شہر سے گزرا میں رات اے لوگو ہر ایک شخص کے چہرے پہ میرا چہرہ تھا وہ آدمی جسے اپنا سمجھ لیا تو نے وہ بد نصیب تو اپنے لئے پرایا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 576 سے 4657