شاعری

نہ کوئی خواب نہ ماضی ہی میرے حال کے پاس

نہ کوئی خواب نہ ماضی ہی میرے حال کے پاس کوئی کمال نہ ٹھہرا مرے زوال کے پاس نہ میٹھے لفظ نہ لہجہ ہی اندمال کے پاس جواب کا تو گزر بھی نہیں سوال کے پاس فراق و وصل کے معنی بدل کے رکھ دے گا ترے خیال کا ہونا مرے خیال کے پاس مسرتوں کے دکھوں کا تو ذکر بھی بے کار کہاں ہے کوئی مداوا کسی ...

مزید پڑھیے

مصلحت کے زاویوں سے کس قدر انجان ہے

مصلحت کے زاویوں سے کس قدر انجان ہے آئینوں کے بیچ میں پتھر بہت حیران ہے کوئی کیوں بنتا سر محفل تماشا صاحبو سر اٹھا کر بولنا تو بس میری پہچان ہے حامیوں کی بھیڑ پر اس راز کو افشا کرو قافلے کے منتشر ہونے کا بھی امکان ہے میرا رونا گڑگڑانا رائیگاں سب رائیگاں آپ کا اک مسکرانا دائمی ...

مزید پڑھیے

ہمارے درد کی جانب اشارا کرتی ہیں

ہمارے درد کی جانب اشارا کرتی ہیں فقط کہانیاں ہم کو گوارا کرتی ہیں یہ سادگی یہ نجابت جو عیب ہیں میرے سنا تھا ان پہ تو نسلیں گزارا کرتی ہیں خود اپنے سامنے ڈٹ جاتی ہیں جو شخصیتیں وہ جیتتی ہیں کسی سے نہ ہارا کرتی ہیں شریف لوگ کہ جیسے سکوت آب رواں کچھ ایک موجیں مگر سر ابھارا کرتی ...

مزید پڑھیے

خود کو خود پر ہی جو افشا کبھی کرنا پڑ جائے

خود کو خود پر ہی جو افشا کبھی کرنا پڑ جائے جیسے جینے کی بہت چاہ میں مرنا پڑ جائے ایسا اک وقت جب آتا ہے تو کیا کرتے ہو دل جو کرنا نہیں چاہے وہی کرنا پڑ جائے ہو تو مہتاب کے ہم رقص مگر ایسا نہ ہو دامن چشم ستاروں ہی سے بھرنا پڑ جائے جس کو دیکھا نہ کبھی جس کی تمنا بھی نہ کی پاؤں اسی شہر ...

مزید پڑھیے

ہم زندگی شناس تھے سب سے جدا رہے

ہم زندگی شناس تھے سب سے جدا رہے بستی میں ہول آیا تو جنگل میں جا رہے کمرے میں میرے دھوپ کا آنا بہ وقت صبح آنکھوں میں کاش ایک ہی منظر بسا رہے پھر آج میرے درد نے مجھ کو منا لیا کوئی کسی عزیز سے کب تک خفا رہے کب تک کسی پڑاؤ پہ وحشت کرے قیام کب تک کسی کے ہجر کا سایہ گھنا رہے بابا یہ ...

مزید پڑھیے

میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں

میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں اس نے کہا کیا بات ہے میں نے کہا کچھ بھی نہیں ہر ذہن کو سودا ہوا ہر آنکھ نے کچھ پڑھ لیا لیکن سر قرطاس جاں میں نے لکھا کچھ بھی نہیں دیوار شہر عصر پر کیا قامتیں چسپاں ہوئیں کوشش تو کچھ میں نے بھی کی لیکن بنا کچھ بھی نہیں جس سے نہ کہنا تھا کبھی ...

مزید پڑھیے

آج کا وعدہ یوں ہی کل پہ اٹھائے رکھئے

آج کا وعدہ یوں ہی کل پہ اٹھائے رکھئے غم نصیبوں کو بہر حال جلائے رکھئے خون کے گھونٹ پئے جائیے صہبا کے عوض کچھ نہ کچھ بزم کا ماحول بنائے رکھئے حال کے غم کا نہیں اس کے سوا کوئی علاج اپنے ماضی کو کلیجے سے لگائے رکھئے جانے کب مانگ لے وہ اپنی محبت کا صلہ کم سے کم اتنا لہو دل میں بچائے ...

مزید پڑھیے

ہوائیں تیز تھیں ماحول گرد گرد نہ تھا

ہوائیں تیز تھیں ماحول گرد گرد نہ تھا رخ حیات کبھی اتنا زرد زرد نہ تھا تھا انتشار ازل ہی سے آدمی کا نصیب مگر سماج کبھی اتنا فرد فرد نہ تھا جو تیرے ہجر میں اٹھتا تھا دل میں رہ رہ کر وہ کیف وصل سے بڑھ کر تھا درد درد نہ تھا مکالموں میں ترے زیست کی حرارت تھی ترا سلوک کبھی اتنا سرد سرد ...

مزید پڑھیے

جئے جانے کے خواب میں زندہ

جئے جانے کے خواب میں زندہ اک مسلسل سراب میں زندہ زندگی کے لئے ترستے لوگ زندگی کے عذاب میں زندہ ہاتھ آئی نہیں کوئی منزل ہیں سفر کے سراب میں زندہ خواب مرتے نہیں ہیں ذہنوں کے نغمہ جیسے رباب میں زندہ کشت دل لہلہائی اشکوں نے رنگ دنیا سحاب میں زندہ وہ نمو خیز کالی مٹی ہے شکل خوشبو ...

مزید پڑھیے

دور سے آتی صدا پر رقصاں

دور سے آتی صدا پر رقصاں پاؤں میرے ہیں صبا پر رقصاں اس کا آتا ہے اندھیرے میں خیال بجلیاں جیسے گھٹا پر رقصاں تیز آندھی میں حوادث کی ہم سوکھے پتے ہیں ہوا پر رقصاں میرے پندار کے مسمار محل میں ہوں اب ان کی بنا پر رقصاں خون آلودہ مرے پاؤں ہیں اور میں اپنی انا پر رقصاں شہلاؔ اس رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 575 سے 4657