نہ کوئی خواب نہ ماضی ہی میرے حال کے پاس
نہ کوئی خواب نہ ماضی ہی میرے حال کے پاس کوئی کمال نہ ٹھہرا مرے زوال کے پاس نہ میٹھے لفظ نہ لہجہ ہی اندمال کے پاس جواب کا تو گزر بھی نہیں سوال کے پاس فراق و وصل کے معنی بدل کے رکھ دے گا ترے خیال کا ہونا مرے خیال کے پاس مسرتوں کے دکھوں کا تو ذکر بھی بے کار کہاں ہے کوئی مداوا کسی ...