شاعری

مکین شور مچاتے ہیں تو مچانے دے

مکین شور مچاتے ہیں تو مچانے دے کواڑ کھول دے تازہ ہوا کو آنے دے بھٹک نہ جائے کہیں پھر سے قافلہ تیرا چراغ تھام مجھے راستہ بتانے دے الاؤ بجھنے لگے گا تو لوگ اٹھیں گے ذرا ذرا سی کہانی سے آگ آنے دے تماش بین تماشے کا ایک حصہ ہیں اگر یہ لوگ اٹھاتے ہیں حظ اٹھانے دے تمام عمر کا رونا ...

مزید پڑھیے

یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لا مکاں کا کھیل ہے

یہ مکیں کیا یہ مکاں سب لا مکاں کا کھیل ہے اک فسوں ہے یہ جہاں سب آسماں کا کھیل ہے مدتوں کے بعد کوئی ہم سے یہ کہہ کر ملا کچھ نہیں یہ ہجر بس آہ و فغاں کا کھیل ہے آج سوکھے پھول جب ہم کو کتابوں میں ملے سوچنے پر یاد آیا باغباں کا کھیل ہے ایک مجنوں سے سر بازار جب پوچھا گیا عشق کیا ہے تو ...

مزید پڑھیے

آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مرے دوست

آج دیکھا جو کوئی شخص دیوانہ مرے دوست یاد پھر آیا مجھے میرا فسانہ مرے دوست میں ترے ہجر میں چپ چاپ چلے جاتا ہوں دل کو آتا ہے کہاں کوئی بہانہ مرے دوست خود سے نکلوں تو نئے شہر کا نقشہ دیکھوں اک زمانے سے ہوں محروم زمانہ مرے دوست دل کی بستی میں فقط آخری تم ہی ہو مکیں ایک اک کر کے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دل آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے

دل آباد کا برباد بھی ہونا ضروری ہے جسے پانا ضروری ہے اسے کھونا ضروری ہے مکمل کس طرح ہوگا تماشہ برق و باراں کا ترا ہنسنا ضروری ہے مرا رونا ضروری ہے بہت سی سرخ آنکھیں شہر میں اچھی نہیں لگتیں ترے جاگے ہوؤں کا دیر تک سونا ضروری ہے کسی کی یاد سے اس عمر میں دل کی ملاقاتیں ٹھٹھرتی شام ...

مزید پڑھیے

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو

ایک ذرہ بھی نہ مل پائے گا میرا مجھ کو زندگی تو نے کہاں لا کے بکھیرا مجھ کو سفر شب میں تو پھر چاند کی ہم راہی ہے کیا عجب ہو کسی جنگل میں سویرا مجھ کو میں کہاں نکلوں گا ماضی کو صدائیں دینے میں کہ اب یاد نہیں نام بھی میرا مجھ کو شکوۂ حال‌ سیہ گردش دوراں سے نہیں شام باقی تھی کہ جب ...

مزید پڑھیے

طفل کو سلانا ہے تھپکیاں سمجھتی ہیں

طفل کو سلانا ہے تھپکیاں سمجھتی ہیں فکر ساری ماؤں کی لوریاں سمجھتی ہیں آب و تاب رکھتے ہیں لوگ بھی سمندر بھی کون کتنا گہرا ہے ڈبکیاں سمجھتی ہیں صبح صبح جاتی ہیں روٹیاں کمانے کو باپ کی جو حالت ہے بیٹیاں سمجھتی ہیں وہ بھی ظلم سہتی ہیں وہ بھی ٹوٹ جاتی ہیں درد ایک عورت کا چوڑیاں ...

مزید پڑھیے

سفیدی خیالوں میں آنے لگی ہے

سفیدی خیالوں میں آنے لگی ہے مگر ایک خواہش ابھی تک ہری ہے چلی ہے یہ والد کے نقش قدم پر مری شاعری میرے غم پر گئی ہے جسے زندگی زندگی کہہ رہے ہو تمہیں جانب قبر کیوں لے چلی ہے میں غم کا تخلص خوشی رکھ رہا ہوں مری زیست آخر میں یوں ہنس پڑی ہے

مزید پڑھیے

حور ہو یا کوئی پری ہو تم

حور ہو یا کوئی پری ہو تم کیسے دل میں اتر گئی ہو تم تیری آنکھوں میں نیلے دریا ہیں میرے خوابوں کی جل پری ہو تم زندگی بھی تو عارضی ٹھہری کیسے کہہ دوں کہ زندگی ہو تم تم مری نظم ہو تخیل ہو میری اردو ہو شاعری ہو تم دیکھ جگنو بھی تم سے جلتے ہیں چاند نگری کی چاندنی ہو تم آئنہ خانہ بن ...

مزید پڑھیے

اس نے مجھ کو یاد کیا ہے

اس نے مجھ کو یاد کیا ہے لیکن میرے بعد کیا ہے دل کی بات بتا کر ہم نے اک رشتہ برباد کیا ہے عشق کیا تھا دونوں نے پر کس نے کس کو شاد کیا ہے پنچھی نے مرنے کی خاطر خود کو اب صیاد کیا ہے قید زیست سنا کر بولے جا تجھ کو آزاد کیا ہے آج غزل گائیں گے بادل دھرتی نے ارشاد کیا ہے

مزید پڑھیے

شعر تو بعد میں کہا میں نے

شعر تو بعد میں کہا میں نے پہلے سوچا تھا قافیہ میں نے یہ نہیں کہ جلن ہوئی مجھ کو بس تری خوشیوں کو سہا میں نے عمر بھر ٹھوکریں جدھر کھائیں پھر وہی راستہ چنا میں نے گیٹ سے رشتے لوٹ جاتے ہیں پال کے رکھی ہے انا میں نے

مزید پڑھیے
صفحہ 522 سے 4657