شاعری

دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر

دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پر اس قافلہ کو پیاس نے مارا ہے چاہ پر گیسو کو ناز ہے دل روشن کی چاہ پر پروانہ یہ چراغ ہے مار سیاہ پر نیند اڑ گئی گراں ہے یہ شب رشک ماہ پر بجلی نہ کیوں فلک سے گرے میری آہ پر ہے یاد خفتگان زمیں کا جو خط سبز بھولے سے میں قدم نہیں رکھتا گیاہ پر لٹتا ہے خانۂ ...

مزید پڑھیے

اسی سبب نہیں کھلتی مری زباں لوگو

اسی سبب نہیں کھلتی مری زباں لوگو نہ سن سکو گے کبھی دل کی داستاں لوگو وہ کون ہے جسے دل سے لگا کے پیار کریں شعور ذوق محبت رہا کہاں لوگو تمہارے رہبر منزل قریب ہی ہوں گے ذرا تلاش کرو اپنے درمیاں لوگو اب اپنے اپنے نشیمن کا ہے خدا حافظ چمک رہی ہیں زمانے میں بجلیاں لوگو چلو کہ دشت ...

مزید پڑھیے

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے

محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھے سب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھے ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے سودا تری زلفوں کا گیا ساتھ ہمارے مر کر بھی نہ چھوٹے وہ گرفتار ہمیں تھے کل رات کو دیکھا تھا جسے خواب میں تم نے رخسار پہ رکھے ہوئے رخسار ...

مزید پڑھیے

تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو

تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کو رات بھر آج پکارا ہے مرا دل مجھ کو درد و غم سے جو تپاں تھا وہ ملا دل مجھ کو اس لیے دفن کیا ہے لب ساحل مجھ کو بار حسن آپ سے لیلیٰ کا اٹھایا نہ گیا نہ لیا قیس نے جس کو وہ ملا دل مجھ کو غیر پھر غیر ہیں آخر ہیں پھر اپنے اپنے یاد کرتا ہے ترے پاس مرا دل ...

مزید پڑھیے

یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے

یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے باغبان چمن محفل جاناں ہم تھے قابل قتل نہ اے لشکر مژگاں ہم تھے دل کی اجڑی ہوئی بستی کے نگہباں ہم تھے دھجیاں جیب کی ہاتھوں میں ہیں آج اے وحشت جامہ زیبوں سے کبھی دست و گریباں ہم تھے جان لی گیسوؤں نے الفت رخ میں آخر کافروں نے ہمیں مارا کہ مسلماں ہم ...

مزید پڑھیے

کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں

کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیں مرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیں کجی پر جو افلاک آئے ہوئے ہیں ان آنکھوں کے شاید سکھائے ہوئے ہیں کبھی تو شہیدوں کی قبروں پہ آؤ یہ سب گھر تمہارے بسائے ہوئے ہیں کیا ہے جو کچھ ذکر مجھ دل جلے کا پسینہ میں بالکل نہائے ہوئے ہیں ذرا پھول سے پاؤں میلے نہ ہوں ...

مزید پڑھیے

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں

اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیں کیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیں پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں یاد کیں نشہ میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کس کی غش تجھے اے دل بیمار چلے آتے ہیں راہ میں صاحب اکسیر کھڑے ہیں مشتاق خاکساران در یار چلے آتے ہیں باغ میں پھول ...

مزید پڑھیے

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں کوئی اتنا تو آ کر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں میں نے خاک نشیمن کو بوسے دیے اور یہ کہہ کے بھی دل کو سمجھا لیا آشیانہ بنانا مرا کام تھا کوئی بجلی گرائے تو میں کیا کروں میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا ...

مزید پڑھیے

دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد

دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آباد تم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آباد تجھ سے اے درد ہے قصر دل ویراں آباد کیا سرافراز کیا خانہ ویراں آباد جس جگہ بیٹھ کے روئے وہ مکاں ڈوب گئے شہر ہونے نہیں دیتے ترے گریاں آباد قیس و فرہاد کے دم سے بھی عجب رونق تھی کچھ دنوں خوب رہے کوہ و بیاباں ...

مزید پڑھیے

منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے

منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہے کچھ کلیجہ میں درد رہتا ہے تھی کبھی رشک مہر کے عاشق دھوپ کا رنگ زرد رہتا ہے کس کے سنتے ہو رات کو نالے کہتے ہو سر میں درد رہتا ہے کبھی پوچھا نہ میرے کوچہ میں کون صحرا نورد رہتا ہے شور ہے زرد آئی ہے آندھی کیا مرا رنگ زرد رہتا ہے یاد آتی ہیں گرمیاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 465 سے 4657