بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق
بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق کم نہاد و بے ثبات انسان میں جانے کیا کیا جمع کر دیتا ہے عشق کون جانے اس کی الٹی منطقیں ٹوٹے ہاتھوں میں سپر دیتا ہے عشق پہلے کر دیتا ہے سب عالم سیاہ اور پھر اپنی خبر دیتا ہے عشق جان دینا کھیلتے ہنستے ہوئے قتل ہونے کا ہنر ...