شاعری

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق کم نہاد و بے ثبات انسان میں جانے کیا کیا جمع کر دیتا ہے عشق کون جانے اس کی الٹی منطقیں ٹوٹے ہاتھوں میں سپر دیتا ہے عشق پہلے کر دیتا ہے سب عالم سیاہ اور پھر اپنی خبر دیتا ہے عشق جان دینا کھیلتے ہنستے ہوئے قتل ہونے کا ہنر ...

مزید پڑھیے

جانے ان آنکھوں نے اس دشت میں دیکھا کیا کیا

جانے ان آنکھوں نے اس دشت میں دیکھا کیا کیا میرے سینے میں کوئی شور اٹھا تھا کیا کیا آج تک پردۂ تعبیر سے باہر نہ ملا اور ہوتا ہے شب و روز تماشا کیا کیا شبنم آثار بھلا چین سے بیٹھا کب ہوں خود کو پھیلاتا رہا آنکھ میں صحرا کیا کیا ہاں وہی رنگ جو ترتیب نہ پایا مجھ میں اپنی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا

نمو تو پہلے بھی تھا اضطراب میں نے دیا پھر اس کے ظلم و ستم کا جواب میں نے دیا وہ ایک ڈوبتی آواز باز گشت کہ آ سوال میں نے کیا تھا جواب میں نے دیا وہ آ رہا تھا مگر میں نکل گیا کہیں اور سو زخم ہجر سے بڑھ کر عذاب میں نے دیا اگرچہ ہونٹوں پہ پانی کی بوند بھی نہیں تھی سلگتے لمحوں کو ایک ...

مزید پڑھیے

بلند و پست کا ہر دم خیال رکھنا ہے

بلند و پست کا ہر دم خیال رکھنا ہے ہمیشہ ہاتھ میں کار محال رکھنا ہے وہ مجھ سے طالب بیعت ہوا ہے اور مجھے جنوں کے ہاتھ پہ دست سوال رکھنا ہے کوئی تو آ کے گنے گا جراحتیں دل کی ہرا بھرا ہمیں طاق ملال رکھنا ہے مرے چراغ کی لو سے مسابقت کیسی مجھے اسی پہ عروج و زوال رکھنا ہے کہیں تو ختم ...

مزید پڑھیے

تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا میں جی رہا ہوں مگر جان و مال ہے اس کا وہ زینہ زینہ اترنے لگے تو سب بجھ جائے وہ بام پر ہے تو سب ماہ و سال ہے اس کا میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا اگل رہی ہیں خزانے کھلی ہوئی آنکھیں خبر کرو کہ یہ سر پائمال ہے اس ...

مزید پڑھیے

کس کی خلوت سے نکھر کر صبح دم آتی ہے دھوپ

کس کی خلوت سے نکھر کر صبح دم آتی ہے دھوپ کون وہ خوش بخت ہے جس کی ملاقاتی ہے دھوپ دیدنی ہوتا ہے دو رنگوں کا اس دم امتزاج بوندیوں کے ہم جلو ہم رقص جب آتی ہے دھوپ تم تو پیارے چڑھتے سورج کے پرستاروں میں تھے کیوں ہو شکوہ سنج اگر تن کو جلا جاتی ہے دھوپ خوشبوۓ محبوس کو آزاد کرنے کے ...

مزید پڑھیے

تشنگی باقی رہے دیوانگی باقی رہے

تشنگی باقی رہے دیوانگی باقی رہے رنج و غم ہے اس لیے تاکہ خوشی باقی رہے زخم اگر بھر جائے گا تو بھول جاؤں گا اسے یہ دعا دو زخم دل کی تازگی باقی رہے قربتیں بھی دوریوں کا بن گئیں اکثر سبب اس لیے بہتر ہے ان کی بے رخی باقی رہے ٹھہر جانا موت ہے اور چلتے رہنا زندگی زندگی باقی رہے آوارگی ...

مزید پڑھیے

محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا

محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا آزاد ہو گیا ہوں زمان و مکان سے میں اک غلام تھا جو مدینے کے بیچ تھا اصل سخن میں نام کو پیچیدگی نہ تھی ابہام جس قدر تھا قرینے کے بیچ تھا جو میرے ہم سنوں سے بڑا کر گیا مجھے احساس کا وہ دن بھی مہینے کے بیچ تھا کم ...

مزید پڑھیے

جب تمہارے عشق میں میں نے جلائیں انگلیاں

جب تمہارے عشق میں میں نے جلائیں انگلیاں میرے پاگل پن پہ تم نے بھی اٹھائیں انگلیاں چاہتوں کے دائرے جب بے نشاں ہونے لگے پھر مرے خون تمنا میں نہائیں انگلیاں رات پھر ایسا ہوا کہ پیڑ کے سائے تلے یاد آئے تم تمہاری یاد آئیں انگلیاں چاہتوں کے سلسلے جب درمیاں بڑھنے لگے اس نے بالوں میں ...

مزید پڑھیے

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے مرا خدا مرے حرف دعا میں روشن ہے وہ آندھیاں تھیں کہ میں کب کا بجھ گیا ہوتا چراغ ذات بھی حمد و ثنا میں روشن ہے میں اپنی ماں کے وسیلے سے زندہ تر ٹھہروں کہ وہ لہو مرے صبر و رضا میں روشن ہے میں بڑھ رہا ہوں ادھر یا وہ آ رہا ہے ادھر وہی خوشی وہی خوشبو ہوا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4483 سے 4657