زمین ختم ہوئی سر پر آسماں نہ رہا
زمین ختم ہوئی سر پر آسماں نہ رہا اسی کے ساتھ کوئی خوف امتحاں نہ رہا ہمارے عشق کا کوئی گواہ زندہ نہیں عذاب ہجر تھا اب وہ بھی درمیاں نہ رہا تمام رات ستارے ہمیں کو دیکھتے تھے طلسم ذات سے نکلے تو یہ جہاں نہ رہا فصیل شہر پہ شب زندہ دار رہتے تھے ہجوم شہر میں ایسا کوئی جواں نہ رہا یہ ...