شاعری

زمین ختم ہوئی سر پر آسماں نہ رہا

زمین ختم ہوئی سر پر آسماں نہ رہا اسی کے ساتھ کوئی خوف امتحاں نہ رہا ہمارے عشق کا کوئی گواہ زندہ نہیں عذاب ہجر تھا اب وہ بھی درمیاں نہ رہا تمام رات ستارے ہمیں کو دیکھتے تھے طلسم ذات سے نکلے تو یہ جہاں نہ رہا فصیل شہر پہ شب زندہ دار رہتے تھے ہجوم شہر میں ایسا کوئی جواں نہ رہا یہ ...

مزید پڑھیے

شب کو ہر رنگ میں سیلاب تمہارا دیکھیں

شب کو ہر رنگ میں سیلاب تمہارا دیکھیں آنکھ کھل جائے تو دریا نہ کنارا دیکھیں دشت آغوش میں رم خوردہ چکارا دیکھیں یہ حسیں خواب بھی اک روز قضارا دیکھیں جانے کیا صورت حالات رقم تھی اس میں جو ورق چاک ہوا اس کو دوبارا دیکھیں نیند آئے بھی تو تسبیح بدن کرتے ہوئے اور پھر ساتھ اٹھیں صبح ...

مزید پڑھیے

زمیں نے کر دیا اس طرح رائیگاں مجھ کو

زمیں نے کر دیا اس طرح رائیگاں مجھ کو نظر نہ آیا کبھی درد اور دھواں مجھ کو تلاش کرتا ہے اک دوسرا جہاں مجھ کو ادھورا لگتا ہے یہ جان کا زیاں مجھ کو بچھے ہوئے ہیں تسلسل سے جلتے بجھتے چراغ ہجوم لالہ و گل لے گیا کہاں مجھ کو بھٹک رہے ہیں نظر میں نقوش گرد و باد جگا کے چھوڑ گئے پائے ...

مزید پڑھیے

دل کو ہم دریا کہیں منظر نگاری اور کیا

دل کو ہم دریا کہیں منظر نگاری اور کیا پرسش احوال آقا کم عیاری اور کیا اپنے منظر سے الگ ہوتا نہیں ہے کوئی رنگ اپنی آنکھوں کے سوا باد بہاری اور کیا ہم بھی کچھ کہتے پہ اس کی گفتگو کا سلسلہ ختم ہوتا ہی نہیں ہے ہوشیاری اور کیا سب اٹھا کر لے گئیں میری جنوں سامانیاں اب ستائے گی ہمیں ...

مزید پڑھیے

تمنا کو گل و گلزار کرنا

تمنا کو گل و گلزار کرنا مرے دشت طلب کو پار کرنا مرے مالک مجھے آسان کر دے گزر ہر سمت سے اک بار کرنا مجھے بھی رفتہ رفتہ آ گیا ہے خود اپنے کام کو دشوار کرنا نہیں یاروں میں سچ سننے کا یارا برہنہ مستیٔ گفتار کرنا میں تنہائی میں بیٹھا رو رہا ہوں بہت اچھا لگا تھا پیار کرنا

مزید پڑھیے

زبون و خوار ہوئی ہے مری جبلت بھی

زبون و خوار ہوئی ہے مری جبلت بھی مرے نصیب و وراثت میں سے امامت بھی عجب ہراس میں تھا میرے موسموں سے غنیم کہ دے رہا تھا اسے بھاگنے کی مہلت بھی وہ جب بھی آیا کم و بیش مجھ پہ وار گیا مجھے یہ شوق کہ لاتا کبھی ضرورت بھی میں اپنے زہر سے واقف ہوں وہ سمجھتا نہیں ہے میرے کیسۂ صد کام میں ...

مزید پڑھیے

پھول کا یا سنگ کا اظہار کر

پھول کا یا سنگ کا اظہار کر آسماں اورنگ کا اظہار کر جسم کے روزن سے پہلے خود نکل پھر قبائے تنگ کا اظہار کر پھول کی پتی پہ کوئی زخم ڈال آئنے میں رنگ کا اظہار کر آبگینوں میں سیاہی بھر کے چل دوستی میں جنگ کا اظہار کر دھول سے انفاس کے پیکر تراش خوشبوؤں میں رنگ کا اظہار کر پڑھ رہا ...

مزید پڑھیے

اک مسرت مرے اطراف کو انجانی دے

اک مسرت مرے اطراف کو انجانی دے نطق کو لب سے اٹھا آنکھ کو حیرانی دے ہے تمنا کہ چمکتے رہیں محور کے بغیر ہوس خام نہ دے عشق تو لا فانی دے نقش تو سارے مکمل ہیں اب الجھن یہ ہے کس کو آباد کرے اور کسے ویرانی دے دیکھ کر آئے ہیں کچھ لوگ وہاں سبز لکیر میں اسے دیکھ سکوں اتنی گراں جانی دے یہ ...

مزید پڑھیے

شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا

شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا کہ اس کا کوئی نہیں تھا مرا ٹھکانہ بھی کیا یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوا مگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا میں ہر طرف ہوں وہ آئے شکار کر لے مجھے جہاں ہدف ہی ہدف ہو تو پھر نشانہ بھی کیا وہ چاہتا ہے سلیقے سے بات کرنے لگوں جو اتنی سچ ہو ...

مزید پڑھیے

پیدا ہوا یہ حباب کیسا

پیدا ہوا یہ حباب کیسا دریا میں ہے پیچ و تاب کیسا اب فصل جنوں کہاں ہے باقی پھر دیکھ رہا ہوں خواب کیسا تھا دست ہنر میں موم سا جو پتھرا گیا وہ شباب کیسا سم سم کی صدا پہ کھل رہا تھا تھا حلقۂ در سراب کیسا ایک ایک ورق پڑھا ہوا سا ہے نسخۂ انتخاب کیسا پرتو سے ترے وجود میرا آغوش میں لے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4482 سے 4657