شاعری

حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے تو کیوں اندیشۂ تشنہ لبی معلوم ہوتی ہے تمہاری گفتگو سے آس کی خوشبو چھلکتی ہے جہاں تم ہو وہاں پہ زندگی معلوم ہوتی ہے ستارے مثل جگنو زائچے میں رقص کرتے ہیں ذرا سی دیر میں کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے جہاں پر ایک جوگن مست ہو کر گنگناتی ہے اسی ساحل پہ ...

مزید پڑھیے

تو میری نیندیں تلاشتا ہے یہی بہت ہے

تو میری نیندیں تلاشتا ہے یہی بہت ہے تو مرے خوابوں میں جاگتا ہے یہی بہت ہے زمانہ تجھ کو حریف کہہ لے اسے یہ حق ہے مری نظر میں تو دیوتا ہے یہی بہت ہے بہار میں تو نہ جانے کیسے کہاں پہ غم تھا خزاں میں مجھ کو پکارتا ہے یہی بہت ہے جہاں چراغوں کی لو خموشی سے چپ ہوئی ہیں وہاں پہ آخر تو ...

مزید پڑھیے

اشک رخسار کو دھوتا تو سخنور ہوتا

اشک رخسار کو دھوتا تو سخنور ہوتا میں سلیقے سے جو روتا تو سخنور ہوتا چشم حیرت میں بھی رقصاں تھی جھڑی اشکوں کی اپنے دامن کو بھگوتا تو سخنور ہوتا ڈوبتے شمس کے ہونٹوں سے ظفر ظاہر تھی اس تبسم کو سنجوتا تو سخنور ہوتا دشت تنہائی میں یہ انگلیاں کچھ دیر اپنی خون دل میں جو ڈبوتا تو ...

مزید پڑھیے

بڑا خوش نما یہ مقام ہے نئی زندگی کی تلاش کر

بڑا خوش نما یہ مقام ہے نئی زندگی کی تلاش کر تو نہ اپنے ذہن کی بات کر نئی دوستی کی تلاش کر ترے آسمان کا سر کبھی کسی اور زمین پہ جھک گیا یہ ہوا تو ایسا ہوا ہی کیوں کبھی اس کمی کی تلاش کر کبھی خواہشوں کے ہجوم میں جو پھسل گئے ہیں مرے قدم جسے پی کے دہر سنبھل گیا اسی مے کشی کی تلاش کر جو ...

مزید پڑھیے

محبت کا بنا ہے سلسلہ آہستہ آہستہ

محبت کا بنا ہے سلسلہ آہستہ آہستہ نکلتا جا رہا ہے راستہ آہستہ آہستہ جمال دست کی کاوش سے بدلا آدمی کا ڈھنگ چلا سورج کی جانب قافلہ آہستہ آہستہ وہی کانٹا نئی دنیا کا بھی عنوان ہے شاید دل منطق میں جو چبھتا رہا آہستہ آہستہ سنا ہے ہر کس و ناکس کو تیرا غم نہیں پھر بھی کئے جاتے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید

دشمنوں کو مرے ہم راز کرو گے شاید وقت تنہائی میں آواز کرو گے شاید تم بہت تیز ہو شہ زور ہو استاد بھی ہو تم بنا پر کے بھی پرواز کرو گے شاید یہ کھلا جسم کھلے بال یہ ہلکے ملبوس تم نئی صبح کا آغاز کرو گے شاید تلخ انداز سے بدلو گے زمانے کا مزاج اپنے اطراف کو ناساز کرو گے شاید تم تو ...

مزید پڑھیے

ہر شاخ پہ تھی وفا کی قندیل (ردیف .. ے)

ہر شاخ پہ تھی وفا کی قندیل اے شہر بتا کہاں وہ بن ہے بجتی ہوئی خون کی روانی خواہش کی گرفت میں بدن ہے لڑتے لڑتے بکھر گئے ہیں اب جو بھی جہاں ہے نعرہ زن ہے ہر جہت مجھے پکارتی ہے ہر سمت وہ رنگ پیرہن ہے لیتا ہے وجود گرم سانسیں ایک شعلۂ شوق وہ بدن ہے یہ کون دھنک نہا کے نکلی گل بوٹا چمن ...

مزید پڑھیے

میری آہوں سے جلا چاہتا ہے

میری آہوں سے جلا چاہتا ہے آسماں رد بلا چاہتا ہے مجھ کو تو مرضیٔ مولا اولیٰ اور دل سب کا بھلا چاہتا ہے برش تیغ نہ میلی ہو جائے با صفا ہوں وہ گلا چاہتا ہے آئنہ ہو گیا آئینہ سرشت یعنی وہ مجھ میں ڈھلا چاہتا ہے موج در موج گلستاں سارا میرے دامن پہ کھلا چاہتا ہے بوریے کو کہا سامان ...

مزید پڑھیے

یہ اک اور ہم نے قرینہ کیا

یہ اک اور ہم نے قرینہ کیا در یار تک دل کو زینہ کیا بدل دی ہے سب صورت آب و خاک مگر جب لہو کو پسینہ کیا وہ کشتی سے دیتے تھے منظر کی داد سو ہم نے بھی گھر کا سفینہ کیا کہاں ہم تک آیا کوئی راز جو کہاں ہم نے دل کو دفینہ کیا فقیروں کا یہ بھی طلسمات ہے لہو رنگ کو آبگینہ کیا چمکنے لگا پھر ...

مزید پڑھیے

نقش یقیں ترا وجود وہم بجھا گماں بجھا

نقش یقیں ترا وجود وہم بجھا گماں بجھا کار حبیب کے طفیل روزن رائیگاں بجھا فرد سیاہ کو مری نوک سناں پہ لائے تھے ان کی نگاہ پڑ گئی عرصۂ امتحاں بجھا مست روی کے درمیاں کون قدم قدم گنے مشعل دل کہاں جلی شعلۂ جاں کہاں بجھا میرے جنوں کا سلسلہ مرحلہ وار ہو گیا پہلے زمین بجھ گئی بعد میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4481 سے 4657