حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے
حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے تو کیوں اندیشۂ تشنہ لبی معلوم ہوتی ہے تمہاری گفتگو سے آس کی خوشبو چھلکتی ہے جہاں تم ہو وہاں پہ زندگی معلوم ہوتی ہے ستارے مثل جگنو زائچے میں رقص کرتے ہیں ذرا سی دیر میں کچھ روشنی معلوم ہوتی ہے جہاں پر ایک جوگن مست ہو کر گنگناتی ہے اسی ساحل پہ ...